جائزہ پہ جائزہ 

 جائزہ پہ جائزہ 
 جائزہ پہ جائزہ 

  

 ڈاکڑ ہمایوں جاوید نے ادب میں اتنا کام کیا ہے کہ لگتا ہے وہ اپنے والد جاوید صدیق بھٹی سے بھی آگے نکل گئے ہیں ان کے ذہن میں کئی سوچیں کروٹ لیتی رہتی ہیں اور وہ ان سوچوں سے کام بھی لیتے ہیں جیسے ہی نیا خیال ان کو ستاتاہے اور وہ تخلیقی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں ان کی کئی کتابیں مختلف موضوعات پر چھپ کر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں وہ مختلف اخبارات و رسائل میں لکھتے رہتے ہیں اور تھکاوٹ ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتی ہے، ان کی نئی کتاب "جائزہ" ہمارے سامنے ہے جس میں انھوں نے مختلف شعرا پر کالموں کو شامل کیا ہے جو پہلے اخبارات کی زینت بن چکے ہیں ان کی اس نئی کتاب میں زیادہ تر شعرا کے ادبی حالات اور ان کے کلام کی خوبیوں کے ساتھ مختلف دلچسپ شعرا کے واقعات بھی ملتے ہیں اس کتاب میں شامل کالموں کو پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ ان کی نہ صرف قلم پر مکمل گرفت ہے بلکہ اس میں شامل شعرا بھی ان کی گرفت سے بچ نہیں پائے ہیں ان میں نوید مرزا رفیع الدین، ذکی قریشی چوھدری کرم علی کیفی، امیر نیاز نیازی، استاد انور درباری ربیل رانی عرفان نشاط، چوھدری اقبال سون بھٹی یونس جیمز تبسم ناز ڈاکڑ غنی عاصم گل زیب عباسی منیر بھٹی ڈاکڑ ڈیوڈ عرفان پروفیسر قیصر ہاشمی ڈاکڑ انیس احمد یونس وریام خالد مسعود اور دیگر شامل ہیں پھر اس کتاب میں شعرا کے اوپر لکھے گئے کالموں کے عنوانات بہت خوب صورت اور بامعنی کے علاوہ مخصوص سوچ کی نشان دہی کرتے ہیں شعرا کے کلام کے چند اشعار بھی دیئے گئے ہیں جس  سے کالم جاندار اور بامقصد معلوم ہوتا ہے کتاب کا نام "جائزہ" بھی اپنے اندر معنی خیز مطلب رکھتا ہے پتہ نہیں ڈاکڑ ہمایوں جاوید اپنا جائزہ لے رہے ہیں یا شعرا کے جائزے کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں میں ان کو تب سے جانتا ہوں جب وہ سکول جاتے تھے اور جاوید صدیق بھٹی ان کو سکول چھوڑ کر آتے یہ ان کا گھریلو ادبی ماحول ہے جس نے ان میں نکھار پیدا کرکے ان کو کندن بنا دیا ہے ایسی کتابیں بے شمار شائع ہو چکی ہیں لیکن انھوں نے شعرا کے تعارف کا انداز جو اس کتاب میں اپنایا ہے وہ تمام ادبی تقاضوں کو پورا کرتا ہے جب کہ ان کا پیشہ ڈاکٹری ہے نفیسات پر بھی ان کی گہری نظر ہے ڈاکڑ ہمایوں جاوید کے کالموں میں تحقیقاتی انداز اور کھوجی ٹائپ ریسرچ بھی ملتی ہے کالم کا انٹرو وہ اس انداز سے کرتے ہیں کہ قاری اگلی بات خود سمجھ جاتا ہے کہ آگے کیا ہوگا افسانوی خوشبو بھی ان کے کالموں کا خاصا ہے پھر اس کتاب میں کتابوں کی تقریب رونمائی پر پڑھے گئے مضامین بھی شامل ہیں جو مغز ماری کے بغیر نہیں لکھے جا سکتے،ڈاکٹر ہمایوں جاوید نے کالم نگاری کے علاوہ بہت سے مشہور شعرا کی شاعری کا انتخاب کر کے ان کو کتابی شکلیں دی ہیں جاوید صدیق بھٹی نے ان کو بہت سے گر سکھایے ہیں اور ان کی عام تزبیت کے علاوہ ادبی تربیت میں بھی بطور والد بھر کردار ادا کیا ہے ہمایوں جاوید کے زیادہ کالم ادبی ہیں سیاست پر بھی وہ کبھی کبھار لکھتے ہیں اور معاشرتی مسائل پر بھی ان کے کالم ہیں جاوید صدیق بھٹی اور ہمایوں جاوید ادبی حلقوں کی پہچان ہیں اور ادبی حلقوں میں انھوں نے نام بنایا ہے ہما یوں جاوید کی نئی کتاب "جائزہ " پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں موجودہ ہر کالم اپنے اندر ایک شاعر کی مکمل کہانی رکھتاہے ہاں جو کتاب ہمایوں کو کسی شاعر نے دی انھوں نے وہ کتاب پڑھ کر بھی اس پر ادبی کالم لکھا دیا جن پر کالم اس کتاب میں درج ہیں ہمایوں کا لگتا ہے ان سے کئی برسوں سے رابطہ ہو اور وہ ان کی شاعری کے علاوہ ان کی روزمرہ زندگی سے واقف دیکھائی دیتے ہیں ان کے ادبی کالم ان کی پہچان ہیں اور جائزہ"ان کی پہلی کتابوں کے علاوہ ایک انوکھا اور باکمال اضافہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -