ہسپتالوں میں ہڈیوں میں سوراخ کرنے کیلئے عام ڈرل کا استعمال نہ رک سکا

ہسپتالوں میں ہڈیوں میں سوراخ کرنے کیلئے عام ڈرل کا استعمال نہ رک سکا

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں کے ہڈی جوڑ کے آپریشن تھیٹروں میں مریضوں کی ہڈیوں میں سوراخ ڈالنے کیلئے عام الیکٹرک ڈرل کا استعمال نہ رک سکا ۔پابندی کے باوجود ہڈیوں کے آپریشن اور ہڈی میں سوراخ ڈالنے کیلئے آتھوپیڈک سرجن دیوار میں سوراخ ڈالنے والی الیکٹرک ڈرل مشین استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث انفیکشن پھیل رہی ہے اور اس طریقہ کار کے باعث ہر چوتھے مریض کا آپریشن خراب ہو رہا ہے اور بعض اوقات اس صورتحال کے باعث مریضوں کے زخم کئی کئی ماہ ٹھیک نہیں ہو پار ہے یا ایک سے زائد مرتبہ ایک مریض کا آپریشن کرنا مقصود ہوتا ہے ۔اس صورتحال کے باعث بعض اوقا ت ہڈی میں سوراخ ڈالنے کیلئے استعمال کی جانیوالی یہ ڈرل مشین مریض کی ہڈی جلاد یتی ہے جس سے ہڈی ڈیڈ ہو جاتی ہے اور مریض کا اعضاء ناکارہ ہو جاتا ہے بتایا گیا ہے کہ ایک سال قبل وزیر اعلیٰ پنجاب نے آتھو پیڈک کے آپریشن تھیٹروں میں ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے اور ٹیڑھی ہڈیوں کو سیدھا کرنے اور سوراخ ڈالنے کیلئے استعمال کی جانیوالی الیکٹریکل ڈرل کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی اور تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ ہسپتالوں میں عام ڈرل کی بجائے ہوا کے پریشر سے چلنے والی نامیٹک ڈرل استعمال کروائیں اور اس عمل کو 15روز کے اندر یقینی بنایا جائے کیونکہ اس سے زخم خراب ہو کر گینگرین بن جاتا ہے ۔اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ معاملے کا علم نہیں ہے اس کی تحقیقات کرائیں گے اور اس امر کو یقینی بنوائیں گے کہ اگر عام الیکٹرک ڈرل ہڈی میں سوراخ ڈالنے کیلئے نقصان دہ ہے تو اس کی جگہ نامیٹک ڈرل استعمال کرانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4