دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر42

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر42
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر42

  

مدھو بالا کے بارے میں کچھ اور باتیں ہوجائیں ،وہ باتیں جن کی وجہ سے ہماری راہیں جدا ہوئیں۔یہ میں بتا چکا ہوں کہ اسکے باپ کی ہوس اسے لے ڈوبی، ورنہ ہم دونوں کو کوئی جدا نہ کرسکتا تھا ۔مجھے افسوس تو اس بات کا ہے میں نے جب بھی مدھو بالا کو قائل کرنا چاہا کہ اس کا باپ غلط راہ پر چلتااور اسکے مستقبل کو محدود کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے کمزور ارادوں اور فیصلوں کی وجہ سے میری بات نہ سنتی اور باپ کا ساتھ دیتی۔

فلم نیا دور شروع ہوچکی تھی۔اس میں مدھو بالا میرے ساتھ کاسٹ تھی ۔جب کافی شوٹنگ ہوچکی تو اسکے باپ نے جب مدھو بالا کو اس بنا پر کہ اسکی بیٹی پونا اور بھوپال میں شوٹنگ کے لئے نہیں جاسکتی تو پروڈیوسر ڈائریکٹر ایس بی آر چوپڑا نے اسکے خلاف مقدمہ درج کرادیا۔میرے حیرانی کا سبب یہ بات تھی کہ جب کنٹریکٹ لکھا گیا اور مدھو نے سکرپٹ پڑھا تو اس میں یہ ذکر موجود تھا کہ آوٹ ڈور شوٹنگ پر انہیں جانا ہوگا۔چوپڑاخود صحافت اور قانون کے طالب علم رہ چکے تھے اس لئے انہیں قانون کو استعمال کرنا آتا تھا اور انہوں نے یہ کام کرڈالا۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انہوں نے قدم اس وقت ہی اٹھایا جب میں مدھو بالا کو سمجھانے میں ناکام ہوچکا تھا ،پھر میں نے انہیں مشورہ دیا کہ ابھی زیادہ شوٹنگ نہیں ہوئی اس لئے زیادہ تاخیر یا پریشانی کی بجائے وجنتی مالا کو نیا دور میں کاسٹ کرلیا جائے ۔میں وجنتی کو جانتا تھا ۔میرے ساتھ دیوداس میں کام کرچکی تھی۔اسکو رول نبھانا آتا تھا۔چوپڑا صاحب خود اسکا کام پسند کرتے تھے۔

جب وجنتی کو کاسٹ کرنے کی بات چلی تو مدھو بالا کی جانب سے کافی شور اٹھا ۔یہ اتنا آسان کام نہیں تھا۔دوبارہ سے نئے سرے سے فلم کی شوٹنگ شروع ہونے کا مطلب ہوتا ہے پہلے سے جو فنڈز اخراجات اٹھائے گئے تھے وہ سب ضائع۔لیکن چوپڑا صاحب نے یہ رسک لیا ۔میڈیا نے لکھا کہ مدھو بالاکو میرے کہنے پر فلم سے الگ کیا گیا ہے۔مجھے غصہ تو چڑھا لیکن میں نے بھی چوپڑا صاحب کی طرح بعد میں خاموشی اختیار کی۔

وجنتی مالا کے کام کی پختگی نے مجھے بے حد متاثر کیاتھا۔’’نیا دور‘‘ کی شوٹنگ کے دوران ہی میں نے فلم ’’گنگا جمنا‘‘ کا خاکہ تیار کرلیا تھا اور ذہن میں بٹھا لیا تھا کہ جب میں یہ فلم بناوں گا تو وجنتی مالا کو اس میں لوں گا ۔وہ دھنو کے کردار میں خوب جچے گی۔

وجنتی مالا پر مزید کچھ کہنے سے پہلے دیوداس پر کچھ باتیں ہوجائیں۔

یہ ۵۴ء کے کا سال ہوگا شاید۔بمل رائے میرے پاس میرے دوست ہٹن چودھری کے ہمراہ آیا اور اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ دیوداس کے نام سے فلم بنانا چاہتا ہے جس میں میرا کردار جامع اور مختصر ہوگا۔اس نے مشورہ دیا میں ۳۶ء میں بننے والی کے سہگل کی فلم دیوداس دیکھ لوں اور ساتھ چندرا چاٹوپاڈیا کا ناول بھی پڑھ لوں ،میں نے کے سہگل کی فلم بالکل نہیں دیکھی تھی ۔اس نے مجھے ناول کا ترجمہ بھجوایا تو کہانی پڑھ کر مجھے کوفت محسوس ہوئی کیونکہ یہ محبت میں ناکام ہونے والے ایسے نوجوان کی کہانی تھی جو خود کو شراب کے نشہ میں گم کردیتا ہے۔میں ایسی راہ فرار حاصل کرنے والی کہانی کا کردار نہیں بننا چاہتا تھا لیکن جب میں نے غور کیا تو محسوس ہوا کہ یہ فلم یادگار بن سکتی ہے بشرطیکہ اس کا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا جائے ۔اس میں کردار کو جذب کرنے اور شعور و ذہانت کی ضرورت تھی۔

بمل رائے کو علم تھا کہ دیوداس حساس موضوع ہے ۔اس نے راجندر سنگھ بیدی اور نابندو گھوش کے سامنے سکرپٹ رکھا ، مجھے بھی مدعو کیا ۔اس پر کافی بحث ہوئی اور ایسے ڈائیلاگ لکھے گئے جو لامحالہ راجندر سنگھ بیدی کی مہارت کا ثبوت ہیں۔یہ ڈائیلاگ سالہا سال تک یاد رکھے جانے کے قابل تھے۔

میرے اور وجنتی مالا کے درمیان پیشہ وارانہ تعلقات دیوداس میں پیدا ہوگئے تھے اور اس کا فائدہ نیا دور اور پھر اسکے بعد مدھو متی میں ہوا۔ وہ کرداروں کا مطالعہ کرکے کام کرتی تھی۔

بمل رائے ایک نفیس اور صابر انسان تھا ۔دوسروں کو تکلیف نہیں دیتا تھا ۔اسکا کہنا تھا کہ اس نے اپنا کام خود کرنے کا سبق اس وقت سیکھا تھا جب اسکی ماں اور اسے بھیڑیوں کے سامنے پھینک دیا گیا تھا اور اس نے لڑنااور جینا خود سیکھا۔میں نے دیوداس،مدھو متی اور یہودی کے نام سے تین فلموں میں بمل رائے کے ساتھ کام کیا ۔میں اسکے کام کے منفرد سٹائل کو بے حد پسند کرتا تھا۔اس سے ہماری ٹیم کو بڑا چھا وقت بھی گزارنے کا موقع ملتا رہا ۔

میں نے جب وجنتی مالا کو گنگا جمنا میں کاسٹ کیا تو میرے اور اسکے درمیان کوئی تعلق اور بندھن جوڑنے کی خبریں شائع ہونے لگیں ۔یہ کوئی نیا اتفاق نہیں تھا ۔وجنتی اس سے پہلے میرے ساتھ چارفلموں میں کام کرچکی تھی لیکن گنگا جمنا جو 1961 ء میں ریلیز ہوئی تھی،اس نے آتش فسانہ کو بڑھا دیا تھا ۔میں نے اس پر کوئی وضاحت نہ کی اور خاموش رہا۔ایسے فسانوں پر کیا بات کی جاسکتی تھی جن میں کوئی حقیقت نہ تھی۔

وجنتی مالا اپنی دادی کے ساتھ سیٹ پر آیا کرتی تھی۔نہایت ادب کرتی تھی ان کا۔ہر بات مانتی تھی،جب شوٹنگ رکی ہوتی تو وجنتی بیڈمنٹن کھیلنے لگتی تھی۔وہ اس کھیل میں ماہر تھی۔دادی اسکو بیڈمنٹن کھیلتے دیکھتی تو فخر کرتی تھی۔وہ ایکٹرس نہ بھی ہوتی تو اچھی پلئیر ضرور بن جاتی ۔(جاری ہے )

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /میں ہوں دلیپ کمار