”روٹی“ جیسی غذا کی وہ انمول افادیت جواللہ کے رسولﷺ نے بیان فرمائی

”روٹی“ جیسی غذا کی وہ انمول افادیت جواللہ کے رسولﷺ نے بیان فرمائی
”روٹی“ جیسی غذا کی وہ انمول افادیت جواللہ کے رسولﷺ نے بیان فرمائی

  

لاہور (حکیم محمد عثمان) روٹی انسان کی من پسند غذا ہے ،چاہے کھانے اور پیٹ بھرنے کو اُسے جو بھی مل جائے ،اگر روٹی نہ ملے تو اس کا موڈ آف ہوجاتا ہے۔روٹی کو طاقت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی اچنبھا بھی نہیں ۔روٹی چاہے گندم کی ہو،جو کی یا میدہ سے ہی کیوں نہ بنی ہو ،یہ معدہ کو فعال رکھتی اور انسان کو شاداب و مطمئن رکھتی ہے آج دنیامیں روٹی پر بہت زیادہ تحقیق ہورہی ہے اور اسکو صحت کے لئے مضر بھی قرار دیا جاتا ہے جبکہ روٹی میں ایسے خواص موجود ہیں جو انسان کے لئے راحت اور توانائی کا باعث بنتے ہیں۔بحثیت مسلمان ہمارے لئے تو روٹی بابرکت غذا ہے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ روٹی بڑے ذوق اور شوق سے تناول فرماتے تھے۔روٹی کو عربی میں خبزکہا جاتا ہے ۔صحیح بخاری اور مسلم میں اس حوالے سے احادیث موجود ہیں۔ابو داودؓ نے اپنی سنن میں حدیث ابن عباسؓ کو نقل یوں کیا ہے” رسول اللہﷺ کی سب سے مرغوب غذا روٹی سے بنی ہوئی ثرید اور گھی‘ کھجور اور ستو سے تیار کی ہوئی ثرید تھی“اسیطرح دوسری حدیث میں ابو داو ¿د ابن عمرؓسے روایتکرتے ہیں ”رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس گیہوں کی روٹی ہو جس میں گھی ملا ہوا ہو‘ اور دودھ میں بھگوئی ہو ،قوم کا ایک شخص کھڑا ہوا اور جاکر ان چیزوں کو تیار کرکے آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا‘ آپ ﷺنے دریافت کیا کہ گھی کس برتن میں تھا‘ اس نے بتایا کہ گھی کے ڈبے میں تھا‘آپﷺ نے فرمایا کہ اسے اٹھالے جا “

روٹی تازہ ہو یا خشک و پرانی ،پتی ہو یا بھاری،کچی ہو یا زیادہ پکی ،میدے کی ہو یا بھوسی والی اسکے بارے میں بہت سے مغالطے پائے جاتے ہیں ۔اطبا کرام کا کہنا ہے کہ روٹی کی عمدہ اور اعلیٰ ترین قسم وہ ہے جو خمیری اور عمدہ گوندھی ہوئی ہو‘ پھر تنور کی پکی ہوئی روٹی کا درجہ ہے اس کی اعلیٰ قسم تنور پر پکائی ہوئی روٹی پھر اس کے بعد بھوبھل میں پکائی ہوئی روٹی ہے‘ اور سب سے عمدہ روٹی نئے تازہ گہیوں سے تیار کی جاتی ہے۔غذا کے طور پر سب سے زیادہ مستعمل سفید گیہوں کی روٹی ہے۔ یہ دیر ہضم ہوتی ہے کیونکہ اس میں بھوسی کی مقدار کم ہوتی ہے ۔اس کے بعد میدہ کی روٹی اور پھر بن چھنے آٹے کی روٹی ہوتی ہے۔

اس کے کھانے کا بہترین وقت یہ ہے کہ روٹی جس دن پکائی جائے اسی دن کی شام کو کھائی جائے‘ نرم روٹی سے ہضم ہوکر جلد ہی معدہ سے نیچے اتر جاتی ہے اور خشک روٹی اس کے بر خلاف ہوتی ہے۔گیہوں کی روٹی کا مزاج دوسرے درجہ کے درمیان میں گرم ہے‘ اور رطوبت ویبوست میں اعتدال کے قریب ہے اور یبوست کا مادہ اس میں آگ پر پکانے کی وجہ سے ہوتا ہے جتنی زیادہ پختہ ہوگی اس میں اتنی زیادہ خشکی ہوگی اور جتنی کم پختہ ہوگی اسی حساب سے اس میں رطوبت ہوگی۔گیہوں کی روٹی میں غیر معمولی طور پر فربہ کرنے کی خاصیت موجود ہے ۔ البتہ اس میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے اور دیر میں معدہ سے نیچے اترتی ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -