کرونا وائرس اور پاکستان میں مزدور کے حالات

کرونا وائرس اور پاکستان میں مزدور کے حالات
کرونا وائرس اور پاکستان میں مزدور کے حالات

  



ان دنوں پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ بڑے بڑے طاقتور اور وسائل سے مالامال ممالک بھی بے بس نظر آنے لگے ہیں۔ چین جہاں سے اس وائرس نے جنم لیا اور سب سے زیادہ متاثر کیا، اب اس وباء پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہے۔ افریقی ممالک قدرے محفوظ ہیں۔ میرا مشاہدہ یا خیال ہے کہ گرم اور پسماندہ ممالک ایسے وائرسوں سے قدرے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ غریب اور پسماندہ علاقوں کے لوگ گندگی میں رہنے کے عادی ہو کر ان جراثیم کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، کیونکہ انسانی جسم جیسے ماحول میں نشوونما پاتا ہے، اسی کا عادی ہو جاتا ہے۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو جلد اس وائرس سے نجات عطا فرمائے، لیکن ہمیں خود بھی اس سے بچنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا ہوں گے اور حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔

آج کے میرے کالم کا اصل موضوع غربت اور غریب کی مدد کے حوالے سے ہے، کیونکہ آج کل ہمارے بہت سے بھائی کرونا وائرس کی وجہ سے مزدوروں کی دہاڑیاں چھن جانے اور مزدوروں کے گھروں میں فاقوں پر بہت فکر مند ہیں۔ بات ہے بھی فکر مندی کی، کیونکہ ہماری اکثریت کا گزارہ روزانہ کی مزدوری سے ہی چلتا ہے۔ اسی طرح ہمارے بیشمار لوگ غریبوں کی غربت پر پریشان ہوتے ہیں اور ان کی مدد کی اپیلیں کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے حالات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے اور مزدوروں اور غریبوں کو دوسروں (مخیر حضرات) کے سامنے ہاتھ یا دامن کیوں پھیلانا پڑتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی اکثریت کا یہ عقیدہ ہے کہ مخیر حضرات کی کمائی میں غریبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اس بات کو مان لینے میں بھی حرج نہیں ہے کہ ایسا ہے، لیکن سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے پتا چلے گا کہ کس مالدار کے مال میں کس غریب کا کتنا حق ہے؟ اور اگر وہ امیر آدمی یہ حق نہیں دیتا تو اس سے کیسے لیا جائے؟ اور اگر دیتا ہے تو کیا لینے والے کی عزت نفس مجروح تو نہیں ہوتی؟

ان سوالوں کے جواب مَیں آپ لوگوں پر چھوڑ دیتا ہوں، لیکن اتنی گزارش کرتا ہوں کہ جن دوستوں کو واقعی مزدور کا درد ہے، کیا وہ مزدور کی مزدوری بڑھانے اور بے روزگاری کی صورت میں مزدور کو ریاست یا آجر کی طرف سے معاوضہ یا تنخواہ دلانے کے لئے کسی نظام یا قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں، اگر نہیں تو پھر آپ جھوٹی تسلیاں کیوں دیتے ہیں؟ جن لوگوں کو غریبوں کی غربت کا غم ہے، کیا وہ اپنی ریاست میں کسی ایسے نظام کے لئے کوشاں ہیں جس میں وسائل کی تقسیم اور ٹیکس لینے کا طریقہ کار ایسا ہو کہ ہر کسی کو عزت نفس داؤ پر لگائے بغیر رہن سہن اور بنیادی ضروریات مل جائیں؟ اگر آپ کسی ایسے نظام کے متعلق نہ تو کچھ جانتے ہیں اور نہ اس کے لئے کوشاں ہیں تو پھر غریبوں کے زخموں پر نمک پاشی کیوں کرتے ہیں؟ مرنے دیں ان کو بھوکا، شاید وہ ہر طرف سے خاموشی کے بعد اپنے حقوق کے لئے خود ہی کھڑے ہو جائیں!! ہم ان غریبوں کو قطرہ قطرہ خیرات دے کر مرنے دیتے، نہ جینے کے قابل رہنے دیتے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ اسلام نے مالداروں کے مال میں غریب کا حصہ رکھا ہے، لیکن اسلام کے ابتدائی دور ہی میں اس کا طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا تھا، یہی وجہ تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں کوئی زکوٰۃ و خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا، کیونکہ اسلام ہر حکم کے ساتھ اس کا طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے اور آج کی مہذب دنیا نے اسلام کی فلاحی ریاست سے ہی سبق حاصل کر کے اپنے اپنے ملک میں ایسے نظام بنا لئے ہیں کہ ہر کسی کو روٹی کپڑا مکان، عزت نفس اور تحفظ جان کے حقوق حاصل ہیں۔ مَیں اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ذرا سوچیں، جو بات کرتے ہیں، جس مسئلے پر بات کرتے ہیں، اس پر سوچ کر اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا کریں اور اس کے حل پر غور کیا کریں۔

ہمارا ملک وسائل کے حساب سے کسی سے کم نہیں ہے۔ یہ مت سوچیں کہ فلاں فلاں ملک بہت امیر ہیں، اس لئے وہاں کوئی غریب نہیں ہے۔ اس طرح سوچنے سے ایمان کمزور ہوتا ہے، کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بارہا فرمایا ہے: مَیں نے یہ کائنات توازن کے ساتھ تخلیق کی ہے“…… لہٰذا اس زمین کے کسی خطے کو کسی دوسرے پر کیسے ترجیح دی جا سکتی ہے؟ ہر خطے میں وہاں کے رہنے والوں کی روزی کا انتظام ہے اور وہ بھی اس طرح کہ کسی ایک ملک کی پیداوار یا مصنوعات ایسی ہیں، جن کی ضرورت دوسرے ممالک کو بھی ہوتی ہے، کیونکہ وہاں یہ پیداوار نہیں ہوتی یا بہت کم ہوتی ہے۔ اسی طرح ان ممالک میں اللہ تعالیٰ کی دوسری نعمتیں ہوتی ہیں، جن کی پہلے ملک کو ضرورت ہے۔ اسی طرح اس دنیا کا نظام اجتماعی ہے، لہٰذا یہ سمجھ لینا کہ فلاں ملک کے وسائل زیادہ ہیں اور فلاں کے کم،نا سمجھی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو آو مل کر اپنی ریاست کا نظام ٹھیک کریں۔

ایک ایسا نظام جس میں ریاستی وسائل کی تقسیم درست ہو، سب کو برابر سماجی انصاف ملے۔ ایک ایسا نظام، جس کے اندر فلاحی ادارے ہوں، جو امیر سے لے کر غریب کو دیں اور غریب کی عزت نفس کو بھی مجروح نہ ہونے دیں۔ یہ تب ہوگا، جب ملک میں ایک پائیدار ٹیکس وصولی کا نظام بنایا جائے گا،روزگار کے زیادہ سے زیادہ ذرائع پیدا کیے جائیں گے اور مزدوروں کی مزدوری کی شرح ملک میں مصنوعات کی قیمتوں کے تناسب سے مقرر کی جائے گی…… اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں، وہ ہم سے رجوع کرے، اگر ممکن نہ بنائیں تو تمام غلطیوں کی سزا ہمارے لئے تجویز کر دی جائے۔

مزید : رائے /کالم