عظیم پاکستان کا عزم کشمیر ہے

عظیم پاکستان کا عزم کشمیر ہے
عظیم پاکستان کا عزم کشمیر ہے

  



نواز شریف سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے کشمیر ی عوام کا مقدمہ، اقوام عالم کے سامنے نہایت شاندار طریقے سے پیش کیا۔ گو کہ وزیراعظم کی تقریر پاکستان کے اصولی موقف ہی کی ترجمانی کررہی تھی، لیکن الفاظ کی تا ثیر کچھ پہلے سے زیادہ تھی،جس کا اندازہ بھارتی، حکومت ، فوج اور میڈیا کے واویلا کرنے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔وزیراعظم پاکستان نے برہان الدین وانی کی جدوجہد حریت کو خراج تحسین پیش کیا اور اُن کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، ساتھ ہی اس بات کا مطالبہ بھی پیش کیا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں،بھارت میں قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کروائی جائے، کرفیوکے نفاذ کا خاتمہ کروایا جائے اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ یہ مطالبات ایسے تو نہیں تھے کہ بھارت میں تہلکہ مچ جاتا،لیکن بھارت نے ان تمام مطالبات سے جو نتائج اخذ کئے اور اُس کے نتیجے میں، جس قسم کا رَد عمل پیش کیا اُس سے بھارت کی کمزوری عیا ں ہے۔ بھارت کے ایک ذمہ دار وزیر نے بر ملا کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی تقریر حافظ محمد سعید صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ گویا کہ بھارت کی کتابوں میں پاکستان کی سب سے مضبوط شخصیت حافظ محمد سعید ہی ہیں۔ اس کشمکش میں بھارت سے ایک اور آواز اُٹھی کہ پاکستان دہشت گردوں کی ستائش کر رہا ہے اور وزیراعظم کا بیان مکمل طور پر حیران کُن ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک نوجوان کشمیری حریت لیڈر میں اتنی سکت ہے کہ وہ دس لاکھ ہندوستانی فوج کو اپنی شہادت کے بعد بھی دہشت زدہ رکھ سکے تو اُس فوج کے بزدل سپاہیوں کو اپنا روز گار کسی اور پیشے میں تلاش کرنا چاہئے۔

بھارت کے مضحکہ خیز بیانات کا سلسلہ یہاں تھما نہیں،بھارت کے ایک اور ذمہ دار نے پاکستان کو ’’وار مشین‘‘ کا خطاب دے ڈالا۔ گو کہ مظلوم اور نہتے انسانوں کے لئے آواز بلند کرنا طبلِ جنگ بجانے کے مترادف ہے،لیکن ان تمام چیزوں سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ بھارت کس منہ سے پاکستان کے ساتھ جنگ کا نام لیتا ہے، جب پاکستان فضائیہ کی پُر نظم مشقیں بھارت کی سر زمین پر لرزہ طاری کر دیں اور طیاروں کی تھر تھراہٹ سے بھارت کے بڑے بڑے سورماؤں کے کلیجے حلق کو آجائیں اور حرکت قلب بند ہونے لگے تو پھر بھارت کے حکمرانوں کو خود ہی سمجھ لینا چاہئے کہ اُن کے لئے پاکستان سے جنگ بہتر ہے یا امن؟جنگ صرف اسلحے کا ذخیرہ جمع کرلینے یا میڈیا کے ذریعے شوروغُل مچانے سے نہیں جیتی جا سکتی،بلکہ اس کے لئے ذہانت ، تدبر اور شجاعت کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے ذخائر بھارت کے پاس مدتوں پہلے ختم ہو چکے ہیں۔ بھارت کو یہ جان لینا چاہئے کہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہے اور ہم کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں،بلکہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں تناؤ کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ اس حساس مسئلے پر پاکستان میں اصولی یکجہتی پائی جاتی ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی اختلافات کو پس پشت ڈال کر وزیراعظم کی تقریر کی حمایت اور خیر مقدم کا اعلان کیا ہے۔ دست بدست جنگ سے تو بھارتی سپہ سالار خوفزدہ ہیں ہی اور اس کا اقرار بھارت کے آرمی چیف اور ائیر فورس کے سربراہ نے کر لیا ہے کہ پاکستان سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی، لیکن مَیں بھارت کے ذمہ داروں کو یہ مشورہ بھی دینا چاہتا ہوں کہ مکاری کے جال بُن کر پاکستان کو کسی بھی محاذ پر شکست نہیں دی جا سکتی۔

یہ بات اب دُنیا پر عیاں ہے کہ ممبئی حملے در اصل بھارت نے خود کروائے اور پٹھان کوٹ اور اب اُڑی کے حملے بھی بھارت نے خود ہی کروائے اور انتہائی بھونڈے طریقے سے الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا ۔۔۔ تاریخ میں ایسی جرأت اور شجاعت کی داستانیں کم ہی ملتی ہیں، جن میں دشمن ملک پر حملہ کرنے کی سکت نہ رکھنے پر کوئی مُلک اپنے ہی لوگوں پر پے در پے دہشت گردی کے حملے کرے۔ آخر حقیقت تسلیم کر لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ بھارت نے بہت اچھے فنکار، شاعر اور ادیب پیدا کئے، لیکن عسکری حوالے سے بھارت میں بز دلی کا دور دورہ ہے ۔ اِس لئے بھارت کو مذاکرات کی طرف پیش رفت کرنی چاہئے اور پاکستان کے ساتھ جنگ و جدل کی خواہش کو ہمیشہ کے لئے بھُلا دینا چاہئے۔ اسی میں بھارت کے عوام اور سر زمین کی عافیت ہے ۔۔۔ اور ہاں اس حکمت عملی پر عمل کرنے سے بھارت کو ہمارے طیاروں کی گھن گرج اور گولیوں کی جھنکار سے خوف بھی محسوس نہیں ہو گا ۔ بے شک پاکستان خدا کی رحمت سے عظیم ہے اور کشمیر ہمارا عزم ہے ۔کشمیر کی دھرتی پر بہہ جانے والے ہزاروں مسلمانوں کا خون اس بات کی گواہی ہے کہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے، بقول علامہ اقبالؒ :

خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

مزید : کالم