افغانستان کے معدنی ذخائر اور امریکہ چین کشمکش

افغانستان کے معدنی ذخائر اور امریکہ چین کشمکش
 افغانستان کے معدنی ذخائر اور امریکہ چین کشمکش

  



تاریخ کاایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ ہندوستان سونے کی چڑیا ہے اسی لئے برطانیہ ہندوستان پر قابض ہو گیا جب برطانیہ برصغیر سے رخصت ہوا تو اس سے پہلے 1842ء میں افغانستان میں داخل ہوگیا اس کے پیش نظر روس کی پیش قدمی روکنے کے لئے اس حصے پر قبضہ ضروری تھا۔ برطانیہ نے دہلی سے چمن کی سرحد تک اور دوسری جانب ایران کی سرحد تک ریلوے لائن بچھائی بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں 25 ایئر پورٹ بنائے تاکہ ہنگامی حالت میں ان کو استعمال کیا جاسکے یہ تمام ایئرپورٹ جنگی ضروریات کے تحت بنائے گئے برطانیہ افغان حکمران امان اللہ خان کے دور میں افغانستان سے رخصت ہوگیا پھر اس کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا اور اپنے دور کی سپر پاور انجام کو پہنچ گئی اور اس کے بعد اس کی حیثیت امریکہ کے ایک چھوٹو کی سی ہوکر رہ گئی اس کے بعد سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا اور اس کے لئے افغانستان قبرستان ثابت ہوا۔ پھر امریکہ مع مغربی ممالک کے افغانستان میں داخل ہوگیا ان14 برسوں میں امریکہ اور نیٹو کے تین کھرب ڈالر خرچ ہوگئے اور ایک لاکھ فوج واپس ہوگئی اب بارہ ہزار فوجی رہ گئے ہیں جو 2017ء تک وہاں رہیں گے اس کے بعد کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ امریکہ اور نیٹو اپنی مرضی سے نہیں جائیں گے بلکہ افغانوں کی مرضی سے جائیں گے‘ اور یہ جنگ یونہی ختم نہیں ہوگی امریکہ اور نیٹو کے جاتے جاتے بہت کچھ بدل جائے گا۔

امریکہ افغانستان میں اپنے قیام کو کیوں طول دینا چاہتا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے اہم وجہ افغانستان کے معدنی وسائل ہیں جس کی وجہ سے اس نے دوبارہ اپنے قیام کو طول دینے اور اپنے بارہ ہزارفوجی رکھنے کافیصلہ کیا ہے ان 14 برسوں کے بعد بھی امریکہ وہیں کھڑا ہے جہاں اس سے پہلے تھا افغانستان میں امریکی جنرل میک کرسٹل کی معزولی کے بعد امریکی فوج کے کمانڈر کی حیثیت سے چارج سنبھالنے والے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے افغانستان میں معدنی ذخائر کی موجودگی کا باضابطہ اعلان 13 جون 2010ء کو میٹ دی پریس کے پروگرام میں کیا اور کہاکہ امریکی ماہرین کو افغانستان کے معدنی ذخائر کا علم 2004ء میں ہوچکا تھا یہ وہ مرحلہ تھا جب امریکہ افغانستان سے نکلنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا اس موقع پر معدنی ذخائر کا انکشاف بہت معنی خیز ہے اس وقت یہ بھی کہا جارہا تھا کہ سوویت یونین کو بھی افغانستان میں معدنی ذخائر کا علم ہوچکا تھا سویت یونین حکام نے افغان جیولوجیکل سروے کوبھی بتایا تھا انہوں نے تمام نقشے چارٹ جو ان معدنی ذخائر سے متعلق تھے دکھائے تھے اور ان سب کو افغان جیولوجیکل محکمہ نے بحفاظت اپنے پاس رکھا تھا جب فروری 1989ء میں افغانستان سے سویت یونین کے انخلاء کے بعد خانہ جنگی شروع ہوگئی تو اس بات کی گنجائش بالکل ختم ہوگئی کہ ان قیمتی معدنی ذخائر کو عام کیاجائے۔ اس کے بعد طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو اس میں بھی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے ان ذخائر کے انکشاف کا معاملہ پیچھے چلا گیا 2010ء میں امریکی اور نیٹو افواج کے لئے بدترین سال تھا جس میں صرف ایک ہفتہ میں نیٹو کے 30 سپاہی ہلاک ہوگئے قندوز اور بگرام پرطالبان نے دو حملے کئے۔ بی بی سی کی رپورٹ تھی کہ افغانستان میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں 94فیصد حملے بڑھ گئے تھے ایک طرف امریکی عوام چاہتے تھے کہ افغان جنگ ختم ہو دوسری طرف افغانستان میں موجود امریکی کمانڈر بھی یہی چاہتے ہیں لیکن اس دوران جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے بیان نے سب کچھ بدل دیا۔ امریکی ماہرین نے بتلایا کہ افغانستان میں فولاد‘ تانبے کوبالٹ سونے اور کیتھیم کے وسیع ذخائر ہیں کیتھیم آج دنیا بھر میں صنعتی استعمال کی بڑی دھات ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے بعد افغانستان اس میدان میں اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ معدنی ذخائر افغانستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کر سکتے ہیں جو صنعتی یا ترقی یافتہ ممالک کی خام مال کی سپلائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کو دل سے قبول کیا ہے جبکہ افغان عوام نے امریکہ کو ابھی تک دل سے قبول نہیں کیا۔ امریکہ کے لئے افغانوں کے دل میں کوئی نرم گوشہ موجود نہیں ہے۔ لیتھیم بلیک بیری جیسے موبائل فون کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ان معدنی ذخائر کو بروئے کار لایا جائے تو افغانستان کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ جنرل ڈیوڈ پٹیریاس نے میٹ دی پریس میں یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان کو خام مال فراہم کرنے والے ملک کادرجہ دینے کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اور اس کا فیصلہ ہوگیا تو افغانستان کو خام مال فراہم کرنے والا ملک بنانے میں 10 سال لگ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید جنگ کو طول دینے کی ایک وجہ افغانستان کے معدنی ذخائر ہوسکتے ہیں۔

اس انکشاف کے بعد افغان وار لارڈز معدنی دولت میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ امریکہ معدنی ذخائر کے لیے مغرب کی لالچی قوتوں اور ان کے کرائے کے سپاہیوں کو طویل ترجنگ کی بھٹی میں جھونک سکتا ہے۔ چین کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ وہ افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار و سیع اورمستحکم کر سکتا ہے۔ امریکہ اور مغرب نے افغانستان میں صرف خرابیاں پیدا کی ہیں جبکہ چین نے افغانستان کے لوگر صوبے میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ چین نے افغانستان میں ترقی کا دائرہ وسیع کرنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے، اس لیے اس نے خون خرابے کو اہمیت نہیں دی اور اسے طول دینے کا بھی نہیں سوچا چاہے۔۔۔(حوالہ کریسنٹ انٹرنیشنل جولائی2010ء)

ایک اور تبصرہ واشنگٹن پوسٹ میں 15 اگست 2010 کو شائع ہوا اس میں کہا گیا کہ ’’افغانستان سے انخلا امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر فوج کچھ اور چاہتی ہے، امریکی فوج کی خواہش ہے کہ اس جنگ کو طول دیا جائے امریکی صدر اوباما کو احساس ہے کہ افغانستان کی دلدل سے نکلا جائے اور مشن ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ مریکی فوج کو افغانستان سے نکلنے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ فوج کے نکلنے کا حتمی فیصلہ حالات پر منحصر ہے۔۔۔’’جنرل پیٹریاس نے کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو صدر اوباما کو کہا جا سکتا ہے کہ ڈیڈ لائن آگے بڑھا دی جائے‘‘۔

پہلے 2011ء کی ڈیڈ لائن تھی، اس کے بعد 2014ء تھی ، اور اب 2017ء کی ڈیڈ لائن ہوگئی ہے۔ یہ فیصلہ پنٹا گون کا ہے۔ اب اندازہ ہوگیا ہے کہ امریکی افواج کے نکلنے کے بعد افغان فوج پر مکمل اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اب قیام کو بڑھا دیا گیا ہے۔چین بھی افغانستان میں کشمکش سے پریشان ہے ۔ اس نے بیجنگ میں طالبان سے مذاکرات کا اہتمام کیا، اور اس لیے کیا کہ اس نے افغانستان میں معدنیات کے حوالے سے چند معاہدے کیے ہیں۔ اب وہ ان ذخائر کے لئے کھدائی کرنا چاہتاہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ افغانستان میں امن ہو ،اور امن طالبان کے ہاتھ میں ہے۔ اب امریکہ اور چین بھی چاہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات ہوں۔

اب اگر افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے ، یا طالبان مذاکرات کی میز پرنہیں بیٹھتے تو چین کا سرمایہ ڈوب سکتا ہے،اس لئے اس کی پوری کوشش ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پربیٹھ جائیں۔ اب اس کھیل کا ترپ کا پتہ ملا منصور کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ ، چین ، افغانستان اور پاکستان سب ملامنصور کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا پتا کس وقت میز پرپھینکتے ہیں۔ ان معدنیات کا انکشاف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے 2010ء میں کیا اور چین کی اس پر بڑی گہری نظر تھی اور اس میدان میں وہ بڑی مہارت سے آگے بڑھا ہے۔ اب امریکہ نے افغانستان میں فوج کی تعیناتی کی مدت بڑھا دی ہے، اس لئے یہ کھیل جاری رہے گا۔ معدنی ذخائر کے انکشاف نے افغانستان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ جس علاقے میں معدنی ذخائر ہیں وہ افغانستان کا جنوب مشرقی اورجنوب مغربی حصہ ہے جہاں لڑائی شدت اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔ مغربی طاقتیں افغانستان کے اس خلفشار سے فائدہ اٹھا کر ان معدنی ذخائر کو منتقل کرسکتی ہیں۔افغانستان میں کئی جنگجو سرداروں کی اپنی اپنی فوج ہے یہ بھی امریکہ کے لئے پریشانی کا سبب ہے یہ سب کے سب امریکی پے رول پر ہے اور ان ذخائر کی وجہ سے ان میں بھی لڑائی چھڑسکتی ہے۔ ان معدنی ذخائر نے افغانستان کو ایک اور مشکل میں لاکھڑا کا ہے یہ انکشاف افغانستان میں بہتر نتائج پیدا کرنے کے بجائے مزید خرابیوں کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

مزید : کالم