ہماری ترجیحات

ہماری ترجیحات
 ہماری ترجیحات

  

بدقسمتی سے ہم پاکستانیوں کے بارے میں دنیا میں عمومی تاثریہ پایا جاتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں چاہے وہ معاملہ قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کا ہی کیوں نہ ہو،ریاست کی حفاظت کے لئے قبل از وقت احتیاطی تدابیر کرنے اور قانون شکن عناصر کے خلاف اس وقت تک کسی بھی عملی کارروائی سے گریز کرتے ہیں، جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے۔ مختلف گروپس ہماری آنکھوں کے سامنے قومی یکجہتی اور ملکی سالمیت کو چیلنج کرتے پھرتے ہیں، مگر صاحبان اختیار ہمیشہ کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے منتظر رہتے ہیں، جس کے بعد ہمارے قومی سلامتی کے ادارے حرکت میں آتے ہیں۔ ہماری حالیہ تاریخ تو اس رجحان کا بین ثبوت ہے۔انسدادی کی بجائے انتقامی کارروائی ہماری ترجیحات میں اولیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوات آپریشن اور وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کے لئے بھی باوجود صورتحال کے واضح ہو جانے کے ہم نے کچھ خاص واقعات کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کیا تھا۔اب تک سالہاسال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا سارا انحصار فوجی کارروائیوں پر ہے، نہ جانے کیوں کسی ایسے منصوبے پر غور نہیں کیا جاتا، جو دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے رجحان کی حوصلہ شکنی میں کار آمد ثابت ہو سکے۔

کچھ خاص علاقوں کو ہم نے پن پوائنٹ کر لیا ہے کہ یہ علاقے دہشت گردی کی نرسریاں ہیں، مگر کیا ہم نے ان خطوں کے لوگوں کا رہن سہن اور روزی کمانے کے وسائل پر غور کیا ہے۔ہم یہ کیوں فرض کر بیٹھے ہیں کہ دشوار گزار خطوں کے باسی ہمیشہ ہی شہروں میں آکر جوتے پالش کرتے رہیں گے یا تعمیراتی کام میں گڑھے کھودنے والے مزدور کا کردار ہی ادا کرتے رہیں گے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ غیرت مند روزگار انکا بھی حق ہے اور یہ حق ان کے اپنے علاقوں میں دیا جانا بہت سے مسائل کا واحد حل ہے۔پہاڑی دروں اور بے آب و گیاہ وادیوں میں رہنے والے یہ ذہین نوجوان اگر اسلحہ بنانے کی غیر قانونی فیکٹریوں میں کام کر کے اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر سکتے ہیں تو کیا یہ ہنر مندی کسی جائز صنعتی کام میں ملک و قوم کے فائدے کے لئے استعمال نہیں کی جاسکتی۔ ہم کیوں یہ انتظار کرتے ہیں کہ بھوک سے تنگ کوئی نوجوان ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں جب اپنی جرات اورذہانت بیچ دے تو اس پرچڑھ دوڑیں۔اس طرح ہونے والے اخراجات کا اگر بہت تھوڑا حصہ ان علاقوں میں روزگار کی سہولتیں مہیا کرنے میں لگا دیا جائے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر صرف کیا جائے توآپریشن کی شاید ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

حالات یہ ہیں کہ ملک کا بہت بڑا علاقہ فاٹا اور پاٹا کی صورت میں آج تک خاص قوانین کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ قوانین جہاں ایک طرف پولیٹکل ایجنٹ کو شہنشاہی اختیارات سے نوازتے ہیں وہیں ان علاقوں میں قانون شکن عناصر کو کھل کھیلنے کے بے شمار مواقع بھی مہیا کرتے ہیں۔حیرت اس پر ہے کہ کئی بہت محترم سیاسی شخصیات کچھ ذاتی اور بیرونی ایجنڈے کے تابع اس فیصلے کی بھی مخالف ہیں کہ ان علاقوں کو باضابطہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنادیا جائے۔اس مخالفت کی انتہائی بودی دلیل یہ دی گئی ہے کہ فاٹا کا اپنا خاص کلچر ہے، جس کے اس انضمام سے تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کیا یہ لوگ اس کلچر کی تباہی سے ڈر رہے ہیں، جو پاکستان کے کسی بھی حصے میں بلا روک ٹوک اسلحہ اور منشیات پہنچادینے میں معاون ہے اور جو ہمارے معاشرے میں قتل و غارت اور نشے کے پھیلاؤ کا بہت بڑا سبب ہے یا نہیں یہ خدشہ ہے کہ شہروں سے گاڑیاں چوری کرنے والوں اور اغوا برائے تاوان کرنے والوں کا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔ کسی بھی ملک میں ایسے خاص علاقوں کے ہوتے ہوئے جہاں ملکی قانون کی عملداری ہی نہ ہو امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ملک دشمن اور قانون شکن عناصر کے خلاف فوجی کارروائی کی اپنی اہمیت مگر زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ ہماری قومی ترجیحات کا نقطہ اول ان علاقوں کو بھی عام قانون کے تابع کر کے ملک کے دیگر حصوں کی طرح تعلیم، صحت اور روزگار کی یکساں سہولتوں کی فراہمی ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لئے خاص بجٹ مختص کرنا ہوگا، ورنہ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

مزید :

کالم -