پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کو لوٹنے کیلئے ’’پیکج‘‘ کے نام سے نیا نظام متعارف

پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کو لوٹنے کیلئے ’’پیکج‘‘ کے نام سے نیا نظام ...

 لاہور(جاوید اقبال )پرائیویٹ ہسپتالوں نے مریضوں کو لوٹنے کیلئے ’’پیکیج‘‘ کے نام سے نیا نظام متعارف کرادیا۔تفصیلات کے مطابق پرائیویٹ ہسپتالوں میں زچگی، ہارٹ ، انجیو پلاسٹی، آرتھوپیڈک اورآئی سرجری کے مریضوں کی پیکیج دئیے جاتے ہیں۔ جن کی فیس فی پیکیج2لاکھ سے 10لاکھ روپے ہے اور جس کے تحت ہسپتال میں رہنے کی مدت 3دن سے10دن تک مقرر کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ گائنی کے بڑے آپریشن کا ریٹ اے کلاس ہسپتالوں میں 2لاکھ روپے تک ہے اگر یہی آپریشن پیکیج کے تحت کیا جائے تو پرائیویٹ ہسپتال 3دن کے مدت کیلئے 3سے ساڑے تین لاکھ روپے وصول کرتے ہیں۔ اے کلاس ہسپتال پر نارمل ڈلیوری کا ریٹ سوا لاکھ تک مقرر ہے ہر پیکیج زیادہ تر پینل پر موجود محکموں اوراداروں کے مریضوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ بی کلاس ہسپتالوں میں گائنی کے آپریشن کے ریٹس میں 20ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ 90ہزار سے سوالاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ ہارٹ سرجری کیلئے 6سے 7دن کے کارڈیک سرجری کا ریٹ 6لاکھ تک بنایا گیا ہے۔ جبکہ پیکیج میں ریٹ 9سے 10لاکھ تک وصول کیا جارہا ہے ۔ دل کی انجیو گرافی کاریٹ 40ہزار سے بڑھا کر 55ہزار تک کرلیا گیا ہے۔ جبکہ انجیو پلاسٹری کا ریٹ ایک سٹنٹس ساڑھے تین لاکھ جبکہ دو سٹنٹس ڈالنے کا ریٹ ساڑھے 5سے ساڑھے 6لاکھ تک ہوگیا ہے۔ آئی کاآپریشن کا پیکج 2سے آڑھائی لاکھ تک ہوگیا ہے جبکہ کلینیکل ، پتھالوجی ٹیسٹوں کی فیسوں میں 50فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ جگر کے ٹیسٹوں کی فیسوں میں 40فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ پی سی آر کوالیکیٹیٹو اورکوانٹیکیٹوٹیسٹوں کا ریٹ2سے سوا دولاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ ان ریٹس میں 40فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔خون کے معمولی ٹیسٹ سی بی سی کا ریٹ شہباز شریف حکومت میں 90روپے مقرر تھا اب 3سو سے 600روپے وصول کیا جارہا ہے۔ الٹراساؤنڈ کا ریٹ 300سے بڑھا کر3000تک کردیا گیا۔سی ٹی سکین سادہ کا ریٹ 8000سے بڑھا کر 10000جبکہ کنٹراس کا 12000،ایم آئی آر کاریٹ 10000سے بڑھا کر 15000کردیا گیا اوراگر یہی ٹیسٹ ٹیکہ لگا کے کیا جائے تو اس کاریٹ 22000تک پہنچ گیا ۔ ایکسرے کے ریٹس میں 50فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹرمنیراحمد کا کہنا ہے سپریم کورٹ نے پرائیویٹ ہسپتالوں کو ریٹ کم کرنے کا حکم دیا ہے اس حوالے سے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کی من مانی بند کرانے کیلئے سخت اقدامات کیے جارہے ہیں اور اگر کسی مریض سے ناانصافی ہو وہ ہمیں اطلاع دے،ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کریں گے۔

مزید : صفحہ اول