آئی لو یو فقیرے

آئی لو یو فقیرے
آئی لو یو فقیرے

  

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

نہ جانے ہم کس زعم اور رعونت میں مبتلا ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو سادہ اور احمق سا دکھائی دینے والا بندہ نظر آئے ،اسکی زندگی بھی جھوٹ  ، تصنع اور اکٹر فوں سے بھردیں ۔کیا سادہ اور دنیاوی  کسب و ہنر سے عاری لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ؟۔زندگی اور دنیاداری صرف ذہانت کا نام ہے ؟ہم سادہ سے لوگوں کو احمق اور کھوتا کہہ کر یا تو ہنس دیتے ہیں یا سر پیٹ لیتے ہیں ....یا پھر ایسا شخص ہمارے لئے وجہ تفریح بن جاتا ہے ۔یاروں دوستوں کی محفلوں میں اس کی سادگی کو حماقت اور بوکھلاہٹ سے جوڑ کر اسکی خوب واٹ لگاتے ہیں ۔ہم نے کبھی نہیں کہا درحقیقت یہ بندہ بڑا زندہ دل ہے جو کھوٹے دلوں کی دلدل میں بھی خوشیوں سے پھدکتا پھرتا ہے اور اسے سودوزیاں کی کوئی فکر نہیں ہوتی ۔اسکا آج ہی کل ہے اور وہ کئی فکروں سے آزاد ہوتاہے ۔ایسی فکریں ۔۔۔۔کہ جس پر دنیا بھر کے ماہرین نفسیات سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ مکاری  و عیاری  اوردنیاداری کی دوڑ میں لمبا سفر طے کرکے تھک جانے والوں  کو کدورتوں ،وہموں ،غموں سے نکال کر کیسے سادہ دل اور کھوٹ سے پاک کیا جاسکتا ہے۔

فون پر دوست نے بتایا کہ فقیرے کی حالت بڑی خراب ہے،اسے آئی سی یو میں رکھا گیا ہے اس لئے جلدی ہسپتال پہنچیں ۔فقیرا اپنا لنگوٹیاہے ۔ مصروفیت کے باوجود میں نے مزید کوئی بات دریافت کئے بغیر ہسپتال پہنچ کر اسکی حالت ملاحظہ کی تو پہلی نظر میں فقیرے کو پہچان ہی نہیں سکا ۔چہرہ زخموں سے بھرا،آنکھیں سوجھی ہوئیں ،ہونٹ پھٹ کر پھولے ہوئے تھے ۔ناک ہڈی سمیت پچک گئی تھی ۔میں سمجھا اسکا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔معلوم ہوا کہ موصوف کو بری طرح مارا پیٹا گیا ہے ۔مار کیوں پڑی اور کس نے مارا ؟ یہ بھی سن لیجئے کہ اسے پیٹنے والے شقی القلب ایک محترمہ کے بھائی اور کزن تھے ۔

پہلے فقیرے کا کیس سن لیجئے۔موصوف کے دل میں عمر کے چالیسویں سال میں پہلی باریکایک  عشق ومحبت  اور خود کو دریافت کرنے کا زہر پھیل گیااور اسکا اثر دماغ پر ہوا تو سوچا کہ عشق کا ڈنک کس کو مارا جائے اور یہ کیسے ممکن ہے ۔ساری زندگی اب عورت کے بغیر تو نہیں نکالی جاسکتی۔کوئی اسکا گھر آباد نہیں کرسکا تھا ۔اسکی سادگی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی تھی اور گھر والے اسکا رشتہ ڈھونڈتے ہوئے تھک گئے تھے ۔اسکا عیب دوہرا تھا ، نہ بینک بیلنس نہ نوکری ۔ آزاد منش اور اپنی دنیا میں مگن دوسروں کی خوشیوں  کا تماشا بننے والا  فقیرا عمر کی گزرتی گھڑیوں کا احساس ہی نہ کرسکا تھا ،اسے مائینڈکرنانہیں آیا،نہ وہ کسی کے طنز کو سمجھا نہ مذاق کو ۔۔۔ اب اس نے چاہا کہ اسے محبت کرنی چاہئے ۔ ایک مشٹنڈے یار نے فقیرے کو مشورہ دیا ” اگر تم چاہتے ہو کہ لڑکیاں تمہاری طرف متوجہ ہواکریں تو ذرا خود پر توجہ دو،کپڑے پہننے کا سلیقہ سیکھو ،شیمپو سے بال دھویا کرو،شیو روزانہ کیا کرو  ،گریجویٹ ہو لیکن ابھی تک پرائمری پاس لگتے ہو“ ۔برسوں پہلے میں نے بھی عاجز آ   کر اس سے   ہمدردی جتائی تھی اور   کہا تھا کہ فقیرے کالج آتے جاتے ہو ،یار خود کو بدلو بھی،اس پر اسے بہت سمجھایا بھی ،لیکن وہ اپنی خو   بدل  پایا نہ کالج کے لڑکوں جیسی وضع بنائی ۔۔۔مگر اب فقیرے کو نہ جانے کیوں یہ خیال آیا کہ چالیس برس کی عمر میں اسکو فقیرے  کی بجائے اپنے اندر کے چودھری کو جگانا چاہئے ۔ فقیرے نے پہلے انگریزی فلمیں دیکھیں اور پھرڈھیروں ڈرامے بھی دیکھ ڈالے ،کتابیں بھی پڑھ ڈالیں کہ لڑکیوں کو لفٹانے کے لئے کون سا طریقہ بہتر ہوسکتا ہے ۔کونسا روپ اختیار کرے کہ لڑکیاں اسکے پیچھے ”نیں فقیرا میرا اے ،فقیرا میرا اے “ کہتی بھاگتی پھریں ۔ اسے کچھ سمجھ نہ آئی تو اس کو سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ سگریٹ سازکمپنی کا اشتہار تھا،ا سنے جب دیکھا کہ ماڈل بن ٹھن کر سگریٹ کے کش لگا کر لڑکیوں کا دل جیت سکتا ہے تو اس نے بھی سپر مین بننے کی کوشش شروع کردی ۔پہلی بار کھوکھے سے سگریٹ خریدے اور قریبی گرلز کالج کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔لڑکیاں اسکو دیکھتیں ،تو وہ زور سے کش لگاتا اور پھر بے نیازی سے ادائیں بنا کر انہیں متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ،لڑکیاں تو اسے مسخرہ سمجھ کر ہنس دیتیں اور فقیرے نے جانا کہ کیوپڈ کا تیر چل گیا ہے۔اسکی دیدہ دلیری بڑھی اور پھر ایک روز اس نے ایک لڑکی کو فُل سٹائل مارکر اپنے ساتھ بائیک پر بیٹھنے کی آفر کردی ۔بس پھر کیا تھا ۔اگلے روز چھٹی کے عین وقت پر فقیراجب سگریٹ کے کش مارتے ہوئے موٹر بائیک پربیٹھا وہی چھچھوری حرکت کررہا تھا ،اس لڑکی کے بھائی کزنوں کے علاوہ راہ چلتے لوگوں نے مار مار کراسکی سپرمینی نکال دی ۔

فقرے نے خود کو بدلنے کے لئے انداز بھی اپنایا تو اخلاق سے گرا ہوا،اب کیا ہوسکتا تھا ،اسکی زندگی پہلے بھی حماقتوں سے لبریز تھی اب سوا ہونے لگی تھی ۔یہ واقعہ سنا تو نہ جانے میں کیوں حیراں نہ ہوا ،مجھے اس پر غصہ نہیں آیا ، میں اکثر جب فقیرے کی باتیں اور اسکی وارداتوں کے متعلق سنتا تھا تو حیرت میں ڈوب جاتا اورسوچتا تھا کہ یہ بندہ زندہ کیسے ہے؟ لوگ اس کو برداشت کیسے کرلیتے ہیں ؟ اب مجھےسمجھ آرہی تھی ،ہر انسان اپنے دماغ کے ساتھ زندہ رہے تو بہتر ہے ، میرا خیال ہے لوگ اسے برداشت نہیں کرتے وہ لوگوں کو برداشت کرتا ہے تبھی تو ابھی تک زندہ ہے ورنہ کب کا مرکھپ چکا ہوتا ۔

فقیرا میرا بچپن کا دوست ہے ،نام اسکا چودھری محمد گلزار ہے لیکن اسکی معصومیت اور سادگی کی وجہ سے لوگ اسے فقیرا کہتے تھے ۔شکل و صورت سے ہی وہ مسکین اور احمق لگتا ہے ،اسکا فائدہ وہ خود نہیں اٹھاتا البتہ جب اسے ذرا سی ہلہ شیری دی جاتی ہے تو اس سے کوئی بھی احمقانہ اور الٹاکام کرایا جاسکتا ہے ۔مثال کے طور پر سکول کے زمانے میں جب ہم سب دوستوں کا اچھا کھانے کو دل مچلتا تو ہم ملک شاہ ولی کے دربار پر جمعرات کے روز چلے جاتے ۔چونکہ انتظامیہ ہمیں اچھی طرح جانتی پہچانتی تھی اور زائرین کو لفنگوں سے بچانا ان کا فرض عین تھا اسلئے ہم کسی فساد سے بچنے کے لئے فقیرے کو لنگر لانے کا کہتے تو وہ جھولی بھر کرلے آتا ۔زائرین اسکی صورت دیکھ کر مزید ترس کھاتے اور لنگر کے ساتھ کبھی نذرانہ بھی لے آتا۔سکاوٹنگ ٹرپ میں وہ ہمارے ساتھ جاتا تھا۔ایک بار مری کے مال روڈ پر فالودہ مفت میں کھانے کو دل مچلا تو فقیرے کی مسکین صورت نے ہمارا کام آسان کردیا تھا ۔ایسے ہی ایک دن کالج کی لڑکیوں کو دوپٹے  شانوں پر ڈالے بے نیازی سے مال روڈ پر گھومتے دیکھا تو  دوستوں کی رگ  پھڑکی اور کہ"فقیرے دیکھ کتنی بے غیرتی پھیل گئی ہے ،اب لڑ کیاں  دوپٹے سر پر نہیں لیتیں ،تو انکو سمجھاتا کیوں نہیں؟ " 

فقیرے نے یہ نہیں سوچا کہنہ وہ ان لڑکیوں کا ماما چاچا نہ بھائی ،چل پڑا اور بھروں کے چھتے کے پاس جا کر بولا" باجیو،سر پر دوپٹے لیا کرو،ننگے سر گناہ ہوتا ہے " یہ سن کر شوخ لڑکیاں  بھڑکیں لیکن اسکی  صورت دیکھ کرآپس میں  بولیں"پاگل لگتا ہے " ۔ فقیرے کو  ذرا سی توجہ اور ہلہ شیری چاہئے ہوتی تھی ۔پھر ہم اس سے کوئی بھی کام کروالیتے یا شرارتوں کا ایندھن بنالیتے  ۔اسی مزاج کے ساتھ وہ پلتابڑھتا رہا ۔

فقیرے نے آہ بھر کر آنکھیں کھولیں اور لرزتے ہوئے ہاتھ سے میرا ہاتھ تھام لیا " باو  توٹھیک کہتاتھا۔  میں اس دنیا کے قابل نہیں ہوں ،مجھے مرجانا چاہئے" 

"نہ کر فقیرے ،ایسا نہ سوچ ،تو بڑا بیبا بندہ ہے ،مر تو ہمیں جانا چاہئے ،ہم  تیرے قابل نہیں مرے یار" 

"مجھ  سے کوئی محبت نہیں کرتا باو  ،میں کیا کروں"اس نے اپنی پچکی ناک  پر بندھی پٹیوں پر ہاتھ پھیرا اور سسکا۔۔۔۔۔"  تو کج نہ کر فقیرے ،کوئی کسی کو نہیں بدل سکتا ،جس نے خود کو بدلا ،وہ بھی بعد میں روتا ہے ۔بس تو اپنے آپ میں ہی زندہ رہا کر"میں نے اسکی پیشانی بوسہ دیا ۔ایسا لگا جیسے آئینے کے روبرو کھڑے ہوکر میں نے اس میں اپنا آپ برسوں بعد چوما ہے۔"آئی لو یو فقیر" 

۔۔۔۔

مزید :

بلاگ -