’میری ماں کو میرے خفیہ بوائے فرینڈ کا پتہ چلا تو مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور اس سے کہنے لگی کہ میرا کنوارہ پن۔۔۔‘

’میری ماں کو میرے خفیہ بوائے فرینڈ کا پتہ چلا تو مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور ...
’میری ماں کو میرے خفیہ بوائے فرینڈ کا پتہ چلا تو مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور اس سے کہنے لگی کہ میرا کنوارہ پن۔۔۔‘

  

لندن(نیوز ڈیسک) مغرب کے اپنے رسوم و رواج ہیں مگر مسلم ممالک سے ترک وطن کر کے مغربی ممالک میں آباد ہونے والے لوگ اپنے بچوں کو آزادانہ جنسی اختلاط کی اجازت دینے پر ہرگز آمادہ نہیں ہوتے۔ خصوصاً جب کسی مسلم لڑکی کو مغربی انداز و اطور اختیار کرتے دیکھا جاتا ہے تو والدین اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ عموماً یہ ردعمل لڑکیوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور بعض اوقات تشدد کی صورت اختیار کر جاتا ہے، مگر برطانیہ میں مقیم ایک ایرانی نژاد لڑکی کو جب اس کے والدین نے اپنے گھر میں اُس کے بوائے فرینڈ کے ساتھ پکڑا تو عمومی روایت سے ہٹ کر کچھ عجیب و غریب معاملہ کیا۔

میل آن لائن کے مطابق 18 سالہ لڑکی صوفیہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کی والدہ مترا عیدیانی اور والد علی سفرائی نے گھر میں اُس کے بوائے فرینڈ کی موجودگی کا پتہ چلنے پر دونوں کے خلاف غیر معمولی رویہ اختیار کیا۔ لڑکے کو انہوں نے قتل کی دھمکیاں دیں لیکن لڑکی کو اپنے ساتھ لے کر ڈاکٹر کے اس جا پہنچے تا کہ اُس کے کنوارے پن کا ٹیسٹ کروایا جا سکے۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ علی سفرائی نے اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کو یہ کہہ کر خبردار کیا کہ وہ خطرناک لوگ ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ تم خبروں میں ضرور دیکھتے ہوگے۔“

دوسری جانب ڈاکٹر نے لڑکی کو اس کی اجازت کے بغیر چیک کرنے سے انکار کردیا جس پر اُس کے والدین ڈاکٹر پر بھی برہم ہوئے۔ ڈاکٹر کے انکار پر وہ اسے گھر واپس لے آئے اور خبردار کیا کہ آئندہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے ملی تو اسے ایران بھیج دیا جائے گا جہاں زبردستی اُس کی شاد ی کر دی جائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ