ریاستی ادارے اپنی کارکردگی بہتر بنائیں کرپشن اور بے امنی کا خاتمہ خود ہو جائے گا ، چیف جسٹس

ریاستی ادارے اپنی کارکردگی بہتر بنائیں کرپشن اور بے امنی کا خاتمہ خود ہو ...

  

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ تمام ادارے کارکردگی کو بہتر بنائیں تو کرپشن اور بے امنی کا خاتمہ ہوجائیگا،ریاستی اداروں کو ملکر کام کرنا ہوگا،بعض تخریبی عناصر کے روابط اور تعلقات مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے پائے گئے ہیں جس کا فوری تدارک کیا جانا چاہیے ، یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اداروں میں ٹکراؤہے،دائرہ کار میں رہ کر ہی گڈ گورننس ممکن ہوگی،ضروری ہے ادارے اپنی آئینی حدودوقیود میں رہ کرکام کریں،آئین پاکستان مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے،فراہمی انصاف کے اداروں کوخوفزدہ کرنے کیلئے تخریب کاری کانشانہ بنایاجاتاہے،بدلتی صورتحال کے پیش نظر تمام ریاستی اداروں کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ بموقع آغاز عدالتی سال 2016-17 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی نئے عدالتی سال2016-17ء کے آغاز کے موقع پرمیں اپنی اور اپنے رفقاء جج صاحبان کی جانب سے آپ تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں۔قانون و انصاف کے شعبے سے وابسطہ قابل قدر شخصیات کا یہاں موجود ہونا ہمارے لیے باعث اطمینان ہے اور فراہمی انصاف کے سلسلے میں ہماری مشترکہ کاوشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔بدلتے ہوئے حالات میں عدالت کو نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس سے بہتر اندازمیں نبردآزما ہونے کے لیے آپ لوگوں کی تائید اور معاونت کی ضرورت رہتی ہے ۔ایسی تقریب سے نہ صرف وکلاء برادری بلکہ عام شہریوں کوبھی انصاف کی فراہمی اورقانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عدلیہ کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کو جاننے اور عدلیہ کے فیصلوں سے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عدلیہ کو بار کے عہدیداران کی جانب سے مفید آراء اور مشورے حاصلہوتے ہیں جن کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے اور اس طرح فراہمیِ انصاف میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ روایتی طور پر عدالتی چھٹیوں کا نظام برصغیرکی تقسیم سے قبل سے چلا آرہا ہے مگر گزشتہ کچھ سالوں سے ہم نے اس روایت کو تبدیل کیاہے یعنی اگرچہ چھٹیوں کا اعلان توکیا جاتا ہے مگر درحقیقت اس دوران بھی مقدمات کی سماعت کاسلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس سال بھی میں نے اور رفقاء جج صاحبان نے زیر التوا مقدمات کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹیوں کے دوران بھی مقدمات کی سماعت کا فیصلہ کیا اورمینرجسٹری کے ساتھ ساتھ برانچ رجسٹریوں میں بھی مقدمات کی سماعت کی گئی۔اگر تمام اداریاپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور بددیانتی اور کرپشن کو ختم کریں تو نہ صرف عدلیہپر غیر ضروری بوجھ ختم ہو جائے گا بلکہ عوام کو بھی غیر ضروری عدالتی چارہ جوئی سیچھٹکارا حاصل ہو گا۔ مقدمات کے فیصلے میں ہونے والی تاخیر کی وجوہات میں سے ایک وجہ وکلاء کی جانب سے مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش نہ ہونا اور غیر ضروری التواء4 لیناشامل ہے۔اس پر قابو پانے کے لئے ہمیں بار کی حمایت اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میں نے وقتاً فوقتاً بار کے نمائندگان سے ملاقات کی اور باہمی مشاورت سے ایک لائحہعمل ترتیب دیا۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ اس کے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہوسکے۔ بحیثیت ایک آئینی ادارہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی صفوں کو درست کریں تا کہ اپنی ذمہ داریوں سے بہتر انداز میں عہدہ برآء ہو سکیں اور اعلیٰ سطح سے نیچے تک فوری اور سستے انصاف کیفراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس سلسلے میں وکلاء4 اور دیگر اداروں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ممبران بار مستقبل میں اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کریں گے تا کہ مقدمات میں ہونے والی تاخیر پر قابو پایا جا سکے اور سائلین کو انصاف کی فوریفراہمی ممکن ہوسکے۔موجودہ حالات میں ضلعی عدلیہ جو کہ عدلیہ کا ایک اہم جزو ہے میں بہتری لانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -