پاکستان 1970ء سے بہت آگے نکل چکا ہے ( 2)

پاکستان 1970ء سے بہت آگے نکل چکا ہے ( 2)
 پاکستان 1970ء سے بہت آگے نکل چکا ہے ( 2)

  



کمانڈر سدرن کمانڈ کے آفس میں میرا تیسرا موقعہ تھاکہ وہاں گیا پہلی دفعہ جنرل عبدالقادر بلوچ کو کورکمانڈر بننے پر مبارکباد دینے گیا چونکہ وہ میرے کلاس فیلو تھے اور وہ فوج میں چلے گئے اس کے بعد لاء کالج میں ہم پھر کلاس فیلو بن گئے وہ اس وقت کرنل تھے۔ وہ زمانہ طالب علمی میں شعلہ بیان مقرر تھے اس کے بعد دوسرا موقعہ اس وقت ملا جب کمانڈر سدرن کمانڈجناب ناصر جنجوعہ تھے اور مجھے دعوت دی گئی گیٹ سے داخل ہوا تو اندازہ نہیں ہوا جس سے ہاتھ ملاکر ہال میں داخل ہواتھا وہ جنرل جنجوعہ تھے بڑی حیرت ہوئی کہ جنرل صاحب ہر ایک کو گیلری میں خوش آمدید کہہ رہے تھے اس کے بعد بریفنگ ہوئی جوتین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی اور بلوچستان میں جہاں جہاں مسلح تصادم چل رہا تھا نقشے کی مدد سے تفصیلات بتلاتے چلے گئے چہرے پر اس وقت تناؤ زیادہ ہوجاتا جب وہ اپنے جوانوں کی شہادت کا ذکر کرتے اور پھر کچھ دیر بعد تھوڑی سی معذرت کرلیتے یوں وہ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے چلے گئے میرا ایک مضمون کوئٹہ کے ایک اخبار میں تفصیل سے شائع ہوا اس کا موضوع تھا۔

’’ بلوچ پہاڑوں سے کیوں اتریں‘‘۔۔۔آئی ایس پی آر نے 8 قسطیں جنرل کو فراہم کیں۔ اس سے استفادہ کیا ہو گا۔ جنرل جنجوعہ نے جو بھی معلومات دیں اس کا نوے فیصد میرے علم میں تھا اس لئے کہ ایوب خان کے دور سے یہ جدوجہد شروع ہوئی اور پھر رکتی رہی اور چلتی رہی،بعض معلومات میرے لئے نئی تھیں جو فوج کے حوالے سے تھیں اور بعض اہم حصے بھی میرے لئے نئے تھے ایک بات انہوں نے بڑی اہم کہی وہ یہ تھی ۔۔۔چنگیز مری Hope of pakistan ہے اس ایک لائن پر دل چاہتا ہے کہ طویل تجزیہ کیا جائے اس لئے کہ نواب خیر بخش مری کی تمام جدوجہد جو سیاسی اور مسلح تصادم کی تھی اس پر میری گہری نظر رہی ہے اور نواب جنگیز خان مری نے جب سیاست میں قدم رکھا تو مسلم لیگ نواز شریف کے ساتھ رہے کسی مرحلہ پر بھی انہوں نے پارٹی نہیں بدلی اور نہ اپنے والد نواب مری کی سیاست کو قبول کیا حیرت انگیز وفاداری نبھائی اور نہ اپنے بھائی حیر بیار مری کی مسلح سیاست کو قبول کیا ایک بار جنگیز مری اور حیر بیار مری میں بیانات کی دلچسپ کشمکش سامنے آئی نواب جنگیز مری نے جارحانہ بیان جاری کیا اور حیربیار خاموش ہوگیا تاریخ کا یہ دلچسپ مرحلہ تھا،جب نواب خیربخش خان مری افغانستان چلے گئے تو شیرمحمد مری (عرف جنرل شیروف) اور ہزارخان بجارانی بھی اپنے قبیلے کو لے کر افغانستان چلے گئے اور اس طرح کوئی بیس ہزار مری وہاں چلے گئے یہ افراد جنرل شیروف کے کہنے پر گئے بعدمیں معلوم ہوا کہ نواب مری نے نہیں بلایا تھا، بلکہ جنرل شیروف نے نواب کا حوالہ دے کر بلایاتھا جب سویت یونین کو تاریخ کی بدترین شکست ہوگئی تو اس وقت نواب خیربخش خان مری جنرل شیروف اور ہزار خان بجارانی کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوگئی تھی سب لوٹ آئے مگر قبائلی اور سیاسی راستے جدا ہوگئے تھے مری قبیلہ بجارانی اور گزینی میں تقسیم ہوگیا تھا نواب مری کا تعلق گزینی شاخ سے تھا اور جب نواب جنگیز خان مری نواب بنے تو 28 سالہ دوری بھی ختم ہو گئی اور ہزارخان بجارانی اور تمام معتبر اس تقریب میں شریک تھے یوں جنگیز خان مری کی نوابی نے دونوں قبیلوں کو یکجان کردیا۔ اور یوں وہ اختلافات ختم ہوگئے اور جس وقت جنرل جنجوعہ نے اسے پاکستان کی امید کہاتھا تو اس وقت نواب خیر بخش مری حیات تھے ان کی زندگی کا چراغ ٹمٹارہا تھا اور کسی وقت بجھا چاہتاتھا ۔

یہ تفصیل اس لئے بیان کی کہ جو نقشہ اب دسمبر میں وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس کو بھی نگاہ میں ہونا چاہیے اب انہوں نے ایک بات بڑی کھل کر کہہ دی ہے کہ ’’ناراض بلوچوں کی واپسی سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے اور بات چیت میں مجھے نظرانداز کیا گیا ہے‘‘۔ان کے بیان کا تجزیہ ہو سکتا ہے اس کو کسی اور وقت کے لئے اٹھارکھتے ہیں اور اپنے موضوع کی طرف لوٹتا ہوں جنرل جنجوعہ کے بارے میں مشہورتھا کہ وہ اپنی بریفنگ کو بڑا طول دیتے تھے جنرل راحیل شریف کو بھی انہوں نے ایسی ہی بریفنگ دی تھی ۔اب جس جنرل کی گفتگو سن رہا تھا وہ پروفیشنل جنرل کی غیررسمی گفتگو تھی انہوں نے اپنا مکمل تعارف کرایا اس کے بعد وہ اپنے موضوع پر آگئے۔ جب انہوں نے بلوچستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو حالات بہت بدل گئے تھے یہ بلوچستان جو جنرل جنجوعہ کو ملا تھا اس سے بہت آگے چلا گیا ہے بہت کچھ بدل گیا جس طرح پاکستان 1970ء سے آگے نکل گیا ہے بالکل اسی طرح بلوچستان 1973ء سے آگے نکل گیا ہے مسلح تصادم کا گردو غبار بیٹھتا جارہا ہے نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے بیان کے بعد حالات دوسرے رخ پرچلے جارہے ہیں حیربیار سے وزیراعلیٰ کی ملاقات بھی اس طرف جانے کی نشاندہی کر رہی ہے،اب تو جنرل عامر ریاض نے بھی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اب چند مہنوں کی بات ہے ناراض بلوچوں سے بات چیت کا نتیجہ نکل آئے گا اور ہماری نظر افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے 20اکتوبر کو وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی یہ ان کی پہلی ملاقات تھی تبدیلی بڑی خوشگوار ہے ایک طویل عرصے کے بعد فوج اور سیاست دان بہت قریب آگئے ہیں اور اب محسوس ہوتا ہے کہ فوج سیاست دانوں کی حریف نہیں ہے، بلکہ آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے سیاسی حکومتوں کو تقویت پہنچا رہی ہے ،لیکن کراچی میں سیاسی حکومت اس طرح معاونت نہیں کر رہی، جس طرح فوج کو مطلوب ہے رینجرز نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے اور کراچی اپنے ماضی کی طرف لوٹ رہا ہے مسلم لیگ نواز شریف کے بعض اقدامات کسی طرح بھی درست نہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ کراچی میں جس طرح ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اغوا برائے تاوان اور گینگ وار ہورہی تھی اس کو فوج نے بہت کچھ درست کردیا ہے،جب قومی اسمبلی میں بحث ہورہی تھی تو سپیکر نے فوراً الطاف صاحب کو فون کیا اور حمایت کی درخواست کی اس کی ضرورت نہ تھی ، اب وفاقی حکومت کی جانب سے جو بیان آیا ہے وہ ایک طرح سے کورکمانڈرز کے بیان کا جواب ہے اس کی بھی ضرورت نہ تھی گڈ گورننس کوئی حملہ نہیں تھا، بلکہ سمت درست کرنے کی طرف اشارہ تھا۔(جاری ہے)

مزید : کالم