قدم بڑھاﺅ نواز شریف ....... !

قدم بڑھاﺅ نواز شریف ....... !
قدم بڑھاﺅ نواز شریف ....... !

  


اندھیروں میں ڈوبی قوم اجالوں کی منتظر ہے پانچ سال سے توانائی بحران کا شکار عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے جنہیں امید تھی کہ یہ سب کیا دھرا پیپلز پارٹی کا ہے جس کے جانے سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں ، اسی امید کے ساتھ انہوں نے 11 مئی کو گھروں سے نکل کر اپنے لیڈر وں کا چناﺅ کیا ، اب قوم ان سے اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے لیکن سیاستدان ان کے دکھ مصائب اور بے چینی سے بے پروا آپس میں دست و گریبان ہیں جنہیں فی الحال اس طرف سوچنے کی فرصت میسر نہیں آ رہی۔ انتخابات مکمل ہوئے 10روز بیت گئے مگر مستقبل کی حکمران جماعتوں کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ انہیں عوام کے دکھ سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف دھرنوں، احتجاجی مظاہروں اور ایک دوسرے کو دھاندلی کی پیداوار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس رسہ کشی میں قوم کا مزید وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔

 مرکز میں حکومت بنانے کے لئے تیار ن لیگ، تحریک انصاف جبکہ سونامی خان اور ان کی پارٹی ن لیگ کے خلاف سڑکوں پر ہیں تحریک انصاف چومکھی لڑائی پر اتری ہوئی ہے پی ٹی آئی کراچی میں ایم کیو ایم پنجاب میں ن لیگ جبکہ جے یو آئی کے پی کے میں پی ٹی آئی جبکہ جے یو آئی کی محاذ آرائی سے قوم مستقبل کے ان نئے پرانے حکمرانوں سے سوال کرتی ہے کہ کیا انہیں اسی دن کے لئے اکثریت دلائی تھی؟ کیا یہی طریقے ہیں نیا پاکستان بنانے کے؟ پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے؟اگر یہی انداز اپنائے گئے تو پھر بحرانوںسے نجات ممکن نہیں اور منج دھار میں پھنسی ہوئی کشتی کو کنارہ ملنا مشکل ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دھرنا دھرنا کھیلنے والوں اور جوڑ توڑ کرنے والوں کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے اور پھر ایسا طوفان آئے جو سب بہا کر لے جائے۔ادھر 11مئی 2013ءکے انتخابات کے نتائج کے نتیجے میں اقتدار کا ”ہما“ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کے سر بیٹھ چکا ہے، حکومت سازی کے لئے ن لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اکثریت حاصل کرنے والی ن لیگ ملک کے طول و عرض میں جوڑ توڑ میں مصروف ہے مگر ہر صوبے میں ہر سیاسی پارٹی کو حکومت کے لئے مینڈیٹ دینے والی قوم آج بھی ”مسیحا“ کی راہ تک رہی ہے اور اندر ہی اندر ”کڑ“ رہی ہے کہ وہ کس سے فریاد کریں؟ کس سے مدد مانگیں؟ چلچلاتی دھوپ میں بدترین لوڈشیڈنگ کا حساب کس سے مانگیں؟

نگران وفاقی وزیر پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک نے واپڈا ہاﺅس لاہور میں قوم سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر معافی مانگ لی۔ مگر وزیر موصوف کو کون بتائے کہ اب معافی کا وقت گذر چکا ہے یوم حساب شروع ہو چکا ہے احتساب کا آغاز ہو چکا ہے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کب مسلم لیگ ن حلف اٹھائے اور اس سے حساب شروع کیا جائے۔

پاکستان کے دل کہلانے والے شہر لاہور کے لوگ 6برس سے بدترین لوڈشیڈنگ کی زد میں ہیں اس شہر کے باسیوں کو مسلسل 5سال تک مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کی سزا دی جاتی رہی یہ سزا اس وقت بڑھا دی گئی جب خادم اعلیٰ پنجاب وفاق کی اہل لاہور اور پنجاب کے ساتھ لوڈشیڈنگ کی زیادتیوں کے خلاف میدان میں آئے اور لاہور میں جگہ جگہ خیمہ کیمپ لگا دیئے وقت بدل رہا ہے لوڈشیڈنگ کا عذاب ٹلنے کو نہیں رہاجو ن لیگ اکثریت پر کم ہو جانا ضروری تھا۔ عوام کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اب کس کو گالی دیں؟ کس سے حساب مانگیں کس کے خلاف سڑکوں پر آئیں؟ ان کی ہمت جواب دیتی جا رہی ہے وہ دن کو سکون پارہے ہیں نہ رات کو سو سکتے ہیں تنگ و تحریک بستیوں کے چھوٹے گھروں کے مکین دن رات جل رہے ہیں دن کو چلچلاتی دھوپ جلاتی ہے تو رات کو ان کے بچے مچھرو ں کے کاٹنے سے چلاتے ہیں اورآہ و پکار کرتے ہیں بے بس مائیں لوریاں دے کر سلانے کی کوشش کرتی ہیں مگر اب بچے ان سے بھی چین نہیں پاتے ۔ لوگوں کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ بس شہری بلند آواز میں پاکستان کو بد دعائیںدینے لگے ہیں،اتنا کہوں گا کہ خدا راہ بے بس عوام کا مزید امتحان مت لیا جائے وہ عاجز آ چکے ہیں۔

بے روزگاری سے

بدامنی سے

مہنگائی سے

غربت سے

دہشت گردی سے

قتل و غارت سے

بے حیائی سے

نا انصافی سے

سیاستدانوں کے دوغلے پن سے

اور سب سے بڑھ کر ان اندھیروں سے جو پچھلے کئی برسوں سے ان کا مسلسل پیچھا کر رہے ہیں ان اندھیروں نے عام آدمی کاسکھ چین چھین لیا ہے، مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں صنعت کار کو ملیں بندکرنے پر مجبور کر دیا ہے فیکٹریاں بند ہونے سے لاکھوں مزدور چوریاں ، ڈکیتیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لاکھوں گھرانے ایسے ہیں جہاں جوان بیٹیوں کے جہیز نہ ہونے سے ہاتھ پیلے نہیں ہو ئے اور ان کے بالو ںمیں چاندی اتر چکی ہے۔ مجھے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کا ایک سچ بار بار کانوں میں گونجتا ہے ۔ ایک ملاقات میں نگران وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کلب روڈ پر واقع اقتدار کے ایوانوں میں لوڈشیڈنگ کا گماں تک نہیں ہوتا صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے پتہ چلتا ہے کہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ایسے ہی حالات اسلام آباد ایوان صدر وزیر اعظم ہاﺅس اور دیگر صوبوں میں ہیں ....انہیں بھی لوڈشیڈنگ سے نفسیاتی مریض بن جانے والے کروڑوں شہریوں کے دکھ کا کیا معلوم کے یہ دکھ کیا ہوتا ہے نیند کیا ہوتی ہے، سکون کیا ہوتا ہے، بے روزگاری کیا ہوتی ہے۔

عوام کے ووٹوں کی طاقت سے پاکستان مسلم لیگ ن ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن کر سامنے آئی ہے۔ ووٹرنے ان کے لئے جو کچھ کرنا تھا کر دیا ، ان کی توقعات سے بڑھ کر نواز شریف اور نوکر اعلیٰ سے محبت کا اظہار کر دیا ، اب سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کے پاس مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کی اکثریت موجود ہے تو پھر بے جا تاخیر کیوں؟

جناب نواز شریف صاحب لوگوں کے صبر کا امتحان آپ تو نہ لیں لوگ تنگ آ چکے ہیں ان کیلئے ”مسیحا“ بن کر سامنے آ جائیں قوم آپ کے ساتھ ہے۔

 مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حلقہ این اے 93 میں مسلم لیگ ن سے شکست کھانے والی تحریک انصاف کے امیدوار سابق ضلعی ناظم ٹی ٹی سنگھ چودھری اشفاق کی بات کا ذکر بھی کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف امریکی ایجنڈے پر آئے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکی ایجنڈہ کیا ہے تو ان کا دعویٰ تھا کہ ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ منسوخ کرنا، گوادر پورٹ کا ٹھیکہ چین سے لے کر امریکیوں کی من پسند فرم کو دینا، افغانستان اور پاکستان میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا وغیرہ وغیرہ شامل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت ایک سال سے آگے بڑھ گئی تو تیسرے سال کا منہ نہیں دیکھے گی ، تاہم میرا خیال اس قسم کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کیلئے ن لیگ کو توقعات کے مطابق ”ڈیلیور“ کرنا ہوگاہے ۔ عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں عزت کی روٹی ، امن، سکون اور گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نجات اور خوشحالی چاہتے ہیں جو دینے میں کامیاب ہوگا قوم اس کی راہ میں پلکیں بچھائے گی جو نہ دے سکا اس کا حال آصف علی زرداری اور ان کے اتحادیوں سے بھی بدتر ہوگا جبکہ قوم کے جذبات اس وقت یہ ہیں;

میں شجر ہوں شہر ملال کا، میری ٹہنیوں کو نہال کر

کبھی بھیج اپنی نوازشیں کسی ابرِ جام میں ڈھال کر

مجھے خار خار مسافتوں کی ستم گری نے تھکا دیا

مجھے منزلوں کا سراغ دے ، میرے حوصلوں کو بحال کر

مزید : کالم


loading...