اداروں میں طاقت کا توازن؟

اداروں میں طاقت کا توازن؟

سد ا بادشاہی صرف میرے رب کی ہے دنیا کی بادشاہی عارضی ہے ،محض چند دنوں کا کھیل ، فریب نظر ہے ،صریحاً ،دھوکہ اللہ پاک کا فرمان ہے : ’’ بادشاہی اسی(اللہ) کی ہے ، اللہ ہی کی طرف سارے معاملات رجوع کئے جاتے ہیں۔‘‘۔۔۔(الحدید ،آیت 5) ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔بادشاہ ہے ،نہائت پاک،سب عیبو ں سے صاف ،امن دینے والا نگہبان ،غالب زور آور اور بڑائی والا ، پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ شریک بناتے ہیں‘‘۔۔۔(الحشر ،آئت59)۔۔۔ترکی سے لے کر چین تک دنیا کے بادشاہوں کی کہانیاں رہ گئیں یا اجڑے ہوئے مزار،کہیں رعونت و تکبر کے بت پاش پاش ہوئے تو کہیں طاقت کے دیوتا خاک میں خاک ہوئے ،کردار زندہ رہ گئے تو ان کے جنہوں نے بندگی اختیار کی ،تخت و تاج کو آزمائش سمجھ کر رعایا کی خدمت میں خود کو وقف کر دیا، باقی سب اپنے اپنے عہد کے ساتھ ہی فنا ہوگئے، جیسے پانی کے اوپر کچھ دیر کے لئے بلبلے اٹھتے ہیں ،پھر چند لمحوں بعد پانی میں پانی ہو جاتے ہیں نام نہ نشان۔ کیسا گورکھ دھندہ ہے جو جھک گیا وہ سرفراز ٹھہرا جو ذرا اکڑا وہ ایسا ٹوٹا کہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا۔سکندر اعظم سے لے کر ہلاکو خان تک ،یزید و حجاج بن یوسف سے لے کر چھوٹے چھوٹے جابروں و آمروں تک سب کا انجام داستان عبرت کے سوا کچھ نہیں۔

سکندر اعظم جب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا تو ایسی بے بسی کے حصار میں گرفتار ہو ا کہ خدا کی پناہ ۔۔۔کہا میرے ہاتھ میرے کفن سے باہر نکال دینا ،تاکہ دنیا دیکھ لے کہ فاتح عالم جب اس دنیا سے جا رہا ہے تو اس کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔حجاج بن یوسف جب بستر مرگ پر پڑا تھا تو ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ دہکتے کوئلوں کی انگیٹھیاں اس کے پاس رکھتے لیکن کپکپی کم نہ ہوتی۔دنیا کی بادشاہی سے محبت ادنیٰ ترین سودا ہے جس میں انسان اپناکردار مار دیتا ہے اور جس کا کردار مر گیا، وہ سچ مچ مرگیا ۔انسانی کردار جہاز کے اس بلیک بکس کی طرح ہوتا ہے جو جہاز تباہ ہونے پر بھی سلامت رہتا ہے۔

سیدنا علی المرتضیؓ کا فرمان ہے: ’’حکومتیں انسانوں کے لئے امتحان ہوتی ہیں۔عدل کو کام میں لاؤ اور ظلم و ستم سے ڈرو،کیونکہ سختیوں کے نتیجے میں ملک خالی ہو جاتے ہیں اور ظلم لوگوں کو جنگ پر مجبور کر دیتا ہے۔‘‘۔۔۔حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ جب اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے تو انہوں نے نامزد خلیفہ یزید بن عبدالملک کونصیحت کی: ’’ تمہیں چاہئے کہ تقویٰ اختیار کرنااور رعایا کا مکمل خیال رکھنا کیونکہ کچھ مدت بعد تم بھی یہاں سے رخصت ہوجاؤ گے‘‘؟۔۔۔دنیا کی بادشاہی کی کوئی حیثیت نہیں جس نے خود کو تخت و تاج کا وارث سمجھ لیا وہ رسوا ہوگیا۔خلیفہ ہارون الرشید نے حضرت شفیق بلخی ؒ سے نصیحت چاہی تو درویش نے فرمایا: ’’ اگرتجھے بیابان میں پیاس لگے اور تو پیاس سے تڑپ تڑپ کر قریب المرگ ہو تو اس وقت پانی کے دو گھونٹ کس قیمت پر خریدے گا۔ہارون رشید نے کہا جس قیمت پر بھی ملیں۔ درویش نے کہا اگر فروخت کرنے والا تجھ سے آدھی بادشاہت کے عوض بیچتا ہوتو۔۔۔ہارون رشید نے کہا مَں اپنی آدھی بادشاہت فوراً دے کر دو گھونٹ پانی خرید لوں گا۔

درویش نے کہا :اگر پانی پینے کے بعد تیرا پیشاب بند ہو جائے اور شدید تکلیف میں مبتلا ہو کر ہلاکت کا خوف ہو تو ایسے وقت میں کوئی شخص تیرے علاج کے عوض باقی آدھی بادشاہت دینے کی بھی شرط رکھ دے تو کیا کرے گا؟ ہارون رشید نے کہا مَیں باقی آدھی بھی دے دوں گا۔ درویش نے کہا پھر تو کیا فخر کرتا ہے ایسی بادشاہت پر جس کی قیمت ایک گھونٹ پانی ہو یا پیشاب کے چند قطروں کا اخراج۔

عمران خان یاد رکھنا یہاں خود کو عقل کل اور ناگزیر سمجھنے والوں کا انجام بہت برا ہے ۔کبھی یہ مت بھولنا کہ یہاں حکمرانوں کی حکومت کا انجام آئینی ہوا ،نہ ان کی زندگی کا اختتام طبعی۔۔۔ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کے جاتی ہے۔ انفراسٹراکچر درست کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ادارے جو طاقت ور ہیں، وہ اس قدر طاقتور ہیں کہ آئین سے بھی طاقتور ہیں اور جو کمزور ہیں وہ بے چارے بالکل ہی ناکارہ ہوچکے ۔اداروں میں طاقت کا توازن بہت بڑا چیلنج ہے ۔عوام کو طاقتور اداروں سے کوئی ریلیف مل رہا ہے، نہ کمزور اداروں کی تباہ حال صورت حال سے۔ بیروزگاری کی بڑھتی شرح ،تھانوں کچہریوں میں عدل کا قتل عام ،سرکاری دفاتر میں رشوت کا کاروبار اور ہسپتال میں ذلالت۔۔۔ عام شہری کے لئے یہ نظام ایک عذاب کے سوا کچھ نہیں، جسے بدلنا لازم ہے۔کپتان کو لوگوں نے اسی امید سے ووٹ دئیے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ کپتان نے اگر ان مسائل پر توجہ نہ دی توجذباتی لوگوں میں محبت کو نفرت میں بدلنے میں زیادہ دیر کتنی لگتی ہے؟لوگوں کی امیدیں ٹوٹ گئیں تو کپتان کو کبھی دوبارہ موقعہ نہیں ملے گا،کیونکہ ہم جذباتی لوگ ہیں اور جذباتی لوگوں میں ایک بہت بڑی خامی ہوتی ہے، یہ جس قدر جلد محبت کا اظہار کرتے ہیں جواباًویسی محبت نہ ملنے پر اسی قدر جلد مایوس بھی ہوجاتے ہیں۔

عمران کو یہ بھی کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ حکمرانی میں عظمت صرف اسے نصیب ہوتی ہے جس کا انتخاب قابل مشیر ہوں جو مشیر کی بجائے شریر منتخب کرتا ہو۔ وہ بہت جلد اپنے عبرت ناک انجام سے دوچار ہوجاتا ہے۔ دانائی حکمران کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں فرق بھی پہچانناہو گا۔اپوزیشن لیڈر دن رات حکومت کے بگڑے کاموں پر تنقید کرتا ہے ،جبکہ حکمران نے سابقہ دور کے بگڑے کاموں پر واوایلا نہیں مچانا ہوتا ،بلکہ ان کاموں کی اصلاح اور تعمیر سے اپنا آپ منوانا ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کپتان سے عوام کا رومانس بہت زیادہ ہے اور اس کے پاس سٹریٹ پاور بھی ہے۔ کپتان کو اپنی پاپولیرٹی کو عوام کی فلاح کے لئے استعمال کرنا ہوگا نہ کہ اداروں اور سیاسی جماعتوں سے جھگڑوں میں الجھ کر اسے ضائع کر دیا جائے۔

تریاق کی موجودگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی موجودگی میں زہر کھانے کا رسک لیا جائے۔کپتان کے پاس صرف ایک ہی چوائس ہے کہ وہ پچھلے بائیس سال تک اس نظام کی جن خامیوں کی نشاندہی کرتا رہا ہے، ان کی اصلاح کے لئے تمام وسائل استعمال کرے اور سچ مچ تبدیلی لا کر عوام کی امیدوں پر پورا اترے۔کپتان اگر ایسا کر گیا تو پھر ہمیشہ کے لئے لوگوں کے دلوں میں اتر جائے گا۔دل میں اترنے اور دل سے اترنے میں صرف انسان کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ عمران خان لوگوں کے دل میں تو اتر چکا، اب وہ دلوں میں بستا ہے یا اتر جاتا ہے۔ اس کا سارا دارومدار اسی پر منحصر ہے۔

مزید : رائے /کالم