ریکارڈ ڈیٹامیں ہیرپھیر ، جرائم کی شرح پولیس رپورٹ کے برعکس ہونے کا انکشاف

ریکارڈ ڈیٹامیں ہیرپھیر ، جرائم کی شرح پولیس رپورٹ کے برعکس ہونے کا انکشاف

  

 لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے )لاہورپولیس عملی طورپرجرائم کنٹرول نہ کرسکی کاغذوں میں ‘‘سب اچھا’’ کردیا۔ لاہور پولیس نے جرائم پر قابو پانے کی بجائے اعداودشمار میں ہیرپھیر کرنا شروع کر دیا۔تفصیلا ت کے مطا بق کرائم ڈیٹامیں کمی کر کے افسران کو’’سب اچھا’’کی رپورٹ دی جانے لگی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق نو ماہ کے دوران سٹی ڈویژن میں ڈکیتی کی ایک ،کینٹ میں پانچ جبکہ صدر ڈویژن میں ڈکیتی کی نو سوتیرہ وارداتیں ہوئیں۔لاہور پولیس نے جرائم پر قابو پانے کی بجائے اعداودشمار میں ہیر پھیر کرنا شروع کر دیا۔ کرائم ڈیٹا میں کمی کر کے افسران کو سب اچھا کی رپورٹ دی جانے لگی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق متعدد تھانوں میں ڈکیتی کی واردات کو چوری میں بدلا جانے لگا ہے اورنو ماہ لاہور کے باسیوں پر بھاری گزرے مگر پولیس نے سب اچھا کی رپورٹ بنا لی۔شہر میں جرائم کی شرح پولیس رپورٹ کے برعکس ہے پولیس رپورٹ کے مطابق سٹی ڈویژن میں نو ماہ میں ڈکیتی کی صرف ایک واردات ہوئی جبکہ چوری کی 290 وارداتیں نوسربازی کی 368 وارداتیں ہوئیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق صدر ڈویژن میں ڈکیتی کی صرف تیرہ وارداتیں ہوئیں جبکہ چوری کی 524 جبکہ راہزنی کی 871 وراداتیں ہوئیں اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں ڈکیتی کی صرف سات وارداتیں،چوری کی چار سو نو جبکہ راہزنی کی پانچ سو انتالیس وارداتیں ہوئیں۔کینٹ ڈویژن میں ڈکیتی کی صرف پانچ، چوری کی 353 وارداتیں ہوئیں۔شہری ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں کروڑوں کے زیورات اور نقدی سے محروم ہوگئے ۔شہر میں نوسربازی بھی عروج پر رہی اور 3237 افراد کو ماموں بنایا گیا ڈکیتی مزاحمت پر 10 افراد جان کی بازی ہارگئے۔

مزید :

علاقائی -