انصاف کے تقاضے اور ہم  

   انصاف کے تقاضے اور ہم  
   انصاف کے تقاضے اور ہم  

  

انصاف کی فراہمی ریاست کا بنیادی فریضہ ہے جس سے ملک ترقی اورخوشحالی کی طرف گامزن ہوتا ہے انصاف سے عوام کو براہ راست ریلف ملتا ہے 24جنوری 2022ء کو وفا قی محتسب سیکرٹریٹ کو قا ئم ہو ئے پو رے39بر س ہو چکے ہیں۔ ان 39 بر سوں میں عوامی خد مات کے سلسلے میں اس ادارے کی کار گزا ری اور ارتقا ء کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ با ت نہا یت خو ش آئند دکھا ئی دیتی ہے کہ سا ل بہ سال اس ادارے پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ 1983 ء میں اپنے قیا م کے وقت کل 7812 شکا یات کا اندراج ہوا تھا جبکہ سال 2021 ء  میں ایک لا کھ دس ہزار سے زائد شکا یات نمٹا ئی گئیں جن میں سے تقریباً 42 ہزار شکا یات آن لا ئن مو صول ہو ئیں جس سے بخو بی اندازہ کیا جا سکتا ہے اور رفتار کا ر میں خا طر خواہ اضا فہ کے لئے جد ید ٹیکنا لو جی کے استعمال کو بھی برو ئے کار لا یا جا رہا ہے۔اگر گزشتہ چار بر سوں کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ بات بھی با عث اطمینان ہے کہ اس دوران ساڑ ھے تین لا کھ سے زائد شکا یت کنند گان کو اس ادارے سے ریلیف مہیا کیا گیا جو پچھلے بر سوں کے مقا بلے میں کئی گنا زیا دہ ہے۔ 

 محتسب اور احتساب کا تصوّر سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں شروع ہوا، انہوں نے سرکاری عمال کے خلاف براہ راست شکایات کیلئے سب سے پہلا محتسب مقرر کیا۔ دور جدید میں سب سے پہلے سویڈن میں محتسب (Ombudsman) کا ادارہ قائم کیا گیا۔ پاکستان میں اس وقت ٹیکس محتسب، بینکنگ محتسب، انشورنس محتسب، کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کرنے  کے خلاف محتسب اور صوبوں کے اندر الگ الگ محتسب کے ادارے کام کررہے ہیں ………… پا کستان کے محتسبین کی ایک تنظیم فو رم آف پاکستان امبڈ سمین F.P.O کے نام سے کام کر رہی ہے، جس میں بھی وفاقی محتسب کا مر کز ی کر دار ہے۔ ایشیاء میں ”ایشین امبڈسمین ایسویسی ایشن (AOA) کے نام سے ایک تنظیم کام کررہی ہے جس کے ارکان کی تعداد44ہے۔ 1996ء میں اے او اے کے قیام میں پاکستان نے بنیا دی کردار ادا کیا تھا، تب سے 2010تک اے اواے کے صدر (President)کا منصب پاکستان کے پاس رہا۔  اب بھی پاکستان کے وفاقی محتسب اے او اے کے صدر ہیں۔ (A.O.A) کا مرکزی سیکرٹریٹ بھی وفاقی محتسب پاکستان کے دفتر میں ہی واقع ہے۔ او آئی سی کے محتسبین کی تنظیم او آئی سی امبڈ سمین ایسو سی ایشن میں بھی وفاقی محتسب کا نمایاں کردار ہے، پاکستان کے ٹیکس محتسب اس تنظیم کے سیکر ٹر ی جنرل جب کہ ترکی کے محتسب صدر ہیں۔ اسی طر ح انٹرنیشنل امبڈسمین انسٹی ٹیوٹ(I.O.I)کے نام سے ایک بین الاقوامی تنظیم بھی قائم ہے جس کے ارکان کی تعداد 190 ہے۔ پا کستان اس کا بھی سر گرم ممبر ہے…… ان تفصیلات سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ دنیا میں محتسب کے کتنے ادارے کام کررہے ہیں اور ان کی کتنی اہمیت ہے۔

 وفاقی محتسب اسلام اباد اور مزید تیر ہ علاقائی دفاتر لا ہور، کراچی، پشا ور، کو ئٹہ، ملتان، فیصل آباد، حیدرآباد، سکھر،ایبٹ آباد، گو جر انوالہ، بہا ولپور، سرگودھااور ڈیرہ اسما عیل خا ن میں بھی کام کر رہے ہیں۔ سوات میں بھی عنقر یب علا قا ئی دفتر قا ئم ہو جا ئے گا۔ اس ادارے کے قیام کابنیادی مقصد وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے سرکاری اداروں کے خلاف عوام الناس کی شکایات کا ازالہ ہے۔خاص طور پر معاشرے کے وہ پسے ہوئے لوگ جن کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ عدالتوں اور وکلاء  کے بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں، اس ادارے کے ذریعے اپنے مسا ئل حل کر وا سکتے ہیں۔اسے غریبوں کی عدالت بھی کہا جا سکتا ہے۔  وفاقی محتسب میں شکایت داخل کرنے کا طریق کار بڑاآسان ہے۔ کو ئی بھی شہر ی بذ ریعہ خط، ای میل، مو با ئل ایپ یا وفاقی محتسب کی ہیلپ لا ئن 1055 پر رابطہ کر کے یا خود دفتر آکر شکایت درج کرا سکتاہے۔ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں سکائپ IMO اور انسٹاگرام پر بھی شکایات کی سماعت کی جا تی ہے۔ شکایت کنندگان گھر بیٹھے سماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، انہیں سفرکی صعوبت اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں۔وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں شکا یت مو صول ہو تے ہی اسی روز بغیر کسی تاخیر کے اس پر کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور اگلے روز شکایت گزار کو ایس ایم ایس کے ذریعے اسکی شکایت کا نمبر او رتاریخ سماعت کی اطلاع کر دی جاتی ہے اور ہر شکا یت کا زیا دہ سے زیا دہ ساٹھ دنوں میں فیصلہ ہو جا تا ہے۔

وفاقی محتسب نے عوام الناس کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کیلئے او سی آر (Resolution Complaint Out Reach)کے نام سے ایک پائلٹ پراجیکٹ بھی شروع کر رکھا ہے جس کے تحت وفاقی محتسب کے افسران تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں جا کر عام شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کر تے ہیں۔ ایسی شکایات کا فیصلہ45 دن میں کیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا انقلابی قدم ہے جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔2021 ء  میں اس پرا جیکٹ کے تحت 8161 شکا یات کا ازالہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب نے شکایات کے فوری ازالہ کیلئے تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ ادارہ جاتی سطح پر شکایات کو حل کرنے کا نظام و ضع کریں چنانچہ بیشتروفاقی اداروں نے اپنے ہاں شکایات سیل قائم کر رکھے ہیں جہاں کو ئی بھی شخص شکا یت کر سکتا ہے۔ اگر ادارہ کی سطح پر شکایات 30دن میں حل نہ ہوں تو وہ ایک خود کار نظام کے تحت وفاقی محتسب کے کمپیوٹر ائزڈ سسٹم پر آجاتی ہیں۔

وفا قی محتسب نے اپنے آپ کو صرف شکایات کے فیصلوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اداروں کے نظام کی اصلاح کیلئے متعلقہ شعبوں کی نامور شخصیات کی سربراہی میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں‘جن کی سفارشات کو سپریم کورٹ تک نے نہ صرف سراہا بلکہ سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب سے کہا کہ وہ پاکستان میں تھانوں اور جیلوں کی اصلا ح کے با رے میں صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تجاویز دیں۔ اب تک وفاقی محتسب جیلوں میں اصلا ح کے حوالے سے دس سہ ما ہی رپو رٹیں سپر یم کورٹ میں جمع کرا چکے ہیں، جن کے مطا بق مخیر حضرات کے ساتھ مل کر قیدیوں کیلئے جیلوں کے اندر سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔تقریباً اڑھائی تین سوکے لگ بھگ قیدیوں کا جرمانہ ادا کر کے ان کو رہائی دلوائی گئی، مفت وکیل فرا ہم کئے گئے،ہیں مختلف یونیورسٹیوں اورتعلیمی اداروں کے تعاون سے قیدیوں کیلئے مفت تعلیم اور ہنر سکھا نے کابندوبست کیا گیاہے۔ملک بھر کی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کوعید کے موقع پر نئے کپڑ ے، کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کو تحا ئف دئیے گئے۔

مزید :

رائے -کالم -