ای سی او کی 13ویں بیٹھک

ای سی او کی 13ویں بیٹھک
ای سی او کی 13ویں بیٹھک

  


ثقافت اور علم و دانش کی راہداری کے وارثوں نے زمانے کے جدید تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہونے کے لئے اسلام آباد کے پُر امن اور خوشگوار ماحول میں اقتصادی تعاون تنظیم کی13ویں بیٹھک کا انعقاد کیا ،جس میں رکن ممالک ترکی، ایران، آذربائیجان، تاجکستان اور ترکمانستان کے صدور، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزرائے اعظم، جبکہ ازبکستان کے نائب وزیراعظم نے شرکت کی ۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی نمائندگی پاکستان میں متعین افغان سفیر نے کی۔سربراہ اجلاس میں چین بطورمبصر، جبکہ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے خصوصی شرکت کی۔ اسلام آباد اجلاس کا موضوع ’’علاقائی خوشحالی کے لئے روابط‘‘ تھا، جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے تناظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کانفرنس کے آغاز پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو تنظیم کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔۔۔تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری توجہ رابطوں کو بڑھانا ہے تاکہ خطے کو امن و ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جاسکے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع بہترین ہے۔رابطے کے ذریعے باہمی تعاون کے بارے میں پاکستان کے تصور کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری سے بہتر کوئی اور منصوبہ نہیں ہو سکتا،اس کی بدولت پاکستان جلد مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کی منڈیوں تک تیز تر، آسان اور سستی رسائی فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ تمام خطے کی ترقی کے لئے عمل انگیز ثابت ہو گا۔ رکن مماک کواس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے مشترکہ کاوشوں اور سیاسی مسائل کو حل کئے جانے کی ضرورت پر زوردیا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے 21 صدی کو ایشیا میں اقتصادی بہتری کا دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی سرگرمیاں اب مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ای سی او ممالک کے درمیان شاہراہوں کے ذریعے رابطہ قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔ آذربائیجان کے صدرالہام علیوف نے بنیادی ڈھانچے ، رابطے اور نقل و حمل کے شعبوں میں ای سی او کے رکن ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام مخالف پروپیگنڈے کی بھی مذمت کی اور واضح کیا کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے اور اسے دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔ ترکمانستان کے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ ای سی او کے رکن ملکوں کو خطے میں مواصلاتی روابط اور توانائی کے نیٹ ورک کے فروغ کے لئے بنیادی ڈھانچے کے مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد پر توجہ دینا ہوگی۔ای سی او کی سرگرمیاں رکن ممالک میں سماجی و اقتصادی ترقی، غربت میں کمی اور میعار زندگی کی بہتری میں معاون ومددگار ہونی چاہئیں۔ کرغزستان کے وزیراعظم سورن بائف جین بیکوف نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میں ای سی او باہمی اقتصادی تعاون کے فوائد حاصل کرنے کے لئے تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی۔ اقتصادی تعاون تنظیم کی بنیاد 1964ء میں رکھی گئی تھی، اس وقت اس کا نام علاقائی تعاون برائے ترقی(آر سی ڈی) تھا۔پاکستان، ترکی اور ایران اس کے بانی ارکان تھے، اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان رابطوں کا فروغ اور اقتصادی تعاون تھا۔ ستمبر 1964ء میں اس کا پہلا اجلاس ترکی میں ہوا۔ اگرچہ 1977ء کے عرصے میں ایران میں بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب، پاکستان میں مارشل لاء کے باعث تنظیم کی کارروائیاں معطل رہیں۔

1985ء میں اسے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے نام سے فعال کیا گیا۔ 1992ء میں اس میں مزید 7 ممالک کا اضافہ کیا گیا، جن میں افغانستان، ازبکستان، تاجکستان، آذربائیجان، ترکمانستان، کرغزستان اور قازقستان شامل ہیں۔

دہشت گردی کے پے درپے واقعات کے بعد اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میچ کا انعقاد حکومت کی بہت بڑی کامیابی اور جرات مندانہ فیصلہ ہے، جس کے بہتر ین اثرات برآمد ہو رہے ہیں۔ داتا اور قلندر کی نگری میں دہشت گردوں کی خون آشام کارروائیوں کے بعد ای سی او کے رکن ممالک کے سربراہوں اورپی ایس ایل فائنل کے لئے غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد جمہوری سیاسی قیادت پر نہ صرف اعتماد کا مظہر ہے،بلکہ پاکستانی قوم کو واضح پیغام ہے کہ وہ مشکل گھڑی میں تنہا نہیں، دوست ممالک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اجلاس کے کامیاب انعقاد سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں، بلکہ وہ ترقی پذیر ملکوں کے شانہ بشانہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ کامیابی حکومت اور قوم کی بہادری و جرات کی غماز ہے جو دہشت گردوں اور بھارت جیسے بدخواہوں کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے انعقاد اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششوں سے اگر کوئی پریشان ہے تو وہ بھارت ہے، کیونکہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار دہشت گردی کی کارروائیاں کروا کرہمہ وقت اس کوشش میں جتی ہوئی ہے کہ کسی بہانے سے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموارکو کرنے کے لئے دیگر ممالک کو اپنے ساتھ ملا سکے۔نریندر مودی بار ہا اپنی تقاریر میں پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔ وہ اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سعی بسیار میں لگا ہے،لیکن ہماری دانشمندانہ اور کامیاب سفارت کاری کے باعث بھارت کو ہر سطح پر منہ کی کھانا پڑی رہی ہے۔ دہشت گردی کا واویلا کرنے کے باوجودبھارت عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر دینے کا تاثر دیتا رہا ہے، جس کی اس سے قبل بھی کئی مواقع پر نفی ہوچکی ہے، جس کا واضح ثبوت مادروطن میں10 سے 14فروری تک جاری رہنے والی بحری مشقوں میں 36ممالک کی شرکت ہے۔

پوری دنیا میں باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے کامیاب ماڈل پر نظر ڈالی جائے تو علاقائی بلاکس سب سے زیادہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر نارتھ امریکن بلاک(نافٹا) کی بات کی جائے تو رکن ممالک کے مابین باہمی تجارت 60فی صد سے زائد ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں باہمی تجارت تقریباً50فی صد ہے ۔ اسی طرح اگر آسیان ملکوں کی بات کی جائے، تو ان کے درمیان باہمی تجارت 26فی صد ہے،لیکن یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے خطے کے اہم بلاک اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں باہمی تجارت 8.3فی صد ہے، جبکہ سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت انتہائی کم،یعنی صرف 6فی صد ہے، جس کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ای سی او کے حالیہ اجلاس میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جو نہایت مستحسن اور صائب ہونے کے ساتھ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔یہ خطہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلکہ زرعی پیداوار کے لحاظ سے بھی کافی زرخیز ہے۔ باہمی تجارت بڑھنے سے نہ صرف خطے میں غربت کم کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سبب بھی بنے گی۔ اگر باہمی تجارت بڑھ جائے تو ہمیں اپنی مصنوعات کے لئے تجارتی منڈیاں تلاش کرنے کے سلسلے میں دنیا کے دیگر خطوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔

مزید : کالم