پسندیدہ لوگوں کو نوازنے کا چلن

پسندیدہ لوگوں کو نوازنے کا چلن
پسندیدہ لوگوں کو نوازنے کا چلن

  

کامیاب حکمران کی کامیابی کا راز اس کی مضبوط اور وفادار کابینہ میں مضمر ہوتا ہے، رومیوں، فرعونوں، تاتاریوں، انگریزوں، فرانسیسیوں اور مسلمان حکمرانوں نے عرصہ دراز تک حکومت کی،فرعون کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر صرف اِس لئے غرق نہیں کیا  اس کا مقرر کردہ  وزیر عوام الناس کے لئے روزانہ ایک ہزار جانوروں کا کھانا تقسیم کرواتا تھا، جب فرعون نے بہتر وزیر مال کو  تبدیل کر کے لالچی وزیر کو تعینات کیا تو اس نے دستر خوان میں کمی شروع کر دی اور جس دن فرعون غرق ہوا اس کے دستر خوان پر صرف ایک جانور ذبح ہوا تھا۔ ٹیپو سلطان جیسے بہادر بادشاہ کو اس کے غدار وزیر میر جعفر نے برباد کرایا۔عمران خان بڑی جدوجہد کے بعد ملک کے وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے ان کی ایمانداری اور محنت و خلوص پر کوئی شک نہیں کر سکتا،لیکن کابینہ کا انتخاب کرنے میں انہوں نے سیاسی بصیرت سے کام نہ لیا، غیر منتخب لوگوں کو اہم قلمدان سونپ دیئے، جب کابینہ میں ایک نام آیا تو اسی وقت پاور سیکٹر کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ معمولی کنسلٹنٹ سے  بذریعہ کرپشن پاور ہاؤسوں کا مالک بن گیا ہے اور یہ پاور سیکٹر کو تباہ کر دے گا،جو بعد میں سچ ثابت ہوا۔

ایک اور عہدیدار نے بھاشا ڈیم کا500ارب کا ٹھیکہ حاصل کیا، آٹو انڈسٹری میں ملی بھگت سے گاڑیوں کی قیمت سو فیصد تک بڑھا دی، چینی آٹا کی ایکسپورٹ امپورٹ میں ملوث ہو کر مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا۔ایک تیسرے صاحب نے دوائیوں کے کاروبار میں ملوث ہو کر 400فیصد قیمتیں بڑھا کر اربوں کما لئے۔ ایک چہیتے آف شور کمپنیوں میں ملوث پائے گئے، عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ  بنا کر اہم صوبے میں تعینات کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کرا دیا، صرف لاہور کے صفائی کے ادارے میں اربوں کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے صفائی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ صوبہ پنجاب کی مینجمنٹ ہموار طریقے سے رواں دواں تھی، جہاں مسائل کی فراوانی ہو گئی ابھی تک جن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے،  ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا۔کرپٹ وزرا لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں، کمزور ٹیم کی وجہ سے کورونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا، کیونکہ حکومت کا وزارت ہیلتھ کا شعبہ پرائیویٹ ویکسین کی خریداری کے چکر میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

کسی نااہل وزیر کو فارغ نہیں کیا گیا، صرف ٹوپیاں بدلی ہیں،حماد اظہر ایک محنتی نوجوان سیاست دان ہے جسے رولنگ سٹون بنایا ہوا ہے اور اسے گاڑی کی سٹپنی کی طرح بدل دیا جاتا ہے۔عمران خان پسندیدہ لوگوں کو پرکھے بغیر نوازتے ہیں،سیاست دانوں سے کرپشن کا ایک پیسہ وصول نہ کیا جا سکا صرف شعبدہ بازی کی جاتی ہے۔ ایک ایک کر کے تمام سیاست دانوں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ دلوائے جا رہے ہیں،جو قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے۔پی ٹی آئی میں سیاسی سوجھ بوجھ کے فقدان کی وجہ سے جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کو یرغمال بنا لیا ہے اور چند روز میں حکومت جہانگیر ترین کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی،جس کے بعد حکومت صرف وزیراعظم ہاؤس تک رہ جائے گی۔عمران خان کے پاس بہتر سیاسی لوگ موجود ہیں،انہیں اپنی ٹیم میں شامل کریں تاکہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں، موجودہ ٹیم کی اکثریت مافیہ سے ملی ہوئی ہے، رمضان میں مہنگائی کا جن بے لگام ہوتا جا رہا ہے،بزدار صاحب لکھے کاغذ پر بیان دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، عوام اگر عمران خان سے مکمل طور پر مایوس ہو گئے تو آئندہ کسی لیڈر پر اعتماد نہیں کریں گے، حکومت اپنی توانائیاں نواز شریف اور زرداری کی کردار کشی پر خرچ کرنے کی بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دے کر سرخرو ہو۔

مزید :

رائے -کالم -