پاکستانی کو پانی چاہئے 

پاکستانی کو پانی چاہئے 
پاکستانی کو پانی چاہئے 

  

اس وقت دنیا بھر میں کم از کم 900 ملین سے زیادہ انسان ایسے ہیں، جنہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ایشیا اور افریقہ میں تو کئی علاقے ایسے بھی ہیں، جہاں خواتین و حضرات کو کسی بھی معیار کا پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے چھ سے آٹھ کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے ۔

پانی زندگی ہے، پینے کے پانی کی شہر میں لوگوں کو قدر نہیں حالانکہ وہاں بھی آلودہ پانی ملتاہے ۔ جبکہ دور دراز دیہات کے لوگ بوند بوند پانی کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں، پاکستان زرعی، معدنی اور دیگر شاندار قدرتی خزانوں کی ساتھ ساتھ بہترین آبی وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔اگر انہیں بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان دنیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا ۔مگر افسوس کہ حکمران طبقے جن کو عوام ہی منتخب کرتی ہے کی خود غرضی کی وجہ سے وطن عزیز آج مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے پاکستانی اپنی بقاء کے لیے مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔اسی وجہ سے ہرسال ہزاروں افراد اسہال، ہیضہ، یرقان اور ان جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں پانی کی صورت حال بڑی چونکا دینے والی ہے ۔ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جولائی2013 ء میں منظر عام پر آنیوالی رپورٹ کیمطابق پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو تیزی سے پانی کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

تنظیم جناح انسٹی ٹیوٹ کی2014ء کی ایک رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت ہر ایک پاکستانی کے لیے پانچ ہزار کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا، جو گزرتے وقت کے ساتھ کم ہو کر سنہ 2011ء تک ایک ہزار تین سو چورانوے مکعب میٹر فی کس رہ گیا اور اس کے بعد بعض ماہرین اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہوتے ہوتے ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے ۔

اس بات کو سن کر تو آپ چونک جائیں گے کہ ہمارے ملک میں پا نی ذخیرہ کرنے کی گنجائش30 روز تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔جوکہ ایمرجنسی کی صورت میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک ہزار دنوں تک ہونی چاہیے تھی ۔یہ بحران کسی بہت بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے ۔ہمارے حکمران تو اپنے اپنے ملک (بیرون ملک) چلے جائیں گے یہاں پاکستان میں تو ہم عوام کو رہنا ہے، اس لیے اس بحران سے نپٹنے کے لیے ہم کو ہی آواز اٹھانی ہو گی ۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 ء تک ملک پانی کی شدید قلت سے دوچار ہو سکتا ہے۔اس کی وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی ہے۔تاہم پاکستان محکمہ موسمیات کے مطا بق موسمیاتی تبدیلی کے منظر نامے بتا رہے ہیں کہ اگلے 30 سالوں میں درجہ حرارت بڑھیں گے اور مون سون میں اضافہ ہو گا۔ سردیوں میں برفباری کی نسبت، بارش کی مقدار زیادہ ہونے امکان زیادہ ہے۔پاکستان کے موسمیاتی نظاموں سے منسلک کُل آبی وسائل کم نہیں ہوں، وہ بڑھیں گے ،تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے ،ملک کے دو بڑے ڈیم صرف ایک ماہ تک کے لیے پانی ذخیرہ کر سکتے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی معیشت کا دارومدار زرعی شعبے پر ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 21 فیصد ہے اور یہ شعبہ ملک کی مجموعی لیبر فورس کے 46 فیصد حصے کو روزگار مہیا کرتا ہے۔ اگر مستقبل میں ملک کو اسی طرح پانی کی قلت کا سامنا رہا تو اس کے منفی اثرات کئی شعبوں پر مرتب ہونگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کی قلت پر قابو پانے،پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ 

اس وقت ملک کی آبادی لگ بھگ بیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور حال یہ ہے کہ کثیر آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت اور آلودہ پانی نے عوام میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی ہے ۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آرڈبلیو) کے مطابق پاکستان کی 85 فیصد شہری آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جبکہ دیہاتوں میں بسنے والے 82 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہی نہیں۔ 

پاکستان کو آج کل پانی کی قلت کے جس بحران کا سامنا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو بھارت کی پاکستان دشمنی ہے ۔ دشمن سے تو کسی خیر کی توقع بے وقوفی ہوتی ہے، اصل وجہ پاکستان کے حکمران ہیں۔جو اس حوالے سے مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ مجھے آخر میں یہ ہی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے آبی وسائل کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ کی اور بڑے ڈیم تعمیر نہ کئے تو ملک میں پانی کی قلت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ آبپاشی تو درکنار پینے کے لیے بھی پانی وافر مقدار میں دستیاب نہ ہو گا۔اور جیسا کہ عالمی آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں آئندہ جنگیں پانی کے مسئلہ پر ہوں گی یہ بات سچ ثابت ہو جائے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -