نوازشریف اورارکانِ اسمبلی ،پھرنہ کہناکہ خبرنہ ہوئی

نوازشریف اورارکانِ اسمبلی ،پھرنہ کہناکہ خبرنہ ہوئی
نوازشریف اورارکانِ اسمبلی ،پھرنہ کہناکہ خبرنہ ہوئی

  



پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف چند روز میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائیں گے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے قبل انہوں نے اپنے مستقبل کا ایجنڈااور اپنی حکومت کی ترجیحات اپنے اراکین اسمبلی اور پیاروںپر واضح کردی ہیں جس کا مقصد شاید یہی تھا کہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ ان کا اپنے ارکان اسمبلی سے خطاب ایک مدبر، جرا¿ت مند ،محب وطن قومی لیڈر کی عکاسی کرتا تھااگرچہ ان کا خطاب ٹھنڈا ٹھار اور فاتح لیڈر کی جھلک کے بغیر تھا اور نہ ہی پنڈال میں حاضرین میں ایک فاتح پارٹی کا جوش و جذبہ نظر آیا۔یہ اندر کی باتیں ہیں وہ ہی جانیں؟مگر ارکان اسمبلی سے خطاب میں انہیں ایک طرف وقت کی قدر کا درس دیا تو دوسری طرف مستقبل کو قابو میں رکھنے کے لئے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر میدان میں اترنے کا عملا حکم دیا گیا، ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا اس کا حال پاکستان پیپلز پارٹی سے بدتر ہونے کا عندیہ بھی دے دیا ،نواز شریف نے ساتھ ہی ساتھ مختلف پارٹیوں سے اور وہ آزاد اراکین اسمبلی جو تازہ تازہ ان کی امامت میں آئے ہیں ان کو پیغام بھی دے دیا کہ مسلم لیگ (ن) کسی سہار ے اور بیساکھی کے بغیر بھی حکومت بنانے کی اکثریت رکھتی ہے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے انہوں نے ملک کے بڑے بڑے مسائل پر بھی توجہ مرکوز کی، خزانہ خالی ہونے کا بھی بتایا اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بھی نوید سنائی۔ لوڈشیڈنگ کو فوری ختم کرنے کی خواہش کااظہار بھی کیااور اسے برداشت کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا۔ چونکہ یہ ایک ایسے جن کی کی مانند ہے جو بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور اسے بو تل میں بند کرنے میں کتنا وقت لگے گا اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لوڈشیڈنگ سے عوام کو وقتی ریلیف دینے کی نوید بھی سنائی ہے جس کے لئے انہوں نے مستقبل کے وفاقی وزیر خزانہ کو 5سو ارب روپے زیر گردش قرضوں کی ادائیگی کا حکم صادر فرمانے کی بات بھی کی۔ اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی روشنی ڈال دی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امن پوشیدہ ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں، سب کو ساتھ لے کر چلنے کے ارادے کا انہوں نے ایک مرتبہ پھرعزم کیاشاید وہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے مسائل حل اکیلے شخص کے بس کی بات نہیں اور سچ بھی یہ ہی ہے، خزانہ خالی ہونے کا پیغام بھی دیا جس کا مقصد عوام کو صبر کی تلقین کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا ۔وہ راولپنڈی سے شکوہ بھی کرگئے اورسرگودھا سے ملنے کی تڑپ کا اظہار بھی، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ووٹ دینے والوں اور نہ دینے والوں کے ساتھ برابر سلوک کی بات کے علاوہ اپنی مستقبل کی حکمت کا مرکز ایسے علاقوں کو بنانے کی نوید سناگئے جہاں ان کو نظر انداز کیا گیا ۔انہوں نے اپنی تقریر میں خادم اعلیٰ پنجاب سے نوکر اعلیٰ بننے والے شہباز شر یف کے جوش خطابت کو ہوش خطابت میں ڈھالنے کا درس دیا۔گزشتہ روز کے خطاب میں ان کا لب و لحجہ بتارہا تھا کہ مستقبل کی تلخیوں ،مصائب اور عوامی توقعات کوبھانپ چکے ہیں۔ ان کی مناسبت سے آگے بڑھنے کا مربوط ارادہ رکھتے ہیں لیکن جو ہم سمجھتے ہیں وہ ہی حقیقت ہے سچ یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے سر پر اقتدار کا ہما ایسے وقت میں بیٹھ رہا ہے جب کئی بحران کئی مسائل کی صورت اختیار کئے بحران در بحران منہ کھولے کھڑے ہیں ان بحرانوں سے کسی کو تو پنجہ لڑانا ہے اور اس کے لئے میاں نواز شریف اور ان کی کابینہ ،پوری پارلیمینٹ اور افسر شاہی کو کام کرنا ہوگا اور خود میاں نواز شریف کو ایوان صدر میں وزارت اعظم کا حلف اٹھاتے ہی ؟؟ ہوگا اور ہر جگہ خود دوڑنے کی بجائے چیف کمانڈر اور رہبر کا رول ادا کرنا ہوگا، ہر شعبہ میں متعلقہ ماہر،ایماندار ٹیم تشکیل دینا ہوگی جو اپنے لئے نہیں، قوم وملک کے لئے کام کرنے کے جذبے سے سرشار ہوماضی سے سبق سیکھ کر ۔

خوش آمد یوں،

 کا سہ لیسوں ،

درباریوں ،

مفادپرست ٹولے،

yes Boss کہنے والوں ،

آستین کے سانپوں،

میر جعفر اور میر صادق

کی خصلت رکھنے والوں سے خود کو اور اپنی حکومت کو دورہی نہیںکوسوںدور رکھنا ہوگا ۔خفیہ مانیٹرنگ اور گڈ گورننس کلچرل کو رواج دینا ہوگا اپنے قریبی دوستوں کو بھلے ان کا تعلق دیار غیر سے ہی کیوں نہ ہوان سے مدد مانگنا ہوگی، کشکول توڑتا ہوگااور ملک و قوم کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے عملی اقدمات کرنا ہونگے۔ بے جا اخراجات ،شاہانہ عیش عشرت کی رسم ورواج کے سامنے سادگی کا پل باندھنا ہوگا۔لوڈشیڈنگ کے جن کو بہرحال میں بوتل میں بندکرنے کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا، یہ سچ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا محفوظ مستقبل لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے وابستہ ہے جس کے لئے عوام وقت دینے کے موڈ میں نہیں اس کے لئے میاں میاں نواز شریف کو لانگ ٹرم کے ساتھ شارٹ کٹ پالیسی بھی اپنا ہوگی۔اس کے لئے کسی دوست ملک سے مد د مانگیں یا بیرون ملک بسے والے ان پاکستانیوں کے سامنے جھولی پھیلائیں جن کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ انہیں صرف یہ یقین دہانی درکا ر ہوگی کہ ان کا پیسہ پاکستان کے اندھیرے ختم کرنے پر خرچ ہوگا نہ کہ قرض اتارو ملک سنوارو کی تاریخ دھرائی جائے گی۔یہ ہی وہ طریقہ ہے جس سے سانپ بھی مر سکتا ہے اور لاٹھی بھی بچ سکتی ہے اور مسلم لیگ (ن) کے محفوظ مستقل کی راہیں بھی روشن ہوسکتی ہیں لیکن مجھے یہ کہناہے کہ میاںنوازشریف کی نیت پے شک نہیںہے لیکن لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ انہیںپولیس گردی ،پٹواری اور تھانہ کلچرکو بھی تبدیل کرناہوگادوائی کے حصول میںاورجعلی ادویات سے سسک سسک کرمرنے والی انسانیت کوبھی بچانا ہوگا جو راہوں چراہوں میں، مساجد میں،امام بارگاہوں میں، گرجاگھروںمیںگاجر مولی کی طرح کاٹے جانے والے بے گناہوںکے خون کاحساب بھی لیناہوگا عدالتوں میں، محکموںمیںذلیل ہوتی انسانیت کو بھی سہارادیناہوگالیکن یہ آنے والاوقت ہی بتائے گاکہ وہ اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں اور اس کے لئے اُن کی حکومت کے پہلے دس دن اُن کی سمت واضح کردے گی کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے۔

مزید : کالم