حضرت علی المرتضٰیؓ

حضرت علی المرتضٰیؓ
 حضرت علی المرتضٰیؓ
کیپشن: pic

  

آج عالم اسلام کی جس شخصیت کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں اْس کے بارے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس کا آغاز کہاں سے کروں اور انتہا کیسے کروں اور کہاں کروں؟۔۔۔ اور وہ شخصیت ہیں حضرت علی المرتضیٰؓ۔ آپ کا نام نامی ’’علی بن ابی طالب ،بن عبد المطلب، بن ہاشم بن عبد مناف ‘‘ اور کنیت ’’ابوالحسنین و ابو تراب ہے۔جنابِ ابوطالب کے صاحبزادے ہیں ،یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں،آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہاشمی ہے اور وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب وفضائل بے شمار ہیں۔

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ذات وہ ذات گرامی ہے جو بہت سے کمال و خوبیوں کی جامع ہے کہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ،حیدر کرار بھی ہیں اور صاحب ذوالفقار بھی ،حضرت فاطمہ زاہرہ کے شوہر نامدار بھی اور حسنین کریمین کے والد بزرگو ار بھی ،صاحب سخاوت بھی اور صاحب شجاعت بھی ،عبادت و ریاضت والے بھی اور فصاحت و بلاغت والے بھی ،علم والے بھی اور حلم والے بھی ،فاتح خیبر بھی اور میدان خطابت کے شہسوار بھی،غرضیکہ آپ بہت سے کمال و خوبیوں کے جامع ہیں اور ہر ایک میں ممتاز ویگانہ ہیں، اسی لئے دنیا آپ کو مظہر العجائب والغرائب سے یاد کرتی ہے اور قیامت تک اسی طرح یاد کرتی رہے گی، جبکہ حضرت علیؓ کے بارے میں آپؐ کا فرمان ہے کہ مَیں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔

چلئے دیکھتے ہیں علی کا مطلب کیا ہے تو علی کا مطلب لغت کے مطابق بلند ترین ،اعلیٰ ترین ہے اور حضرت علیؓ وہ ہستی ہیں جنہوں نے حسب نسب بھی اعلیٰ پایا، اسلام کی تاریخ میں کردار بھی جن کا لازوال رہا اور جنہوں نے اپنے ہر عمل سے اس ذات حق کو بلند کیا۔ جنگ خیبر میں جب خیبر کا قلعہ فتح ہونے میں نہیں آرہا تھا تو آخر کارآپؐ نے حضرت علیؓ کو یاد کیا آپؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے، حضورؐ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور آپؓ کی آنکھیں مکمل طور پر تندرست ہو گئیں اور آپؓ نے خیبر کا دروازہ اکھاڑ مارا اور مرحب جو اپنی طاقت و غرور کے نشے میں جھوم رہا تھا، اسے واصلِ جہنم کیا۔ اس واقعے کو دیکھتے ہوئے بہت سے مسلمانوں کے دل میں حضرت علیؓ کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ لوگ آپ کے پاس آپ کے خیمے میں آئے اور آپ کو خوب دادِ شجاعت دی.

اسی طرح مواخات کا موقع جب آیا تو آپؐ نے مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا ،مگر حضرت علیؓ کو کسی کے ساتھ بھائی چارے کے رشتہ سے منسلک نہ کیا، حضرت علیؓ کچھ رنجیدہ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا اے علی آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں۔۔۔ (جامع الترمزی)۔۔۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو فرمایا اے علی تم مجھ سے وہ نسبت رکھتے ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ اسلام سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔۔۔(جامع الترمزی)۔ اگر ہم علم و فضل میں بھی مشاہدہ کریں تو تمام خلفائے راشدین جو آپؓ سے پہلے آچکے تھے، اپنے فیصلوں میں آپ کی رائے کو فوقیت دیتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرہلاک ہو جاتا۔

ہم نے اس طرح کی شخصیت کو صرف بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والا اور صرف ایک شجاع کے طور پر تاریخ کے اوراق پر لکھ ڈالا،جبکہ آپؓ فنون لطیفہ اور حسِ مزاح سے عاری نہیں تھے ،بلکہ ایک اچھی حسِ مزاح رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ راستے میں جا رہے تھے اور اس ترتیب سے کہ حضرت علیؓ درمیان میں تھے اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دائیں اور بائیں تھے۔ کسی نے راستے میں کہا کہ دیکھو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ \"لنا\" لکھا ہوا ہے، کیونکہ حضرت علیؓ کا قد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مقابلے میں تھوڑا چھوٹا تھا۔ حضرت علیؓ نے جب یہ الفاظ سنے تو مسکرا کے رک گئے اور جملہ کسنے والے کو کہا کہ اب دیکھو کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے تو یوں معلوم ہورہا تھا کہ\"لا\" لکھا ہو اہے جس کا مطلب ہے کچھ نہیں اور آیت مباحلہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،تمام تفصیل سے گریز کرتے ہوئے اس مباہلہ کے لئے جو شخصیات سامنے آئی تھیں، عیسائی پادریوں کے مقابلے میں ان میں حضرت محمدؐ اپنے نفس کی جگہ جس شخصیت کو لائے تھے ،وہ تھے حضرت علیؓ ،اس لئے خیبر میں حضرت محمدؐ نے فرمایا تھا کہ کل مَیں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا، جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائے گا، وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں۔

یہ ہیں پرورہ رسول،اقلیم ولایت کے شہنشاہ،عبادت و ریاضت میں مسلمانوں کے پیشوا،میدان کارزار کے تاجدار،معرکہ خیبر کے شہسوار،رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم خوار،خلفائے ثلاثہ کے خیر خواہ،تمام صحابہ کے محبوب،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محب صادق، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا مڑدہ سنایا،جن سے بغض رکھنا کفر،جن سے محبت رکھنا ایمان،خاتون جنت کے شوہر،جنت کے جوانوں کے سردار ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ عم زاد،جن کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نازبرادری کریں،جن کوتہجد پڑھوانے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جگانے آئیں،جو اگر روٹھ جائیں تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم منانے آئیں،اور اسی عالم میں بوتراب کا لقب پائیں،جس سے وہ ناراض ہوجائیں ،وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا معتوب،اور جس سے وہ راضی ہوجائیں، وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہو،یہ وہ ہیں جن کی محبت میں جیناعبادت اور مرنا شہادت ہے، یہ ہیں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الخلفاء سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ۔

میرے ہاتھ یہ جملہ لکھتے ہوئے شدتِ جذبات سے کانپ رہے ہیں کہ اس طرح کی شخصیت کو 19رمضان کو نمازِ کے دوران خوارج میں سے ایک ابن ملجم نے اچانک آپ پر تلوار کا بھرپوروار کیا، وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری، اور 21رمضان المبارک شب اتوار 40 ہجری کوآپ کی شہادت ہوئی۔۔۔انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔۔۔ یہ شہادت صرف حضرت علیؓ کی نہیں تھی ،بلکہ اْمت کے شیرازے کی شہادت تھی، خلافت سے ملوکیت کا سفر تھا جو آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔اپنی بات اْس واقعہ پر ختم کروں گا کہ حضرت علیؓ سے کسی نے پوحھا اے علیؓ کیا ہوا کہ آپ کے دور میں شورش جنگیں زیادہ ہیں، آپ سے پہلے ادوار میں ایسا نہ تھا تو آپ نے فرمایا:پہلے والوں کے مشیر ہم تھے، ہمارے مشیر تْم ہو۔ *

مزید :

کالم -