امن اور اسلام

امن اور اسلام
امن اور اسلام

  

کہا جاتا ہے سائنس و ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی ہے اب انسان تعلیم یافتہ ہے ،مہذب ہے ،باشعور ہے ،وغیرہ لیکن ادب سے گزارش ہے ۔ دنیا سے امن کے خاتمے کے لیے یہ جدید اسلحہ ،مہلک ایجادات بھی تو تعلیم یافتہ ،مہذب ،انسانوں نے ایجاد کیے ہیں ۔امن کیسے ممکن ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے ۔اس سوال کے جواب سے پہلے ایک تلخ بات کہنا چاہتا ہوں ۔ہم دیکھتے ہیں امریکہ امن چاہتا ہے ،افغانستان امن چاہتا ہے ،بھارت امن کا خواہاں ہے ،فلسطین و پاکستان ،اسرائیل و دیگر تمام ممالک کے ساتھ ساتھ اس دنیا کا ہر باسی ،ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کو دنیا دہشت گرد کہتی ہے ،بے شک وہ دوسروں کو کہتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب سب امن چاہتے ہیں تو پھر بھی دنیامیں امن کیوں نہیں ہے ۔

اسی سوال کے جواب پر ہی دنیا میں امن ممکن ہے ۔اصل میں وہ جو ایک طرف امن امن کی رٹ لگا رہے ہیں، دوسری طرف دنیا میں انارکی پھیلا رہے ہیں ۔خیر اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طر ف اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف دینی، سیاسی اور لسانی گروہوں کے مسلح وِنگ ختم کئے جائیں۔تمام مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے،اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جرائم تب پھلتے پھولتے ہیں، جب قانون کی عمل داری کمزور پڑ جائے۔ اور انصاف کا حصول صرف دولت اور طاقت کے ذریعے ممکن بنا دیا جائے۔

پھر وہی بات اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا ،اگر ان پر عمل ہو جائے تو بھی کافی حد تک دنیا میں امن ممکن ہے ۔لیکن اقوام متحدہ کو کون مجبور کر سکتا ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے ان قراردادوں پر بھی عملدرآمد کرے ، جنہیں اس ادارے کے اندر منظور کیا گیا۔لیکن اگر یہ قرارداد عراق ،افغانستان ،کے خلاف منظور ہو تو فورا عمل ہوتا ہے ۔مجھے کہنا یہ ہے کہ جو ادارے امن کے ضامن ہیں وہ ہی نہیں چاہتے کہ دنیا میں امن ہو ۔اب دیکھیں امن کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھاکہ دنیا میں اسلحہ کے سپلائرز انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ دوسری طرف یہ ادارہ سامراجی قوتوں کے جارحانہ عزائم کو تحفظ فراہم کیے ہوئے ہے جن کی وجہ سے عالمی امن مسلسل خطرے سے دو چار چلا آرہا ہے ۔

ا مریکہ اور اقوام متحدہ کی امن دشمنی پرمبنی فیصلوں کی وجہ سے آج پوری دنیا میں فتنہ و فساد برپا ہے ۔دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے ۔آزادی اظہار رائے کا احترام ضروری ہے لیکن اسکی حدود متعین کی جائیں ۔اقوام متحدہ اور امریکہ جب تک اپنی موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرتے اور ایک نئے تعارف کے ساتھ اقوام عالم کے سامنے نہیں آجاتے اس وقت تک ’’عالمی امن‘‘ ایک خواب رہے گا۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا امن کا تعلق صرف جنگ سے ہے ۔جنگ نہ ہو تو کیا امن ہوتا ہے تو پھر ان ممالک میں امن ہونا چاہیے جہاں جنگ نہیں ہے ۔ایک بات اور بھی غور طلب ہے جب انسان بے سکونی ،عدم تحفظ کا شکار ہو تو کیا وہ امن سے ہوتا ہے ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں ہے دلوں کا سکون امن سے ہے اور بے سکونی امن نہیں ہے ۔دنیامیں امن ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ہم کو دین اسلام کو خود اپنی ذات ،ملک پر نافذ کرنا ہو گا، کیونکہ اسلام سراپا دین امن ہے، پیغمبر اسلامﷺ پیغمبر امن ہیں اور ان کا لایا ہوا دین، دین امن ہے ،اسلام کی آفاقی تعلیمات پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے ،ملک میں امن قائم کیا جا سکتا ہے ،شہر ،گھر ،انسان کی ذات امن و سکون کی دولت سے مالا مال ہو سکتی ہے ۔اس کے لیے اسلام کا نظام حیات نافذ کرنا ہو گا ۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -