کچھ جاسوسوں کے بارے میں

کچھ جاسوسوں کے بارے میں
کچھ جاسوسوں کے بارے میں

  



(گزشتہ سے پیوستہ)

پاکستان میں اب تک پکڑے گئے بھارتی جاسوسوں کی تفصیل اس طرح ہے:

سربجیت سنگھ کو پاکستانی سکیورٹی حکام نے اگست 1990میں گرفتار کیا تھا۔ بھارتی حکومت نے کہا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا‘ لیکن پاکستان نے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان نے اس پر الزام عائد کیا کہ اس نے فیصل آباد‘ ملتان اور لاہور میں چار بم دھماکے کرائے جن میں 14پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسے بعد ازاں اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھا جب 26اپریل 2013 کو اس پر قاتلانہ حملہ ہوا‘ جس میں وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔ اسے ہسپتال داخل کرایا گیا لیکن وہ 2مئی 2013کو مر گیا۔ اس کی لاش کو بھارت بھیج دیا گیا۔

کشمیر سنگھ کو 1973میں گرفتار کیا گیا۔ اس کا موقف تھا کہ وہ جاسوس نہیں‘لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ وہ ایک جاسوس تھا۔ اس نے 35برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ صدر پرویز مشرف نے اسے معاف کر دیا۔ جب وہ بھارت واپس گیا تو اس کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ واپس جاتے ہی اس نے میڈیا کو پہلا بیان یہ دیا کہ ہاں میں ایک جاسوس تھا اور میں اپنا فرض ادا کرتا رہا۔ میں اپنے ملک کے لئے کام کرتا رہا اور پاکستانی حکام بھی مجھ سے کچھ اگلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

رویندر کوشک ایک سٹیج آرٹسٹ تھا۔ ایک سٹیج پرفارمنس میں اس کی کارکردگی دیکھ کر را نے اسے پاکستان میں بھارت کا انڈر کور ایجنٹ بننے کی پیش کش کی‘ جو اس نے قبول کر لی اور 23سال کی عمر میں جاسوسی کے مشن پر پاکستان میں داخل ہوا ۔ اس مشن پر روانہ کرنے سے پہلے اسے دو سال کی ٹریننگ دی گئی اور اردو سکھائی گئی۔ اس کا نام نبی احمد شاکر رکھا گیا۔ گریجو ایشن کے بعد اس نے کمیشنڈ آفیسر کے طور پر پاکستان آرمی جائن کر لی اور میجر کے عہدے تک ترقی کر لی۔ اس نے 1979سے 1983کے درمیانی عرصے میں حساس معلومات را کو فراہم کیں‘ جن کا را نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کی جاسوسی کا معاملہ اس وقت ختم ہو گیا جب ایک اور بھارتی جاسوس گرفتار ہوا اور اس نے کوشک کا بھاندا پھوڑ دیا۔ کوشک ملتان جیل میں 2001 میں پھیپھڑوں کے سرطان سے ہلاک ہو گیا۔

شیخ شمیم کو پاکستانی اتھارٹیز نے 1989میں گرفتار کیا۔ وہ را کے لئے کام کرتا تھا۔ اسے 1999میں پھانسی دی گئی۔ اور اب کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ دیکھیں اس پر عمل کب ہوتا ہے۔

کچھ ایسے بھارتی جاسوس بھی تھے جو پاکستان آئے۔ یہاں جاسوسی کرتے رہے اور پھر بحفاظت واپس بھی چلے گئے لیکن ان کو ان بھارتی حکام نے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا‘ جنہوں نے انہیں جاسوسی کے لئے پاکستان بھیجا تھا۔

رام راج کو بھارتی انٹیلی جنس نے ستمبر 2004میں پاکستان جاسوسی کے لئے بھیجا‘ لیکن پاکستانی حکام نے اگلے ہی روز اسے گرفتار کر لیا۔ اسے چھ سال قید کی سزا ہوئی۔ سزا پوری کرنے کے بعد جب وہ آٹھ سال بعد بھارت واپس گیا تو بھارتی حکام نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ اس پر کافی عرصہ احتجاج بھی کرتا رہا۔

وربخش رام کو 1988میں جاسوسی کے لئے پاکستان بھجا گیا۔ اسے یہ معلومات اکٹھی کرنی تھی کہ پاکستانی فوج کون سا اسلحہ و بارود استعمال کرتی ہے۔ اس کے دو سال بعد اپنا کام مکمل کرنے کے بعد بھارت واپس جا رہا تھا کہ بارڈر پر دھر لیا گیا۔ اس پر جاسوسی کا جرم ثابت ہوا اور اسے 14سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ 2006میں رہا ہو کر واپس بھارت گیا۔

رام پرکاش کو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی نے 1994میں جاسوسی کے لئے پاکستان بھیجا۔ جون1997میں وہ بھارت واپس جا رہا تھا کہ بارڈر پر گرفتار کر لیا گیا۔ سیالکوٹ کی جیل میں اس سے تفتیش کی گئی اور جرم ثابت ہونے پر دس سال قید کی سزا سنائی گی۔ وہ 2008میں بھارت واپس جا سکا۔ اس کے علاوہ کمل کمار‘ ونود ساہنی‘ سورم سنگھ‘ جسونت سنگھ‘ وینا‘ سیما‘ڈینیئل‘ رام چند‘ سریندر پال کی کہانیاں بھی مذکورہ بالا کہانیوں سے ملتی جلتی ہیں۔

جاسوسی کے الزامات محض پاکستان بھارت اور بھارت پاکستان پر ہی عائد نہیں کرتے بلکہ ایسی کہانیاں دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً 22 نومبر1963 کو قتل کر دئیے جانے والے جان فزجیرالڈ کینیڈی کی بیوی جیکولین کینیڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سی آئی اے کی ایجنٹ یا جاسوس تھی اور وہی صدر کینیڈی کو قتل گاہ میں لے کر گئی تھی۔ امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن کو بھی 15اپریل 1865کو قتل کیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہیں بھی ان کی بیوی ہی اس جگہ لے کر آئی‘ جہاں انہیں قتل کیا جانا تھا۔

روس اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کے زمانے میں ایک دوسرے کی جاسوسی عروج پر تھی۔ یہ بات تو کئی بار دہرائی جا چکی ہے کہ روس کی جاسوسی کے لئے پاکستان نے ایک امریکی طیارے کو اپنا ایئر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ دونوں ملکوں کے مابین جاسوسی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ برس کے اواخر میں ہونے والے امریکی صدر کے انتخاب میں روس کی مداخلت کے معاملات جاسوی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاسوسی اپنے عروج پر ہے۔ پچھلے کالم میں بات ہو رہی تھی جاسوس اور جاسوسی کے بارے میں۔ اس حوالے سے کہ ان کے بھی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں اور جب وہ جاسوسی کے لئے کسی ددوسرے ملک میں جاتے ہیں تو غالباً ان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ شاید وہ واپس نہ آ سکیں‘یہ جذباتی معاملات اپنی جگہ لیکن ایک بات طے ہے کہ جاسوسی کا مطلب ان عالمی اخلاقی قوانین کو توڑنا ہے‘ جن کی وضاحت گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر میں کر دی گئی ہے۔ عالمی برادری کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئے کہ اس چارٹر کی خلاف ورزی کرنے والوں سے باز پرس ہونی چاہئے یا نہیں۔ پاکستان بلوچستان میں بھارتی جاسوسی اور مداخلت کے ثبوت کئی بار اقوام متحدہ اور امریکہ کے حوالے کر چکا ہے‘ لیکن کیا نتیجہ نکلا؟ عالمی‘ علاقائی اور تمام ملکوں کے ذاتی مفادات کی جنگ میں اقوام متحدہ کا بین الاقوامی اخلاقیات کا چارٹر کہیں پیچھے نہ رہ جائے!

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ