نبی پاکؐ کا مقام و احترام

نبی پاکؐ کا مقام و احترام

سچے مسلمان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ نبی اکرم ؐ کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لے،لیکن سوچنے کی بات ہے کہ حقیقی عزت و احترام کیا ہے اور اس کے اظہار کا طریقہ کیا ہے؟بے شک سچا ادب و احترام وہی ہے جو دل سے ہو،نہ کہ زبان سے،اعتقاد چیز ہی ایسی ہے جو دل و دماغ سے تعلق رکھتی ہے،لیکن اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی قابل لحاظ ہے،کہ دل اعتقاد کا ترجمان ہے یا صرف زبان اور اعمال کا اعتراف۔اگر آپ اپنے والدین کو ’’تم‘‘ کر کے خطاب کریں تو گو آپ کتنا ہی کہیں کہ تعظیم کی جگہ دل ہے،زبان نہیں،کوئی بھی آپ کو والدین کا احترام کرنے والا نہیں کہے گا۔اسی لئے اسلام نے ایمان کی تعریف ہی یہ متعین کی ہے ،اقرار زبان سے،تصدیق دل سے اور عمل اعضاء سے۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ جو نام دل کو محبوب و محترم ہو،وہ زبان پر نہ گزرے اور محبت و احترام سے خالی ہو؟حقیقت یہ ہے کہ دلی اعتقاد ایک بیج ہے جو بغیر محبت کے بار آور نہیں ہوتا اور محبت کے لئے احترام و تعظیم و تکریم پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ ان کی تعظیم کرو اور احترام بجا لاؤ۔ ایمان تو ازسرتاپا محبت ہے اور وہ ایمان نہیں جو محبت سے خالی ہو۔ایک جلیل القدر محدث سے جب پوچھا گیا کہ علم حدیث سے اس درجہ شغف کیوں ہے؟اس نے کہا اس لئے کہ اس میں بار بار قال رسولؐ کا جملہ آتا ہے،اس طرح اسم گرامی کے ذکر اور اس پر درود و سلام عرض کرنے کی سعادت ہاتھ آجاتی ہے۔

بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ آیا،نبی اکرم ؐ مکان میں تشریف فرما تھے۔نادانوں نے دروازے سے آپؐ کا اسم گرامی لے کر پکارنا شروع کردیا،اللہ کو اپنے محبوب کے ساتھ اتنی گستاخی بھی گوارا نہ ہوئی اور ارشاد ہوا۔

’’جو آپ کو بلند آوازسے پکارتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جن کو مطلق عقل اور تمیز نہیں بہتر تھا کہ صبر کرتے اور جب آپ باہر نکلتے تو مل لیتے‘‘۔

’’اے مسلمانو جب میرے نبی پاک ؐ کے حضور عرض حال کرو تو اپنی آواز بلند کر کے گفتگو نہ کرو اور نہ بہت زور سے بات چیت کرو جیسا کہ تم آپس میں کیا کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کے سبب تمہارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو‘‘۔

اللہ کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ آپؐ کی جناب میں اونچی آواز سے گفتگو کی جائے،چہ جائیکہ تعظیم و تکریم کے بغیر نام لیا جائے۔قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے،کہ اللہ نے سب سے پہلے خود اس امتیازی شان کا نمونہ ہر جگہ قائم رکھا ہے۔جس قدر انبیاء اولوالعزم سے تخاطب کے مطابق چاہئے تھا،کہ اللہ تعالیٰ آپ ؐ کو بھی یا محمد یااحمد کہہ کر پکارتا،مگر اللہ کو اس درجہ آپؐ کا احترام کرنا مقصود تھا،کہ تمام قرآن میں ایک جگہ بھی آپؐ کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا،بلکہ جہاں کہیں پکارا ہے یا تو صدائے تعظیم و تکریم سے یا پھر صدائے محبت و عشق سے۔

اللہ آپؐ کے نام کے احترام کی مثال کیوں نہ قائم کرتا،حالانکہ جس طرح شہر کی خاک آپؐ کے قدموں سے مس ہوئی ہے اس کو تو وہ بھی اس درجہ محبوب ہے کہ اس کی قسم کھاتا ہے۔

’’اے پیغمبر ہم شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں اور اس لئے کہ تم اس میں مقیم ہو‘‘۔

’’جو لوگ ایمان لائے ان کی محبت نہایت شدید ہے‘‘۔

اسی طرح اللہ نے اعلان فرمایا :

’’اگر واقعی محبت الٰہی کے مدعی ہو تو رسولؐ کا اتباع کرو؟خود اللہ تم کو اپنا محبوب بنائے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے‘‘۔

ایک حدیث میں ہے: جب سیدنا عمرؓ نے آپؐ سے فرمایا کہ مجھے آپ تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہیں،البتہ میری جان سے زیادہ نہیں۔تو آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے نفس سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھو‘‘۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے فرمایا آپؐ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ تب آپؐ نے فرمایا: ’’اے عمر ؓ تیرا ایمان مکمل ہو گیا‘‘۔

یہ اسلام کا سب سے اولین تقاضا ہے ،اور اس سے ہٹ کر کوئی اسلام کا راستہ نہیں اور اللہ کا حکم ہے:

’’جو کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کا خواہش مند ہو گا تو وہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت کے دن اس کی جگہ تباہ و نامراد لوگوں میں ہو گی‘‘۔

***

مزید : ایڈیشن 1