سر کشی کو قابو میں لانا ہوگا

سر کشی کو قابو میں لانا ہوگا
سر کشی کو قابو میں لانا ہوگا

  

’’ مجھے معطل کر کے بہت غلط کیا ہے، چھوٹے بندے کو پکڑو کچھ نہیں، بڑے کو پکڑو تو معطل کر دیا جاتا ہے، مجھے معطل کرنے سے خواجہ اظہار رہا نہیں ہوگا، اس سے تفتیش جاری رہے گی۔‘‘ یہ تھا وہ تبصرہ جو کراچی کے ضلع ملیر کے رینکر ایس ایس پی راؤ انوار نے اپنی معطلی کے احکامات کے بعد کیا تھا۔ سندھ اسمبلی میں چوں کہ ایم کیو ایم سب سے بڑی جماعت ہے، اسی کا نمائندہ قائد حزب اختلاف منتخب ہوا اور وہ منتخب نمائندے خواجہ اظہار الحسن ہیں۔ ملیر پولس اپنے علاقے میں نہیں بلکہ کسی اور علاقہ بفر زون میں جاکر کارروائی کرتی ہے۔ ایسی کارروائی جس سے راؤ انوار کے بالا افسران بھی لا علم تھے۔ پولس بکتر بند گاڑی اور کمانڈوز لے کر پہنچتی ہے، انہیں گھر سے باہر نکال کر ہتھکڑی لگائی جاتی ہے۔ خواجہ اظہار سمیت تمام لوگ گھر میں داخل ہونے کا ا جازت نامہ، گرفتاری کے وارنٹ کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن راؤ انوار اپنی ترنگ میں تھے۔ بہر حال خواجہ کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا جاتا ہے۔ وزیر اعلی سندھ کو جب خواجہ کی گرفتاری کا علم ہوتا ہے تو وہ انہیں رہا کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں۔ راؤ انوار جب انکار کرتے ہیں تو وزیر اعلی کے حکم پرکراچی کے ایک اور علاقہ کے ڈی آئی جی پہنچتے ہیں، راؤ انوار اور ڈی آئی جی کے درمیاں دو گھنٹے تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے اور بالآخر ڈی آئی جی خواجہ اظہار کو اپنے ساتھ لے کر پولیس کے ایک اور دفتر پہنچ جاتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ راؤ انوار کی معطلی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ حکم خواجہ اظہار کو کیوں گرفتار کیا، اس وجہ سے نہیں تھا بلکہ حکم عدولی کی بناپر تھا۔ ایس ایس پی کے عہدے کا ایک افسر صوبہ کے منتظم اعلی کی حکم عدولی کرے تو صوبہ کا نظم و نسق کیوں کر چل سکے گا ؟ انگریزی زبان کے بڑے اخبار ڈان نے اپنی شہ شرخی میں راؤ انوار کے لئے لفظ ’’ سرکش‘‘ استعمال کیا ہے ۔ کراچی میں راؤ انوار ایسی اہمیت کے حامل ہیں جو کسی اور پولس افسر کو حاصل نہیں ہے ۔ وہ جہاں چاہتے ہیں، چھاپے مارتے ہیں، وہ جسے چاہتے ہیں گرفتار کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پکڑ کر ان سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ روابط کا بیان لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کراچی کے میئر وسیم اختر کو انہوں نے ہی گرفتار کیا تھا۔ وسیم اختر کہتے ہیں کہ ان کے خلاف درجنوں مقدمات بنا دئے گئے۔ ایم کیو ایم سے وابستہ لوگوں نے کراچی کو جو جہنم بنایا ہوا تھا ، اس کی وجہ سے مقدمات تو درج ہونا لازمی ہیں لیکن یہ کیوں کر ہوتا ہے کہ کسی کی گرفتاری کے بعد ہی بتایا جاتا ہے کہ وہ کن مقدمات میں ملوث ہے۔ کوئی ایسا طریقہ کار کیوں نہیں ہے جس سے لوگ آگاہ ہوں کہ کس کس کے خلاف کہاں کہاں کتنے کتنے مقدمات درج ہیں۔ خواجہ اظہار تو کھلے عام گھوم پھر رہے تھے۔ وہ اگر مقدمات میں ملوث بھی ہیں تو انہیں پہلے حراست میں کیوں نہیں لیا گیا۔ پاک سر زمین پارٹی کے رہنماء انیس قائم خانی پاکستان آتے ہیں، پارٹی کھڑی کرتے ہیں، دورے کرتے ہیں، ایک روز انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کی گرفتاری 1994 ء میں درج ایک مقدمہ میں عمل میں آئی ہے۔ آخری مغل بادشاہ بہارد شاہ ظفر نے کہا تھا:

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا

یہ سر کشی نہیں تو اور کیا ہے کہ راؤ انوار اس طرح کا بیاں دیتے ہیں۔’’ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ میں گروپنگ کی بنیاد پرمیری معطلی کا فیصلہ کیا،جلد بازی میں مجھے غلط معطل کیا گیا، حکومت بھلے ناراض ہو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں نے ایک آدمی کو میڈیا کے سامنے گرفتار کیا،کسی مجرم کوگرفتار کرنے کیلئے آئی جی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ،ایک انسپکٹربھی کسی ملزم کو گرفتار کرسکتا ہے،اسپیکر کو صرف گرفتاری کی اطلاع دی جاتی ہے،خواجہ اظہار گرفتار ہیں عدالتی حکم کے بغیر رہا نہیں کیا جاسکتا، خواجہ اظہار الحسن کو ٹارگٹ کلرز کا چیف کہا جاتا ہے۔ حکومت نے جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کے لئے میری کیا سپورٹ کرنی ہے اللہ کی مدد میرے ساتھ ہے۔ جس دن اللہ نے موت لکھی ہے اسی دن موت آنی ہے۔نوٹیفیکیشن موصول ہونے کے بعد فیصلہ کرونگا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توہوسکتا ہے میں احتجاج کے طور پر محکمہ پولیس کو خیر باد کہہ دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں محکمہ پولیس میں اپنے مخالفین کو بتا دینا چاہتا ہوں۔ میں ڈاکٹر جمیل یا ڈاکٹر فاروق (یہ دونوں افسران کراچی میں ڈی آئی جی کے عہدوں پر کام کر رہے تھے) نہیں ہوں۔میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ اللہ ہے یہ لوگ میری صلاحیت کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔ رینجرز نے یہاں امن قائم کیا۔ اگر افسران کو اس طرح روکا جاتا رہا تو شہر کا امن پھر خراب ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ تمام لوگ زمینوں کے قبضوں،ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ خواجہ اظہار گرفتار ہیں عدالتی حکم کے بغیر رہا نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار کے خلاف مقدمات ہیں تو اس کو بھی گرفتار کرنا چاہیے۔ بڑے آدمی کی گرفتاری کیلئے اجازت جبکہ چھوٹے آدمی کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے تو پھر شہر کا امن دوبارہ خراب ہوجائیگا۔ یہ لوگ ایم کیوایم کا حصہ ہیں۔ اب مزید کارروائیاں کرینگے۔کارروائیاں کرنے کیلئے جنوبی افریقہ سے ٹیم منگوالی گئی ہے ‘‘ ۔ راؤ انوار نے اپنی معطلی کے احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

خواجہ اظہار کو جس طریقے سے گرفتار کیا گیا، سب نے بلاتفریق اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، وزیراعلی سے وزیراعظم تک سب نے نوٹس لیا، نہ صرف گرفتار کرنے والے ایس پی کو معطل کر دیا گیا بلکہ خواجہ اظہار کی رہائی بھی عمل میں آ گئی۔ اس علاقے کے ڈی آئی جی کی خدمات وفاق کو واپس کر دی گئیں، ضلع ملیر میں تمام ایس ایچ اوز کی تبدیلی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ سندھ پولیس کو امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مختلف قسم کے چیلنجوں سامنا ہے۔

کراچی پولیس کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں تحریر تھا کہ ’’امروز خواجہ اظہار الحسن لیڈر آف اپوزیشن جن کو آج مورخہ 16 ستمبر کو تفتیشی آفیسر برائے مقدمہ الزام نمبر 374/2016 تھانہ سائٹ سپر ہائی وے ملیر میں گرفتار کیا تھا بعد ازاں ملزم کی انٹیروگیشن کی روشنی میں اور پولیس فائل میں کوئی ٹھوس شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کو زیر دفعہ 2۔497 ض ف کے تحت پرسنل بانڈ/سیکیورٹی ادا کرنے پر رہا کردیا گیا. مزید کیس کی تفتیش جاری ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر خواجہ اظہار کو بلا وجہ حراست میں لیا گیا تھا تو اس کارروائی کے مرتکب افسران اور اہل کاروں سے پوچھ گچھ ہونا چاہئے۔ خواجہ اظہار کھلے بندوں گھوم رہے تھے۔ وہ کراچی سے حیدرآباد تک آئے۔ فاروق ستار کی پریس کانفرنس میں ان کے برابر میں صرف بیٹھے ہوئے ہی نہیں تھے بلکہ گفتگو میں بھی حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے ہی تو یہ کہا تھا کہ ’’ہمارے مفرور ان کے محبوب بن جاتے ہیں، کسی فیکٹری میں تیار پارٹی میں لوگ شامل نہیں ہوں گے حالانکہ لوگوں پر بہت دباؤ ہے‘‘۔ کراچی میں پاک سر زمین پارٹی کے قیام کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کا قیام اور لندن سے ملنے والے احکامات پر عمل در آمد کرنے والے عناصر کے درمیاں رسہ کشی تو جاری رہے گی۔ حیدرآباد میں الطاف حسین کی سالگرہ کے حوالے سے شہر کی دیواروں پر نعرے بازی اور پھر بعض محلوں سے غبارے اڑا ئے گئے۔ ان غباروں کے ساتھ الطاف حسین کی تصویر بھی بندھی ہوئی تھی۔

اس تماش گاہ میں یہ سب کچھ اعلانیہ نا فرمانی defiance ہے۔ راؤ انوار کر یں یا کچھ اور عناصر، حالات کو پر امن کیوں رہنے دیں گے۔ یہ سب کو سوچنا ہوگا کہ کراچی میں کس کو کیا اختیار حاصل ہونا چاہئے۔ جب آپ راؤ انوار اور ملک الطاف جیسے پولیس افسران کے ٹیلی وژن ٹاک شو میں بیٹھ کر تبصرے کرنے کو نظر انداز کرتے ہیں تو سرکشی میں اضافہ ہی ہوگا۔ بھلا پولیس افسران ٹی وی چینل پر بیٹھ کر بیان دینے کے کیوں کر مجاز قرار پائے۔ وطن دوست اور وطن دشمن قرار دینے کا اختیار اگر پولیس کو دے دیا جائے تو پھر عدالتوں کو تالا لگا دیا جائے۔ یہاں ہو یہ رہا ہے کہ اکثر کام ماورائے عدالت کئے جارہے ہیں۔ بقول شاعر :

تمہارے پاس یقیں کا کوئی ’’اکا‘‘ ہو تو بتلاؤ

ہمارے بھروسے کے تو سارے پتے جوکر نکلے‘‘

مزید :

کالم -