اْڑی حملہ ، بھارتی ردعمل سے وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ اہمیت اختیار کرگیا

اْڑی حملہ ، بھارتی ردعمل سے وزیراعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ اہمیت اختیار ...

  

نیو یارک سے تجزیہ:عثمان شامی

اڑی حملہ اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے بھارتی ردعمل کے بعد وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ بھارتی سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے جس طرح سے اڑی میں حملے کے بعد پاکستان پر لفاظی چڑھائی کی ہے اسے شرمندگی سے بچنے کا طریقہ کہا جاسکتا ہے یا مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش۔ ایک واقعہ جس کے بارے میں تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی جاسکیں ، اْسے بنیاد بنا کر بڑی بڑی بڑھکیں ماری جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کا کہنا ہے کہ حملہ آور سرحد پار کر کے آئے کیونکہ ان سے ملنے والی اشیاء پر پاکستان کے 'نقش' پائے گئے ہیں۔ یہ کہہ کر اپنی بات کو انہوں نے خود ہی مشکوک بنادیا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں سوال اْبھررہے ہیں کہ کیا پاکستانی فوج اتنی بے وقوف ہے کہ اس طرح ’نشانیاں‘ فراہم کرکے حملہ آوروں کو بھارتی فوج تک ’پہنچا‘ دے؟ایسی صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ اس ساری مہم کا اصل مقصد کشمیر میں کئے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔ وقت کے انتخاب کی اہمیت بھی بہت ہے کہ اس وقت وزیراعظم نیویارک میں موجود ہیں، کل وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دنیا کی توجہ بھارتی مظالم کی طرف دلائیں گے، مزید یہ کہ تمام بین الاقوامی لیڈروں سے ون ٹوون ملاقاتوں میں بھی کشمیر کا ایشو وزیراعظم کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ لہٰذا بظاہر منصوبہ یہ نظر آتا ہے کہ بات کو الجھا دیا جائے۔ کشمیریوں کی آزادی کی جنگ پر دہشت گردی کا لیبل لگادیا جائے، اب پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ سفارتی محاذ پر ایسی کوششوں کا راستہ روکا جائے۔نیویارک میں پیر کے روز وزیراعظم نے انتہائی مصروف دن گزارا اور عزم ظاہر کیا کہ ہر قیمت پر کشمیر کی لڑائی لڑیں گے اور ہر سطح پر یہ مسئلہ اْٹھائیں گے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات میں بھی وزیراعظم نواز شریف نے اْن کی توجہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جارحیت کی جانب دلائی۔ اْنہیں بل کلنٹن کا وعدہ بھی یاد کرایا کہ جب گزشتہ دورِ حکومت میں وزیراعظم امریکہ آئے تھے تو بل کلنٹن نے اس مسئلے کے حل کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ گزشتہ روز ہی وزیراعظم نے سلامتی کونسل کے مستقل ممبران پانچوں ممالک کو خط بھی لکھا، جس میں اْن سے مسئلہ کشمیر اور بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قدم اْٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ غرضیکہ کہا جاسکتا ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی محاذ پر تو بھرپور جنگ چھڑچکی ہے۔ بھارت طرح طرح کی دھمکیوں کے ذریعے شاید پاکستانی قیادت کے اعصاب کا امتحان بھی لینا چاہتا ہے، تاہم جس جس طرح بھارتی ہرزہ سرائی میں شدت آتی جارہی ہے، پاکستان بھی اْسی طرح اپنے موقف میں تیزی لاتا جارہا ہے۔گزشتہ روز اقوام متحدہ جنیوا میں پاکستان کی نمائندہ تہمینہ جنجوعہ نے بھی انسانی حقوق کونسل میں دھواں دار بیان جاری کیا اور بھارتی حکومت کے مظالم کو کشمیر میں دہشت گردی قرار دیا۔ایسے میں بہت سے ممالک کی نظریں اب وزیراعظم کی تقریر پر لگی ہیں، یہاں تک کہ بھارتی سفارتی حلقوں کو بھی اس کا بے حد انتظار ہے۔ شاید وزیراعظم نریندر مودی کو ایسے میں اقوام متحدہ نہ آنے کا فیصلہ ذرا مہنگا پڑے کیونکہ اْن کی نمائندگی یہاں پر سشماسوراج کررہی ہیں، اْن کی بات کتنی بھی زور دار کیوں نہ ہو، وہ بہرحال وزیر خارجہ ہیں ، وزیراعظم جتنی اہمیت ان کی گفتگو کو نہیں دی جا سکتی۔ تاہم ایسے میں یہ اْمید بھی ضروری ہے کہ تمام تلخی اور تیزی سفارتی محاذ تک ہی محدود رہے، جذبات جتنے بھی ابل پڑیں حقیقت یہ ہے کہ دو بڑی ایٹمی قوتوں کے درمیان اس سطح کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ ایسے میں ایک توقع یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ درجہ حرارت کو اس قدر بڑھانا شاید بھارت کو اْلٹا پڑجائے کیونکہ چین اور امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتیں اس سنگین ترین خطرے کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اس خطرے سے چھٹکارا تب ہی پایا جاسکتا ہے جب بنیادی مسئلہ حل کرلیا جائے، جوکہ مسئلہ کشمیر ہے۔بھارت نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے کمشنر کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، اگر ماحول کی گرمی میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہا تو یہ رویہ برقرار رکھنا بھی آسان نہ ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -