سودخوروں کی سوچ بدلئے

سودخوروں کی سوچ بدلئے
سودخوروں کی سوچ بدلئے

  

خیبرپختونخوا حکومت نے سود خوری کے خاتمہ کے لئے ایکٹ بنادیا ہے جس کے بعد امید کی جانے لگی ہے کہ کے پی کے میں سود خوری کا مکروہ دھندہ ختم ہوجائے گا اور سماجی خرابیوں کا قلع قمع ہونے سے بہت سے خاندانوں کو برباد ہونے سے بچایاجاسکے گا۔یہ خوش آئیند قانون بلاشبہ وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن کے پی کے میں سود خوری جیسا مکروہ دھندہ کئی دوسرے مکروہ دھندوں سے جڑا ہوااور ایک طاقتور طبقے کے ہاتھوں میں نظرآتاہے جو تجارت اور کاروبار میں اپنا مخصوص مذہب رکھتے ہیں۔ ان کی جڑیں اپنے صوبے تک محدود نہیں ہیں۔

سودی نظام کے خلاف قدم اٹھانا ایک خوف سمجھا جاتا رہا ہے۔یہ معاملہ انفرادی کاوش پر مبنی ہو یا اجتماعی یا حکومتوں کے سخت اقدامات اٹھانے کا ،جسے بھی یہ توفیق ہوجائے وہ اللہ کو بہت پیارا لگتا ہے کیونکہ سود کو اللہ نے اپنے خلاف جنگ قرار دیا ہے اوربدقسمتی سے بہت سے مسلمان اللہ سے جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔وہ سود کی لعنت کا شکار ہوجاتے اور اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔ماضی کی بات کیا کریں ،اکیسیوں صدی میں بھی پاکستان کے بعض علاقوں اور کئی قوموں میں سود پر کاروبار کرنے کا رواج ہے،ایک ہاتھ میں تسبیح تھامے ہواسود خور کہتا ہے’’ نماز اپنی جگہ لیکن یہ تو ہمارا کاروبار ہے‘‘ ان کے کاروبار اغوا برائے تاوان اور منشیات فروشی تک دراز ہوتے ہیں لیکن تسبیح اور مصلے سے ان کا رشتہ پھر بھی قائم ہوتا ہے۔ایسے کاروباری لوگوں نے اسلام میں سود کو حلال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔یہ انفرادی کاروبار کرنے والوں کا معاملہ ایسا سنگین ہے کہ بہت سے کیسوں میں سٹیٹ کسی سود میں پھنسے ہوئے بندے کی مدد نہیں کرپاتی۔ کیونکہ ایسے سود خوروں کو بنکوں کے سودی نظام کے بعد بہت زیادہ شہہ مل چکیہے۔تاہم معاشرے میں آگہی بڑھنے اور میڈیا کی جانب سے سماجی زندگی پر مرتب ہونے والے سود کے اثرات کو اچھالا جانے کے بعد حکومت نے بنکوں کے سودی نظام کو تو نہیں چھیڑا البتہ سود پر اشیائے ضروریہ بیچنے والوں کے خلاف قانون بنا دئیے ہیں۔پنجاب میں ۹ سال پہلے پنجاب سودخوری ایکٹ 2007 ء منظور ہواتھا جس کے تحت سود خور کو دس سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ کے پی کے نے سود خوروں کے خلاف جوقانون بنایا ہے،اس کے تحتکسی سود خور کو پانچ سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ تک کی سزا دی جاسکے گی۔پنجاب اور کے پی کے حکومتوں کا سودخوروں کے ظالمانہ نظام کے خلاف یہ موثر ترین قانون ہیں لیکن افسوس کہ سود خوری ایکٹوں کے بھرپورثمرات ابھی تک سامنے نہیں آرہے کیونکہ سود خوروں نے الفاظ کی جادوگری سے اپنا ساہوکاری نظام بچا رکھا ہے۔پنجاب میں سوائے ایک آدھ کیس کے ابھی تک کوئی ایسا مقدمہ سامنے نہیں آیا جس میں کسی سود خور کو قرار واقعی سزا سنائی گئی ہو۔اگر اس بات کا اجائزہ لیاجائے تو علم ہوگا کہ سود کی ہولناکی آج بھی موجود ہے اور یہ نسل در نسل تباہ کرتی جارہی ہے ۔سود خوروں کے کاروبار کی ایک بڑی شکل قسطوں پر کیا جانے والا کاروبار بھی ہے جس میں کسی بھی شے کی قیمت مارکیٹ سے ڈبل وصول کی جاتی ہے جبکہ زیورات پر قرضہ اور مکان رہن رکھ کر ، مطلوبہ رقم کا چیک پیشگی سود خور کو جمع کراکے بھی یہ قرضہ وصول کیا جاتا ہے لہذا جب کبھی کسی سود خور کے خلاف شکایت سامنے آتی ہے تو سود خور ان تمام دستاویزات کا قانونی سہارا لیتا ہے جو اس نے قرض خواہ سے بحالت مجبوری یا گن پوائنٹ پر لکھوا رکھی ہوتی ہیں۔ایسی صورت میں جب کوئی قرضداروقت پر قرض ادا نہیں کرتا تو اسکا چیک بینک میں جمع کراکے بونس ہونے کی صورت میں اسکے خلاف مقدمہ درج کرانے کے کام آتا ہے لہذا قرضدارجب جیل پہنچتا ہے تو سود خور اسکی جائیداد بیچ کر قرض وصول کرتے ہیں،بسا اوقات حبس بے جا میں رکھتے اور تشدد بھی کرتے ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ قرضدار سود خور کو اقساط میں اسکی اصل رقم سے زیادہ رقم سود کی شکل میں ادا بھی کرچکا ہوتا ہے لیکن ’’اصل رقم ‘‘ کا وجود پھر بھی برقرار ہوتا ہے جس کی سود خور قانون کا سہارا لیکر وصولی کرتے ہیں۔گویا اس معاملے میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا ہوا نظر آتا ہے۔بہرحال یہ بات اپنی جگہ درست نظر آتی ہے کہ پنجاب میں سود خوروں کا قلع قمع مکمل طور پر نہیں کیا جارہااور انکے کاروباراور شرائط ناموں کی بدلتی شکلوں کو الٹا قانونی تحفظ حاصل ہورہا ہے لیکن اسکے باوجود انفرادی طور پر یہ دھندہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔لوگوں کو سودخوروں سے بچانے کے لئے حکومت نے اخوت پروگرام کے تحت غریب محنت کشوں کو کاروبار کے لئے قرضے دلوانے کا نظام سپورٹ کیا ہوا ہے، لیکن لوگوں کو کاروبار کے علاوہ بچیوں کی شادیوں یا کسی اور مجبوری کے تحت بھی قرضہ لینا پڑتا ہے تو حکومت بنکوں اور خیراتی و خودکفیل بینکوں کی مددسے بھی ایسا نظام بنا سکتی ہے جو مجبور لوگوں کو آسان قرضے فراہم کرکے انہیں مشکلات سے نکال سکتی ہے۔ایک زمانے میں پنجاب میں قرضہ حسنہ سکیم بڑی پاپولر ہوئی تھی جس کے تحت ضرورت مندوں کی مالی مدد کی جاتی تھی لیکن ایسی بہت سی سکیمیں مقامی سیاستدانوں کی اقربا نوازیوں کی وجہ سے بند ہوگئیں ۔ملک میں نوجوانوں کے لئے قرضہ جاتی سکیمیں آج بھی معروف ہیں لیکن ایسی کوئی اسکیم جو سودخوری کے چنگل سے بچاسکے اسکا منظر عام پر لانا بہت ضروری ہے ۔محض قانون بنانے سے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے ،اس کا اطلاق کرنے اور سودخوروں کے ہتھ کنڈوں کا علاج کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کے پی کے میں سود خوری نظام کا خاتمہ کسی بڑے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔یہاں ایسی اکثریت موجود ہے جس کے افغانستان سے کاروباری مراسم قائم ہے اور وہ سود خوری کو جائز سمجھتے ہیں ،ان کا یہ مکروہ دھندہ کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ان سود خوروں میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو کے پی کے میں وارلارڈز،طاقتور سیاستدان ،بااثر کاروباری بن چکے ہیں اور وہ ووٹر بنک کا استعمال کرنا جانتے ہیں۔لہذا کے پی کے حکومت کا فرض بنتا ہے کہ سب سے پہلے سود خوری کو جائز سمجھنے والے اس طبقے کو شریعت کے احکامات سے متعارف کرائے اور انکے ’’ کاروباری مذہب‘‘ کا خاتمہ کرے۔ان کے کاروباری مذہب میں سود خوری کے علاوہ،جھوٹ اور دباؤ سے اونے پونیمیں جائیدادیں خرید کر آگے بھاری قیمت پر بیچنا،اغوا برائے تاوان،گاڑیاں چوری کرکے انہیں مالکان کو واپس لوٹانے کے لئے رقم طلب کرنا جیسے کئی جرائم جائز ہیں ۔ان حالات میں جب تک سود خوروں کا مذہب تبدیل نہیں کیا جائے گا سودی خوری جیسے قانون بنانے سے کماحقہ نتائج نکالنامشکل ہوگا۔

مزید :

بلاگ -