میری وکالت، میری عبادت

میری وکالت، میری عبادت
میری وکالت، میری عبادت

  

گزشتہ ایک ہفتے سے وکالت کے پیشہ سے منسلک ہونے کے بعد جو سوالات اور احساسات میرے ذہن اور دِل میں پیدا ہوئے، ان میں سب سے نمایاں سوال یہ تھا کہ جب بھی کوئی پروفیشنل کسی خاص شعبے میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اس پیشے کے تقدس اور وقار کی قسم کھاتا ہے۔ وہ یہ بھی قسم کھاتا ہے کہ وہ اس کے تقدس اور وقار کو بحال رکھنے کے لئے لگن اور ہمّت سے کام کرے گا۔ ایک ڈاکٹر جب اپنے پیشے سے وابستہ ہوتا ہے، تو وہ یہ قسم کھاتا ہے کہ وہ کبھی کسی مریض کو دیکھنے ، اس کی مدد کرنے سے انکار نہیں کرے گا۔ ایک سپاہی بھی قسم کھاتا ہے کہ وہ اپنے وطن کی عزت اور حفاظت کی بنیاد کو مضبوط کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے اپنی جان اور اپنا خون خاطر میں نہ لائے گا۔

بحیثیت وکیل میرے ذہن میں یہ سوال نہایت شد و مد سے گردش کر رہا تھا کہ آخر ایک وکیل کی اپنے پیشے کو لے کر کیا کمٹمنٹ ہو سکتی ہے۔ ایک وکیل کیا قسم کھاتا ہے، جب وہ وکالت میں قدم رکھتا ہے، اس کے لئے چند نہایت محترم سینئرز سے بھی گفتگو کی، لیکن خاطر خواہ اور تسلی بخش جواب نہ پا سکا۔ فی الحال مَیں یہ تو نہیں جانتا کہ ایک وکیل کی قسم ، اس کا حلف کیا ہوتا ہے جیسا کہ مجھے اس شعبے سے وابستہ ہوئے ایک ہفتہ بھی پوری طرح سے مکمل نہیں ہوا، لیکن یہ سوال مَیں نے اپنے آپ سے اپنی ذاتی حیثیت میں ضرور کیا اور اس کا جواب بھی پایا، وکالت کا ہنر اور اس کا نقطہ عروج کیا ہوتا ہے۔ یہ تو میرے استادِ محترم یا کوئی سینئر ہی بتا سکتا ہے، مَیں تو صرف اپنی ذات کی حد تک ہی بات کر سکتا ہوں، اور اپنی ذات کو لے کر ہی مَیں نے اپنے اوپر چند شرائط لاگو کی ہیں، جنہیں مَیں بحیثیت وکیل نہ صرف اختیار کروں گا ، بلکہ سختی سے ان کی پابندی بھی کروں گا۔ مَیں نہیں جانتا کہ ایک وکیل کو وکیل بنتے وقت کیا قسم کھانی چاہئے، لیکن مَیں نے ایک وعدہ ، ایک قسم جو اپنے لئے منتخب کی ہے وہ مَیں آپ سے ضرور شیئر کروں گا۔

مَیں نے قسم کھائی ہے کہ جب بھی گھر سے آفس کے لئے نکلوں گا ،تو مَیں اپنے اندر ایسے ہی احساسات پیدا کروں گا جیسا کہ ایک نمازی نماز میں، ایک حاجی حج کے دوران اور ایک روزہ دار روزے میں پیدا کرتا ہے۔ لفظ ’’وکیل‘‘ خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور مَیں نے یہ قسم کھائی ہے کہ مَیں لفظ وکیل کی اس نسبت کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ مَیں نے قسم کھائی ہے کہ مَیں مظلوم کی چوکھٹ تک خود پہنچوں گا، نہ کہ اس مظلوم کو کچہری کے چکر اور تاریخوں کی دلدل میں گھسیٹوں گا۔ کہا جانا ہے کہ وکیل کی فیس اس کا حق ہوتا ہے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہیں، مَیں بھی اتفاق کرتا ہوں اس بات پر اور مَیں اس کے لئے نہایت بھاری اور اچھی خاصی فیس لوں گا، اور مظلوم کے دِل سے میرے لئے نکلی نیک دُعا ایک نہایت بھاری فیس ہو گی کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مظلوم کے دِل سے نکلی دُعا بغیر کسی رکاوٹ ساتویں آسمان پر سُنی جاتی ہے۔ان سب کے ساتھ ساتھ مَیں یہ بھی ضرور آپ سے شیئر کروں گا کہ آخر میری بھی کچھ خواہشات ہیں یا نہیں، جی بالکل میری بھی خواہش ہے کہ میرے پاس اچھا معیارِ زندگی ہو،اچھی گاڑی، اچھا گھر اور اچھی شہرت، لیکن ان سب مقاصد کی تکمیل کو لے کر ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا یا یہ کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو خداکونظر انداز کئے بغیر یہ سب شاید ممکن نہیں ہے۔

آپ میری بات سے ہزار اختلاف کریں، لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ تاثر پایا جاتا ہے، تو پھر اگر خدا کو نظر انداز کر کے یہ سب حاصل کرنا ہے تو دعویٰ ایمانی نہیں، کہ یہ بھی ہم روز کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ پر ایمان اور یقین ہے اس کی کیا اہمیت ہے۔ مجھے جس طرح سے اس پیشہ کے لوازمات بتا کر خبردار اور دوسرے لفظوں میں ڈرایا گیا ہے تو مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے خدا کا مجھ پر احسان ہے کہ مَیں اپنے ایمان کو پرکھ سکوں کہ آیا مَیں منافقین میں سے تو نہیں، یہ جو مَیں بچپن سے نعرہ لگاتا آیا ہوں کہ میرا اللہ پر ایمان ہے اور بات بات پر کہتا آیا ہوں کہ اللہ مالک ہے، اور تقریباً ہر مسلمان یہی نعرہ لگاتا ہے، تو مَیں اسے اپنے لئے ایک سنہری موقع سمجھ کر اس سے بھرپور فائدہ اٹھاؤں گا۔ اگر مَیں واقعی خدا پر ایمان رکھتا ہوں، تو مَیں انشا اللہ یہ ضرور ثابت کروں گا کہ اللہ کے راستے میں بھوک نہیں۔ میرا ایمان ہے کہ اگر خدا، خدا ہے تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا کے راستے میں بھوک ہو۔ یہ تاثر صرف اس لئے ہے کہ ہم اپنی بھوک سے زیادہ کھانا چاہتے ہیں، جو کسی طور بھی صحت اور زندگی کے لئے ٹھیک نہیں۔ اگر خدا کی بات پر شک ہے تو کم از کم ڈاکٹر کی ہی مان لو، بلکہ یہ بات تو مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ ضرورت اور بھوک سے زیادہ کھانا صحت کے لئے مضر ہے۔

مزید : کالم