قائداعظمؒ اور پاکستان کی شہ رگ

قائداعظمؒ اور پاکستان کی شہ رگ
قائداعظمؒ اور پاکستان کی شہ رگ

  


پاکستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے اس سال مجھے مختلف تعلیمی اداروں میں اپنی نوجوان نسل سے خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنی تقاریر میں اس جلیل القدر قائد اور عدیم المثال شخصیت کے فرمودات کو بار بار دہرایا، جس کی قیادت میں پاکستان کی صورت میں عالمِ اسلام کی سب سے بڑی ریاست معرضِ وجود میں آئی۔ قائداعظم ؒ دنیا کی سب سے بڑی مملکت کے بانی تھے، اس لئے ان کے تصورات، ان کی اخلاقی جرات و کردار اور ان کے عزم واستقلال سے نئی نسل کو اچھی طرح آگاہ وباخبر کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ پاکستان کے استحکام وترقی کے لئے قائداعظم ؒ کی تعلیمات سے بہتر راہنمائی اور کہیں میسر نہیں آسکتی۔ موجودہ حالات میں پاکستان کی بقاء اور سلامتی کو جو خطرات درپیش ہیں، ان کو سامنے رکھتے ہوئے طلباء کی ایک تقریب میں جب میں نے قائداعظم ؒ کے درج ذیل ارشاد کا اپنے خطاب میں حوالہ دیا تو نوجوانوں کا جوش وجذبہ قابل دید تھا۔ قائداعظم ؒ نے کہا تھا کہ”مجھے خدائے عظیم وبرتر کی قسم جب تک ہمارے دشمن ہمیں اٹھا کر بحیرۂ عرب میں نہ پھینک دیں، ہم ہار تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حفاطت کے لئے میں تنہا لڑوں گا، اس وقت تک لڑوں گا جب تک میرے ہاتھوں میں سکت اور میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ موجود ہے۔ مجھے آپ سے کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا وقت آجائے کہ پاکستان کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں۔ پہاڑوں، جنگلوں، میدانوں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں“۔

قائداعظم ؒ نے جس پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنے خون کے آخری قطرہ تک لڑنے کی بات کی تھی۔ قائداعظم ؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ گواہی دیتے ہیں کہ بانیء پاکستان کو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی اپنی صحت اور زندگی سے زیادہ پاکستان کی سلامتی کی فکر تھی۔ قائداعظم ؒ پاکستان کو اللہ کا انعامِ عظیم سمجھتے تھے اور قائداعظم ؒ کا یہ فرمان تھا کہ اللہ کے اس عظیم تحفے کی حفاظت ہر پاکستانی مرد و زن، بچے، بوڑھے اور جوان کا فرض ہے۔ قائدعظمؒ کا یقین کامل تھا کہ اگر مسلمان نیک نیتی، دیانت داری،خلوص، نظم وضبط اور اعمال وافعالِ صالح سے دن رات کام کرتے رہے، ان میں بدی، نفاق، جاہ طلبی اور ذاتی مفاد کا جذبہ پیدا نہ ہوا تو اِن شاء اللہ چند برسوں ہی میں پاکستان کا شمار دنیا کے عظیم ممالک میں ہوگا۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ کہتے ہیں کہ قائداعظم ؒ پاکستان کو حضرت محمدﷺ کا روحانی فیضان قرار دیتے تھے۔ قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ ”جس قوم کو برطانوی سامراج اور ہندو سرمایہ دار نے قرطاسِ ہند سے حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی سازش کر رکھی تھی،آج وہ قوم آزاد ہے، اس کا اپنا ملک ہے، اپنا جھنڈا ہے، اپنی حکومت، اپنا سکہ اور اپنا آئین ودستور ہے۔

کیا کسی قوم پر اس سے بڑھ کر اللہ کا کوئی اور احسان ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خلافت ہے جس کا وعدہ اللہ نے رسولِ اکرمﷺ سے کیا تھا کہ اگر تیریؐ اُمت نے صراط مستقیم کو اپنے لئے منتخب کر لیا تو ہم اُسے زمین کی بادشاہت دیں گے“.... بانیء پاکستان کو اللہ تعالی کی مشیت اور مدد سے مکمل یقین تھا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان امن و آشتی، تہذیب وتمدن اور ثقافت وشرافت کا مرکز ہوگا اور اس ملک کی حدود سے ترقی کی شعاعیں نکل کر سارے ایشیا کی رہنمائی اور رہبری کریں گی۔ اور ایشیا کو امن و آشتی اور ترقی کا راستہ دکھائیں گی۔ ظاہری طور پر یہ بہت بڑا دعویٰ ہے کہ پاکستان پورے ایشیا کی امن و آشتی اور ترقی کے راستے میں راہنمائی کرے گا، لیکن قائداعظم ؒ کے وہ قابلِ رشک اوصاف اور وہ عدیم النظیر خوبیاں، جن کا جلوہ پوری دنیا نے قیام پاکستان کی صورت میں دیکھا تھا، اگر وہی اوصاف اور خصائص پاکستانی قوم میں بھی پیدا ہو جائیں تو ہم ایشیا کیا دنیا کی امامت کر سکتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے یونہی نہیں فرمایا تھا:

یہ نکتہ سرگذشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا

کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تُو ہے

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدِالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی اِمامت کا

مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی توقعات، امیدوں اور آرزوؤں پر پورا نہیں اُترے۔ اللہ نے ہمیں توفیق، ہمت، طاقت،صلاحیتیں اور استطاعت سب کچھ دے رکھا ہے۔ قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن ہمارے وطن میں ہر وہ چیز موجود ہے جو ایک زرعی ملک کو ترقی یافتہ صنعتی ملک بنا سکتی ہے۔ پاکستان کے اندر ہر وہ دھات موجود ہے،جس کی ہمیں صنعت کے میدان میں ضرورت ہوگی۔ پاکستان کے پہاڑ، میدان اور ریگ زار اپنے اندر لامحدود قدرتی خزائن مدفون ہیں، لیکن ہم نے ان قدرتی خزائن، وسائل کا فائدہ ہی نہیں اٹھایا، ورنہ پاکستان بھی آج جاپان کی طرح عظیم صنعتی ملک ہوتا۔ قائداعظم ؒ نے بھی جاپان ہی کی صنعتی ترقی واقبال کی مثال دی تھی۔ قائداعظم ؒ کو ہم سے اُمید تھی کہ پاکستانی قوم بھی جاپان کی طرح ہر ناممکن کو ممکن بنا دے گی اور اپنی معاشی مشکلات کو حل کرکے پاکستان کوا یک خود کفیل ملک بنا سکتی ہے، مگر ہم قائداعظم ؒ کی اُمیدوں کے مطابق بطور قوم اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔

ہم قائداعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت کی بدولت آزاد تو ہو گئے،لیکن72 سال گزر جانے کے بعد بھی ہم پاکستان کی معاشی غلامی کی زنجیروں کو نہیں توڑ سکے۔ قائداعظم ؒ نے تو یہ کہا تھا کہ میں اپنی مسلمان قوم سے کبھی مایوس نہیں ہوا کیونکہ اسلام کی تعلیمات میں مایوسی کا لفظ ہی نہیں، لیکن پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے تمام تر روشن امکانات کے باوجود ہم پاکستان کو اُس مقام ومنزل تک نہیں پہنچا سکے جس کی تصویر قائدعظمؒ کے ذہن میں موجود تھی۔ قائداعظم ؒ کے خوابوں، آرزوؤں اور تمناؤں میں، جس عظیم پاکستان کا تصور تھا، وہ ہم اس لئے حاصل نہیں کرسکے کہ ہم اُس خلوص، دیانت داری اور عزم واستقلال سے محروم ہیں جو قائداعظم ؒ کے کردار کا حصہ تھا۔ قائداعظم ؒ کے بعد لیاقت علی خاں کو چھوڑ کر ہمیں، جس طرح کے خود غرض سیاست دان ملتے رہے اور پھر فوجی آمروں کی بار بار قومی سیاست میں مداخلت کے باعث ہمیں ابھی تک وہ پاکستان میسر ہی نہیں آیا جو قائداعظم ؒ محمد علی جناح کے تصور میں تھا۔

قائداعظم ؒ کی فراست وسیاست اور فہم وتدبر کا اندازہ کیجئے کہ انہوں نے بغیر کسی جنگ وجدل، بغیر کسی اسلحے کی طاقت اور بغیر فوج صرف جمہوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان، جو ایک شاعر کے دماغ کا تخیل تھا، اُسے حقیقت میں تبدیل کر دیا، لیکن ہماری نالائقیوں اور سیاسی لغرشوں کا بھی شمار نہیں کہ قائداعظم ؒ کے آزاد کرائے ہوئے ملک اور ہمیں جو امانت بانیء پاکستان نے سونپی تھی، ہم اس کی بھی حفاظت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ پاکستان سیاست دانوں کی باہمی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر اِتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ ہماری کمزوریوں اور باہمی انتشار کو بھانپ کر ہمارے ازلی دشمن انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے ہڑپ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انڈیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بغیر چبائے نگل جانا چاہتا ہے۔

ایک لاکھ مظلوم کشمیری مسلمانوں کی شہادتوں اور مقبوضہ کشمیر کے خلاف انڈیا کے حالیہ غیر معمولی اقدام کے بعد بھی اگر پاکستان کے موجودہ حکمران یہ سوچتے ہیں کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا تو حکمرانوں کی اس سے بڑی کوئی عاقبت نااندیشی نہیں ہوسکتی۔ بھارتی وزیر ہمیں ڈرا رہے ہیں کہ وہ پاکستان پرایٹم بم سے حملہ کرنے میں بھی پہل کر سکتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں بھی کوئی کسر ہندو نے باقی نہیں چھوڑی۔ لائن آف کنٹرول پر بھی انڈین حملوں سے ہمارے فوجی جوان اور عام پاکستانی شہری آئے دن شہید ہو رہے ہیں۔ امن و آشتی کی فضا تو انڈیا کے مزاج کو راس ہی نہیں، نہ ہی ہمارے دشمن کو شرافت کی زبان سمجھ آتی ہے۔ پاکستان جتنا بھی صبر وتحمل سے کام لے گا، انڈیا اس کو پاکستان کے حکمرانوں کی بزدلی ہی سمجھے گا۔ مقبوضہ کشمیر کو آزاد اور پاکستان سے الگ نہیں سمجھنا چاہے۔ مقبوضہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ کیا رشتہ ہے، اسے سمجھنے کے لئے ہمیں قائداعظم ؒ سے راہنمائی لینی چاہے۔

انہوں نے فرمایا تھا کہ ”اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظر انداز نہیں کر سکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی،مذہبی، جغرافیائی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ جب بھی اور جس بھی نقطۂ نظر سے نقشے پر نظر ڈالی جائے گی، یہ حقیقت واضح ہوتی جائے گی کہ کشمیر سیاسی اور جنگی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی ملک اور قوم اُسے برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے نیچے دے دے۔ کشمیر پاکستان کا ایسا حصہ ہے، جِسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ریڈکلف ایوارڈ میں مسلمانوں سے فراڈ کیا گیا۔ گورداسپور کے ایک ایسے علاقے کو جہاں مسلمان کی اکثریت تھی، محض اس لئے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا کہ ہندوستان کو کشمیر کے معاملات میں مداخلت کا موقع مل سکے۔ پاکستان نے ریڈکلف ایوارڈ قبول کر لیا، مگر ہندوستان کی بدنیتی کی وجہ سے کشمیر کا جھگڑا پیدا ہوگیا“۔ جب قائداعظم ؒ یہ فرما رہے ہوں کہ کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے کر دے۔

اس کے بعد ہمارے حکمرانوں کی کشمیر پالیسی کسی تذبذب کا شکار نہیں ہونی چاہتے۔ جس طرح پاکستان کی سربلندی، استحکام اور سلامتی کے لئے ہمارا عزم اور عہد ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم پاکستان کی خاطر سب کچھ قربان کر دیں گے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے بھی ہمارا یہ عہد ہونا چاہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ مسلمانوں کی اپنی شجاعت آفرین روایات ہیں اور اس حوالے سے مسلمانوں کی تاریخ بہت تابناک ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے بھی ہمیں اپنی درخشاں روایات کو تازہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی پکار سن کر جہاد کے ذریعے مدد کا فیصلہ کر لیا تو اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم، بے پایاں رحمتیں اور اللہ کی ابدی اور ازلی نوازشیں بھی ہمارے شاملِ حال ہوں گی اور فتح مندی وسربلندی یقینی طور پر کشمیری مسلمانوں کا مقدر ہوگی۔ ہماری اس فتح اور کامیابی پر قائداعظم ؒ کی روح بھی ضرور خوش ہوگی۔

مزید : رائے /کالم


loading...