پاک بر طانیہ معاہدہ سے لوٹی دولت واپس لا نے میں مددملے گی، قانونی ماہرین

پاک بر طانیہ معاہدہ سے لوٹی دولت واپس لا نے میں مددملے گی، قانونی ماہرین

لاہور(نامہ نگار)پاکستان اور برطانیہ کے درمیا ن قانون اور احتساب معاہدہ سے متعلق آئینی وقانونی ماہرین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ یو این کنونشن آن کرپشن 2005ء کے تحت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طے پایا ہے ،اس معاہدہ کے تحت کرپشن میں ملوث ملزموں کو ملک واپس لانے اور ان سے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس لانے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک ملزموں کی حوالگی پر عمل پیرا ہوں گے تاہم اگر کوئی شخص سیاسی پناہ لے لیتا ہے تو پھر اس ملک کی مقامی عدالت سے رجوع کر کے انہیں اس بات پر ٹھوس شواہد کی بنا پر قائل کرنا پڑتا ہے کہ مذکورہ شخص کرپشن میں ملوث ہے تاہم عدالتی فیصلے کی روشنی میں اس شخص کو واپس پاکستان لایا جاسکتا ہے۔ اس معاہدہ کا سیاسی راہنماؤں سے کوئی تعلق نہیں یہ دو ملکوں کے درمیان ملزموں کی حوالگی کا معاہدہ ہے ۔ممبر پنجاب بار کونسل سید فرہاد علی شاہ ، پاکستان بار کونسل میڈیا سیل کے سابق کوآرڈینیٹرمدثر چودھری اور سابق سیکرٹری لاہور بار کامران بشیر مغل نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت کا یہ اچھا اقدام ہے ،اس سے ملکی دولت لوٹ کر فرار ہونے والے ملزموں کو پاکستان لانے میں آسانی ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدہ کو جو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے ، جو بھی پاکستان سے کرپشن کا پیسہ لے کر فرار ہوگا یا برطانیہ سے فرار ہو کر پاکستان آئے گا ،ایسے ملزموں کی گرفت کے لئے یہ معاہدہ ہواہے ،چند لوگ اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں جو مناسب نہیں ہے ۔ ملکی دولت لوٹنا سنگین جرم ہے اور یہ معاہدہ دونو ں ممالک کے لئے خوش آئند ہے جس سے ملک کی لوٹی دولت اور ملزمان گرفت کرنے میں مدد ملے گی ۔

مزید : صفحہ اول