تا حکم ثانی اسسٹنٹ پرفیسرز کی تنخواہوں سے کٹوتی نہ کی جائے ، لاہور ہائیکورٹ

تا حکم ثانی اسسٹنٹ پرفیسرز کی تنخواہوں سے کٹوتی نہ کی جائے ، لاہور ہائیکورٹ

لاہور (نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ خزانہ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ تاحکم ثانی اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں سے کٹوتی نہ کی جائے ۔عدالت نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ ظفر خان جدون سمیت متعدد اسسٹنٹ پروفیسر زکی درخواستیں باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر تے ہوئے محکمہ خزانہ اور محکمہ تعلیم کے حکام یکم نومبر تک تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم بھی دیاہے۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ حکومت ری فکسیشن اور ایکچوئیلائزیشن کے نام پر ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کررہی ہے ۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں 2002ء اور2005ء میں لیکچرار بھرتی ہوئے، 2011 ء اور 2013ء میں مستقلی کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدہ پر ترقی دی گئی، محکمہ نے مستقل کرنے کے بعد سیلری سٹرکچر تبدیل کرکے تنخواہ کم کردی، محکمہ نے ترقی دینے کے بعد مذکورہ مد میں12 ہزار سے 18 ہزار روپے تنخواہوں سے کٹوتی شروع کر دی، محکمہ نے بطور کنٹریکٹ لیکچرار دیئے گئے الاؤنسز بھی مستقلی کے بعد روک لئے ہیں،قانون کے مطابق دیے گئے الاؤنسز مستقل ہونے کے بعد بند نہیں کئے جاسکتے، محکمہ تعلیم اور خزانہ کا تنخواہوں سے کٹوتی کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید : علاقائی