یہ مسلمان لڑکی ’برکنی‘ پہن کر فرانس کے ساحل پر پہنچ گئی، اس کے بعد لوگوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جان کر آپ کو شدید غصہ آئے گا

یہ مسلمان لڑکی ’برکنی‘ پہن کر فرانس کے ساحل پر پہنچ گئی، اس کے بعد لوگوں نے ...
یہ مسلمان لڑکی ’برکنی‘ پہن کر فرانس کے ساحل پر پہنچ گئی، اس کے بعد لوگوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جان کر آپ کو شدید غصہ آئے گا

  

پیرس (نیوز ڈیسک) مغرب میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ ان کے لئے اپنی اقدار اور عزت کا تحفظ تقریباً ناممکن ہو چلا ہے۔ اقوام مغرب کی اس نفرت کو دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کوئی قوم دشمنی میں اس قدر اندھی اور بے حس بھی ہو سکتی ہے۔

فرانس کے 30 شہروںنے ساحل سمندر پر تیراکی کا پورا لباس (برقینی) پہنے پر پابندی عائد کردی، جس کے بعد متعدد مسلم خواتین کو باحیاءلباس پہننے پر سزائیں بھی دی گئیں۔ اگرچہ فرانس کی اعلیٰ عدالت نے اس پابندی کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرانسیسی عوام عدالت کے اس فیصلے کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں اور اپنے ساحلوں پر کسی مسلم خاتون کو مکمل لباس میں دیکھ کر انتہائی افسوسناک حرکات بھی کرگزرتے ہیں۔

سابق محبوب کو جلانے کے لئے اس لڑکی نے اپنی خفیہ فحش ویڈیو اسے بھیج دی لیکن پھر ایسا کام ہوگیا کہ سن کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

اس مذموم رویے کا تازہ ترین نشانہ 23 سالہ آسٹریلوی طالبہ زینب اور ان کی والدہ بنی ہیں، جو مسلم لباس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے فرانس کے ایک ساحل پر گئیں تھیں۔ یہ دونوں خواتین نیلے رنگ کا مکمل لباس پہنے ہوئے ساحل سمندر پر نمودار ہوئیں تو ہر جانب سے ان پر طنز کے تیر برسائے جانے لگے۔ جلد ہی متعدد مرد و خواتین اکٹھے ہوکر ان کی جانب بڑھے اور انہیں دھکے مارنے شروع کردئیے۔ا گرچہ فرانسیسی عدالت نے برقینی پر پابندی کو مسترد کردیا ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ خواتین کو دھمکیاں دیتے رہے کہ وہ پولیس کو بلا لیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ ان بدبختوں کی بے حیائی اس حد تک بڑھ گئی کہ بیچاری ماں بیٹی کو اپنی عزت بچانے کے فوراً ساحل سے رخصت ہونا پڑا۔

زینب کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو بتانا چاہتی تھیں کہ وہ 10 سال کی عمر سے برقعہ پہن رہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کھیلوں میں انتہائی سرگرم ہیں اور 11 سال کی عمر سے کراٹے بھی کھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں اور فرانسیسی لوگوں کو بتانا چاہتی تھیں کہ اسلامی لباس خواتین کے لئے کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں بلکہ ان کا سہارا اور تحفظ ہے، مگر بدقسمتی سے کوئی ان کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔ جب انہوں نے یہ پیشکش کی کہ برقینی کے بارے میں ہر طرح کے سوالات کا جواب دینا چاہتی ہیں تاکہ لوگوں کے غلط نظریات کو بدل سکیں، تو انہیں بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ پوری دنیا میں تہذیب کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اہل مغرب نے اس مسلمان ماں بیٹی کے ساتھ جو بے حیائی اور بدسلوکی کی وہ ان کی نام نہاد تہذیب کے منہ پر زور دار طمانچے سے کم نہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -