پاکستان اور ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعے میں تعاون پر رضامند

پاکستان اور ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعے میں تعاون پر رضامند

کراچی(اکنامک رپورٹر) پاکستان اور ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پر رضامند ہوگئے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان اسٹینڈرڈ ائزیشن اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) اور دی انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آف ایران (ISIRI) کے درمیان سائینٹیفک اور ٹیکنالوجی میں تعاون کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔یہ معاہدہ میٹرولوجی ، اسٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ ، کوالٹی کنٹرول اور ٹیسٹنگ کے شعبہ کوفروغ دینے کے سلسلے میں ہوا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک یادداشت پر ڈاکٹر برکت سعید میمن، ڈائریکٹر جنرل(PSQCA) اور واحد مرانڈی مغادّم، ڈپٹی سپرویژن اینڈ ایمپلی مینٹیشن(ISIRI) نے آج تہران میں دستخط کئے ۔ انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈ ا ینڈ انڈسٹر یل ریسرچ آف ایران (آئی ایس آئی آر آئی)اور پاکستان اسٹینڈرڈ /کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ا یس کیو سی اے) سائنسی ، تکنیکی اور دو ملکوں کے درمیان اکیڈمک تعاون اور تبادلہ برائے کمرشل اشیاء کو فروغ دینے پر ہوئے ہیں اور اِن میں اعلیٰ نگرانی کے لیے ، دونوں ممالک کے صارفین کے حقوق کے تحفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور دونوں ممالک کی اشیاء کے معیار کے تبادلے ، اور دو طرفہ کاروباری ٹرانزیکشن کو ہموار کرنے کے لیے(ایم او یو) کی یادداشت کو سمجھنے اور ان شعبوں جن میں قومی سرٹیفکیٹ برائے مطابقت جائزہ اور معیار جاری کرنے کے لیے باہمی معلومات کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر تبادلہ کرنا، باہمی اور مشترکہ طور پر شرائط و ضوابط بنا کر بین الاقوامی اسٹینڈرڈ انڈکس، دونوں اداروں کی باہمی منظوری کے ساتھ مطابقت اور اسٹینڈرڈ کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے معلومات کا تبادلہ بھی شامل ہے ۔جن اشیاء کا تعین ISO/IEC-17020 کے تحت اداروں کے معائنے ، سرٹیفکیٹ برائے کوالٹی مینجمنٹ سسٹم اور ماحولیاتی مینجمنٹ سسٹم برائے بین الاقوامی اسٹینڈرڈسیریز ISO9000 اور ISO14000کے تحت معلومات کا تبادلہ بشمول ماہرین اور معلومات برائے نفاذ طریقہ کار کوالٹی کنٹرول اور ماحولیاتی مینجمنٹ سسٹم سرٹیفکیٹ بمطابق ISO/IEC 17201اور دیگر تجربوں سے فائدہ اُٹھاناشامل ہے۔ اختیاری اسٹینڈرڈ کے تحت اشیاء کے اسٹینڈرڈ کی فہرست کا تبادلہ، ہرادارہ اپنی منظوریوں کی فہرست کی معلومات دوسرے ادارے کو دے گااس کے علاوہ دیگر معلومات کا تبادلہ بھی ہوگا۔ معاہدہ کے تحتدونوں ادارے شرائط و ضوابط برائے بین الاقوامی اسٹینڈرڈائزیشن آرگنائزیشن جیسے ISO، IEC، SMIIC کے مطابق اسٹینڈرڈ پربھی متفق ہوگئے ہیں جبکہ بین الاقوامی اسٹینڈرائزیشن میں شمولیت کرکے تجربات اور طریقہ کار برائے ترقی نیشنل اسٹینڈرڈ ، انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کو ڈرافٹ کرنادونوں اداروں کا آپس میں اسٹینڈرڈ اور ٹیکنیکل قواعد کا تبادلہ اور اشیاء کے تبادلے پر اسٹینڈرڈ مارک کو تسلیم کرنا، دوسرے ادارے کے مطابق سرٹیفکیٹ جاری کرنا، معائنہ شدہ اداروں کی حفاظت اور تبدیل شدہ اشیاء کی بہتری کے لیے معاونت فراہم کرنا،باہمی تجارت کی سہولت، اُن کے درمیان تعاون کو بڑھا نا اور اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہیں، کام کے طریقے کے لیے دونوں ادارے درآمد اور برآمد شدہ اشیاء کے لیے اسٹینڈرڈ اور مطابقت کے جائزے کے طریقے کار کی منظوری کی فہرست کا تبادلہ بھی کرینگے،دونوں اداروں میں جائزے اور سرٹیفکیٹ کے طریقہ کار میں ہم آہنگی،دونوں اداروں کی ا یکریڈائٹ لیب کو باہمی سروسز دینا،دونوں اطراف کی تکنیکی لیب کا دورہ کرنا بھی معاہدے میں شامل ہیں۔ایک دوسرے کے میٹرولوجی کے شعبے میں تعاون کرنا وزن اور پیمائش، علاقائی ، اِنتہائی علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو بڑھانا،ٹریننگ اور ریسرچ کی سہولت، کانفرنسز اور سیمینا ر کا انعقاد، ٹریڈ کے لیے حاصل دشواریوں کو دور کرنا،پلان کا فریم ورک شامل ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے بعد صنعتکاروں اور صارفین کو سہولیات حاصل ہوجائیگی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر