جمہوریت کا تحفظ اور جمہوریت کی تلاش

جمہوریت کا تحفظ اور جمہوریت کی تلاش

پاکستان میں حکومت ہرقیمت پر جمہوریت کا تحفظ اور تسلسل چاہتی ہے اور حکومت مخالف قوتیں مل کر جمہوریت کی تلاش میں کوشاں ہیں۔آج کے اس کالم میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے یا نہیں ہے اور اگر جمہوریت ہے تو حکومت مخالف قوتیں کیسی جمہوریت کی تلاش میں ہیں، اگر جمہوریت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے تو حکومت وقت کس جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہتی ہے۔

جمہوریت کے موضوع پر بحث سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جمہوریت کیا ہے۔عرف عام میں جمہوریت کی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ عوام کی حکومت ہوتی ہے اور عوام ہی حکمران ہوتے ہیں اور یہ طرز حکومت عوام کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے۔ایک امریکی مدبر اور امریکہ کے دوسرے صدر جان ایڈم نے جمہوریت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے نہ کہ کسی شخص کی ۔امریکہ ہی کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے اسے یوں بیان کیا تھا کہ میری اپنی آنکھیں نہیں ہیں، بلکہ میرے پاس صرف آئین کی آنکھیں ہیں اور ان آنکھوں کے سوا میں کچھ نہیں دیکھ سکتا.... ۔ان دونوں صدور کے بیانات اور دیگر مشاہدات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس دور حکومت میں قانون کی حکمرانی نہ ہو، بلکہ قانون انسانی خواہشات کے تابع کردیا جائے تو اس طرز حکومت کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے، مگر وہ جمہوری حکومت کہلانے کی حقدار نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1947ءمیں معرض وجود میں آنے کے بعد ہمارے پیارے ملک پریا تو فوجی حکمران مسلط رہے ہیں، جسے ہم فوجی ڈکٹیٹرشپ کا دور کہتے ہیں یا پھر غیر فوجی یا سیاسی حکمران مسلط رہے ہیں،جسے ہم سول حکومت یا خوش فہمی میں جمہوریت کے نام سے یاد کرلیتے ہیں، مگر جمہوریت کی اصل روح کے مطابق کبھی بھی جمہوری حکومت نصیب نہیں ہوئی، جسے ہم عوام کی حکومت کہہ سکتے ہوں اور جو عوام کی بہتری کے لئے کام کرے۔پاکستان کے عوام کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا کام آتا ہے، مگر وہ الیکشن میں حصہ لے کر ایوان اقتدار تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان میں جو طریقہ انتخاب رائج ہے، اس میں چند ہزار کے مخصوص طبقے کے علاوہ کوئی عام شہری الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، کیونکہ الیکشن پر بے تحاشا اخراجات کئے جاتے ہیں ۔ کسی محب وطن اور متوسط طبقے کے شہری کے لئے الیکشن میں حصہ لینا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

اس طرزکے انتخابات میں چند ہزار پر مشتمل مخصوص طبقہ ہی حصہ لیتا ہے اور اپنے مخصوص انداز سے باربار ایوان اقتدار پر مسلط رہتا ہے۔اب تو حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ الیکشن کے ذریعے سے اقتدار پر مسلط ٹولے سے عوام کی جان چھوٹتی نظر نہیں آتی،کیونکہ پاکستان میں سیاست کو باقاعدہ تجارت اور وراثت کا درجہ دے دیا گیا ہے،جس کی وجہ سے اس طبقے کی سوچ یہ ہوگئی ہے کہ ”مال لگاﺅ اور مال بناﺅ“ اور اس سے بڑھ کر یہ رجحان بھی عام ہوگیا ہے کہ والد کے بعدبیٹا یا بیٹی اقتدار کے حقدار ہیں اور یہ ان کا ابدی حق ہے کہ پاکستان کے عوام پر حکمرانی کریں۔ان کا اقتدار میں آنے کا واحد مقصد عوام کی فلاح نہیں، بلکہ ریاست کے اثاثے لوٹ کر اپنا پیٹ بھرنا ہوتا ہے۔

پاکستان کے عوام یا حکومت مخالف قوتیں اپنے حقوق کے لئے اگر کبھی کوئی آواز اٹھاتی ہیں تو حکومت وقت کی طرف سے ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ہمیں پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہوا ہے۔یہ بات درست ہے کہ جب عوام نے کسی بھی قسم کے ٹولے کو پانچ سال کے لئے منتخب کرلیا ہے تو انہیں پانچ سال حکومت میں رہنا چاہیے، مگر یہ لازم ہے کہ اس عرصے میں وہ حکومت کریں۔اسلامی فلاحی ریاست میں طرز حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہوتا ہے، مگر موجودہ دور حکومت میں ہر قسم کی کرپشن ہر سطح پر انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ایک عام شہری کا جائز کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔رشوت کے بڑے بڑے سکینڈل زبان زدعام اور اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔اس امر کا نہایت ہی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی اسے اپنے لئے باعث ندامت نہیں سمجھتا اور سوسائٹی میں اس وجہ سے شرمسار ہونے کی بجائے مختلف پلیٹ فارموں پر فخر یہ انداز میں اس الزام کا تذکرہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ رشوت کے الزام تو سیاست دانوں پر لگتے ہی رہتے ہیں،جیسے ایسے الزامات کے بغیر سیاستدان کی شخصیت ادھوری رہتی ہے۔اپنی تقاریر اور ٹی وی پر ٹاک شوز میں سیاستدان اپنے بارے میں اور اپنے لیڈروں کے بارے میں فخریہ انداز میں بیان دیتے ہیں کہ ہم اتنے اتنے سال جیل میں رہے ہیں۔ایسے بیان دیتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جیل میں وہ اللہ کی عبادت کرنے یا اللہ کے بندوں کی فلاح کے لئے نہیں، بلکہ کسی جرم کی پاداش میں گئے تھے، ایسے کام کسی حکمران کے لئے طرئہ امتیاز نہیں، بلکہ ناپسندیدگی اور اس کی نااہلیت کاثبوت ہوتے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے دور میں اوجی ڈی سی ، این آئی سی ایل، پی آئی اے اور دیگر کارپوریشنوں میں جو حکمران تعینات کئے گئے ہیں اور عملہ میں جس بڑی تعداد میں غیر ضروری تعیناتیاں کی گئی ہیں، وہ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

آج کے دور میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ایک معمول بن گیا ہے،جس سے انڈسٹری بند ہوتی جارہی ہے۔ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔بے روزگاری اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کے دور میں بھی پیٹ بھرنے کے لئے روٹی اور تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا نہیں ہے۔مکان کی جگہ غریب عوام کو مرنے کے بعد قبر ہی نصیب ہوتی ہے۔وہ بھی قسمت یا نصیب سے ،ورنہ کچھ لوگ تو قتل و غارت کی بھینٹ چڑھ کر مرنے کے بعد بھی گلتے سڑتے رہتے ہیں۔امن و امان کی صورت حال اتنی ناگفتہ بہ ہوگئی ہے کہ دفتروں کو جانے والوں ،کاروبار کرنے والوں،سکول جانے والے بچوں غرض کہ گھر سے نکلنے والے ہر شخص کے لئے گھر والے خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ان دعاﺅں کے باوجود کچھ لوگ شام کو گھر واپس نہیں پہنچتے اور ان کی بوری بند لاشوں کی اطلاع بھی ان کے پیاروں کو کئی کئی روز بعد ملتی ہے۔بلوچستان میں اور دیگر مقامات پر ایسے واقعات ہر روز رونما ہوتے ہیں۔عدالت عالیہ میں بھی ایسے بہت سے معاملات زیر کارروائی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قانونی تحفظ سے محروم نظر آتے ہیں۔آئے روز پولیس پیرا ملٹری فورسز اور ملٹری کے نوجوانوں پر حملے ہوتے ہیں اور وہ فرائض منصبی کی انجام دہی کے دوران شہید ہوجاتے ہیں،کسی کا جان و مال محفوظ نہ ہے۔کراچی میں بھتہ خوری زوروں پر ہے اور کاروباری حضرات کا کوئی پرُسان حال نہ ہے۔مہنگائی سے عوام اتنے تنگ آگئے ہیں کہ نصف آبادی کو دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہے۔غربت سے تنگ لوگ خودکشی جیسے غیر اخلاقی اور غیر قانونی جرم کو گلے لگا کر ابدی نیند سو جاتے ہیں، اس کے برعکس چند ہزارلوگوں کا مخصوص طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ غریب عوام پر حکمرانی کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں، ان کے پاس اندرون ملک اور بیرون ملک اتنی دولت ہے کہ اس کے حجم کے بارے میں انہیں خود بھی صحیح اندازہ نہیں ہے۔

مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں قارئین نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ملک میں جمہوریت موجود ہے اور حکومت وقت کو ہر قیمت پر اس کا تحفظ کرنا چاہیے یا یہ کہ جموریت نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔حکومت کو بھی عوام کے ساتھ مل کر حقیقی جمہوریت کو تلاش کرنا چاہیے،جس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بن جائے اور یہاں عوام کی حکمرانی قائم ہو جائے اور غریب عوام کو دو وقت کا کھانا ،تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور سر کے اوپر چھت میسر آ سکے۔ ٭

مزید : کالم