“ بندر بانٹ“

“ بندر بانٹ“
“ بندر بانٹ“

  


 گزشتہ تین ماہ سے ملک میں عجیب طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ایک پر ایک واقعہ رونما ہوئے چلا جا رہا ہے اور رونمائی کی شدت ایسی ہے کہ غور و فکر تو کیا کسی ایک واقعے کے پرپیچ نشیب و خم سے نکل کر اِ س پر کچھ پڑھنے اور پھر لکھ سکنے سے پہلے ہی ایک اور شدید قومی نوعیت کا نیا معاملہ سرزد ہو چکا ہوتا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ دراصل ان تمام واقعات کی ابتداءتو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے لیے بلائے گئے سیشن کے دوران خواجہ آصف کی طرف سے بجٹ بانٹ پر کی جانے والی قابل اعتراض تقریر اور پھر ان کے بیانات سے ہوئی۔ سابق فوجی سربراہ جنرل (ر)سید پرویز مشرف کے کیس کو لے کر حکومت کے لیے معاملات پہلے ہی بہت آسان نہیں تھے کہ ا س پروزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر حکومتی وزراءاور شخصیات کی جانب سے عوامی پذیرائی کے لیے دیے جانے والے بیانات نے عسکری و جمہوری اداروں کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا۔ وزیر دفاع نے عسکری اداروں کے حق میں بیان تو دیا لیکن وہ اِک دفاعی بیان حکومت اور فوج کے درمیان حائل دراڑ کوپر نہ کرسکا۔ ابھی وہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ19 اپریل کو حامد میر پرحملے کے بعد جیوکی جانب سے کی جانے والی غلطی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پھر رہی سہی کسر شائستہ لودھی کی جانب سے کی جانے والی ’در غلطی ‘نے نکال دی۔بس پھر کیا تھاملزم تو اپنی جگہ لیکن اللہ واسطے یا شوقیہ دشمنی رکھنے والے مخالفین نے بھی شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کا ثبوت دینے کی کوشش میں دھماچوکڑی مچا کر رکھ دی۔یہاں تک کہ کچھ ادارے تو اس چھان بین میں لگے ہوئے ہیں کہ نہ جان نہ پہچان والے اِن نئے دوستوں کے روپ میں کہیں پاکستان کا دیرینہ دشمن تو وار نہیں کر رہا کیونکہ ایسا موقع تو قسمت سے ہی ملتا ہے ۔ شیخ رشید صاحب کی عید قربان سے پہلے قربانی کی پیش گوئی پر ایمان لاتے ہوئے ،11 مئی کو انتخابات میں دھاندلی کا علم ا ٹھائے عمران خان شکست کو فتح میں بدلنے چل نکلے۔ عقل کے کچوں اور خون کے گرم کھلاڑیوں کی ٹیم بنا کر شدید گرمی میں میچ کھیلنے کے لیے کبھی ایک تو کبھی دوسرے میدان میں نیٹ پریکٹس شروع کردی گئی۔ ابھی قوم نیوز چینلز پر ہر انداز سے دکھائی جانے والی ’رنگا رنگ ‘اچھل کود کا مزہ لے ہی رہی تھی کہ اچانک ہی ناکام انقلابی باباکو پھرسے انقلاب آ گیا۔ انہوں نے کینیڈا جیسے ٹھنڈے ملک سے گرم انقلاب امپورٹ کرنے کااعلان کرتے ہوئے سال کے لمبے اور گرم ترین دنوں کا انتخاب کیا اور 23جون کی شدید گرمی میں انقلاب کا استقبال گواہ ہے کہ قربانیوں کا فیصلہ ہو چکا تھا؟ امپورٹڈ انقلاب کے ’خونی استقبال ‘کے لیے 16 اور 17جون کی درمیانی شب ماڈل ٹاﺅن میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ ایک چھوٹا انقلاب آ چکا لیکن ا±ن بیچارے جان گنوانے والوں کے گھروں میں ،،،جن کے بارے میں ابھی تک یہ طے نہ ہو سکا کہ آخر وہ کس کے کہنے پر کس کی گولی کا نشانہ بنے اور پھر ظلم یہ کہ میڈیا پر قابض نالائقوں کی فوج کے لیے صحافت سے زیادہ گلو بٹ اہم ٹھہرا۔راکھ گواہی دے گی کہ ماچسیں تماش بینوں کے بنائے مداریوں کے پالے بندروں کے ہاتھوں میں ہی تھیں؟ جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کے باوجود 20 جون کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریشر کم کرنے کے لیے وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور اپنے پرسنل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کی قربانی دے دی۔ بہتر تو یہ تھا کہ مطالبات سے پہلے ایسا کر لیا جاتا لیکن چلو دیر آید شاید درست آید۔ جوڈیشل کمیشن کو البتہ اب معاملے کی اس قدر گہرائی سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں براہ راست اور بالواسطہ شامل دونوں اطراف کے لوگوں کا تعلق کس کس سے ہے اورماضی میں کس کس سے رہا ہے۔ ا ن کا خاندانی بیک گراﺅنڈ کیا ہے اور کس کس سیاسی و غیر سیاسی لیکن بااثر شخصیت کی بدولت وہ افراد اس جگہ تک پہنچے ہیں۔ اپریل سے لے کر اب تک کون کس کس سے ملا اور کس کس سے مختلف مواصلاتی ذرائع کے ذریعے راز و نیازکیے گئے۔ دوسرے ممالک خصوصاً بھارتی وفود اور ان کے دوروں کو بھی انتہائی باریک بینی سے پرکھا جاناچاہئے ۔ انقلاب کی نویدسنا نے والے ایک سیاسی خاندان کے بارے بھی یہ زبانِ زد عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں ان کے رشتہ دار جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔کہیں امپورٹڈ انقلاب کو خون سے سینچے جانے کی ذمہ داری ا نہوں نے نہ نبھائی ہو۔

خواجہ آصف کی تقریر سے لے کر رانا ثناءاللہ کے مستعفی ہونے تک کے معاملات میں ایک چیز تو عوام کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اسٹیبلشمنٹ کا دوست کون ہے اور دشمن کون۔ جس بات کی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ آخر پاکستان میں سونے کی چڑیا کب داخل ہوئی جسے ذاتی پنجرے میں قید کرنے کے لیے ہر کوئی بپھرا ہوا ہے۔

 جون کی بھون دینے والی گرمی میں آٹھ سے بیس گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ میں بلبلاتے عوام کی ’ گالیاں کھانے کا شوق سب کو یکا یک کیوں ہو گیا؟ سبھی پھر سے جمع ہو جانے والے سینکڑوں ارب کے گردشی قرضے کو ادا کر نے کو تیار ہیں؟ عمران خان کا دعویٰ تو ایک طرف، باقی سب بشمول بزرگ چوہدری برادران کہ وہ فوراً مڈ ٹرم انتخابات میں نہ صرف امیدوار”پیدا“کر لیں گے بلکہ وہ سب کے سب جیت کر اسمبلی میں انہیں دوتہائی اکثریت بھی دلوا دیں گے۔

 عمران خان کی خیبر پختونخواحکومت صوبے کا مالی سال 2013-2014ءکاآدھے سے زیادہ ترقیاتی فنڈ ہی استعمال کر لیتی تو ا±مید ہو جاتی کہ چلو یہ بچے بھی کبھی جوان ہو کر ملک میں کچھ بہتری لانے کے قابل ہو جائیں گے۔ لیکن مایوس نہ ہوں، انقلابی بابا پاکستان کو جنت نظیر ہی نہیں بےنظیربھی چھڑی گھماتے ہی بنا سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک طرف تو ایک کا دس کرنے کا ہنر جانتے ہیں تو دوسری طرف امپورٹڈ انقلاب کے ساتھ ’فارن کرنسی عطیات ‘بھی تو پاکستانیوں کے ’جنتی ‘مستقبل کے لیے ساتھ لا رہے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بابا جی کے اہل و عیال ان عطیات کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ انقلابی بابا، ا ن کے صاحبزادوں بشمول بیگمات اور بچوں ، صاحب زادیوں بشمول دامادوں اورنواسوں ، تمام نزدیک اوردور کے رشتہ داروں ، ان کے زیر انتظام چلنے والے تمام اداروں اور وہاں کے سٹاف کے اکاﺅنٹس کو بھی جوڈیشل کمیشن کی جانب سے تحقیقات کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ پتہ چل سکے کہ عرصہ دراز سے ’اللہ کے نام پر مریدین‘کی جانب سے جمع کرائے ملکی و غیر ملکی کرنسی عطیات دن دو گنا، رات چو گنا کرنے کے لئے ذاتی سرمایہ کاری کے کام آ رہے ہیں یا اِس انقلاب کے بعد پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔ پاکستان کو بھی نہ صرف برطانوی طرز پر’عطیات ‘کی تحقیقات کی ضرورت ہے بلکہ فوری طور پر قانون سازی بھی اسی طرز پر کی جانی چاہئے کیونکہ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کے لیے سب سے موثر ذریعہ”منی لانڈرنگ عرف عطیات“کو ہی تصور کیا جاتا ہے۔ ا±مید کی جا رہی ہے 23جون سے وہ تمام لوازمات جن سے بابا جی اور ا ن کے اہل و عیال کے ساتھ ساتھ عزیز واقارب لطف اندوز ہوتے ہیں ، پاکستان کا بچہ بچہ تو کیا ہر بڑا بوڑھااستفادہ کر سکے گا۔ یہی نہیں گزشتہ ناکامی سے سبق سیکھتے ہوئے اِس دفعہ وہ کچھ ایسا بھی ضرور کریں گے کہ ان کے اور مریدین کے درمیان ٹھنڈا کنٹینر حائل نہ ہو اور کسی کواسلام آباد سے داتا دربارتک شدید گرمی میں بھی جھلسنا نہ پڑے۔ سسٹم کو بدلنے کی یہ پہلی جھلک ہو گی کہ محمود و ایاز ایک جیسے موسمی حالات میں سفر کریں گے اور پورا عالم دنیا پر جنت کی جھلک دیکھنے کے لیے براہ راست محو تماشہ ہو گا۔ دوسرا فوری ریلیف ہو سکتا ہے کچھ ایسے پہنچایا جائے کہ امپورٹڈ انقلاب کے ساتھ آنے والے ڈالرز کی شکل میں موجود مال غنیمت سب میں بلا تفریق تقسیم کیا جائے گا تاکہ جہنم جیسے مسائل میں گھرے عوام سکھ کا سانس لے سکےں۔قوی امکان ہے کہ مال غنیمت بزرگ چوہدری برادران کے ذریعے حصہ بقدر خدمات انتہائی انصاف کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔ ہاں البتہ ا ن کے مخالفین یہ سوچ سمجھ لیں کہ مشرق وسطیٰ طرز کے ’سپانسرڈ‘ انقلاب کی بنیادیں خون سے سینچی جا رہی ہیں اور اس کی عمارت کی دیواروں کو ہر روز علی الصبح اور شام میں خون سے ہی ’تر ‘کیا جا نا پڑے گا اور یہ خون یقیناً ا نہی کا ہو گا۔ بہت سوچا ،بہت سمجھا پھر یہ قلعی کھلی کہ مسئلہ دراصل بانٹ سے شروع ہوا تھا اور آئندہ پانچ سالوں میں چین کی جانب سے ملنے والے 50ارب ڈالر سے زائد کی بانٹ کا ہی ہے۔اس سرمایہ کاری کا دہشت گردی کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں اس لیے بعض کو لگتا ہے کہ اس کا فائدہ موجودہ حکومت کو آئندہ انتخاب میں ایسے ملے گا کہ باقیوں کی دال نہیں گل پائے گی جبکہ بعض فریق اپنے حصے کو کم ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔سب یہ جان لیں کہ کسی انقلاب یا موجودہ حکومت کی غیر موجودگی میں چین یہ سرمایہ کاری پاکستان میں کسی صورت نہیں کرے گا۔اہل دانش خصوصاً وہ جو ملکی بقاءکے ذمہ دار بھی ہیں چال کے پیچھے چھپی سازش کو سمجھیں کہ ایجنٹوں کی کوئی سیاسی جماعت یا ایجنڈا نہیں ہوتا ماسوائے دیے گئے حکم کی تعمیل کے اور مشرق وسطیٰ اور وہاں کے حالات بھی سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

مزید : کالم


loading...