پاکستان کے تاریخ ساز انتخابات

پاکستان کے تاریخ ساز انتخابات
پاکستان کے تاریخ ساز انتخابات

  

آج کی دنیا جمہوری ہے۔ ایک مخصوص مدت کے لئے لوگ حکومت بناتے ہیں۔ اس مدت کے ختم ہوتے ہی لوگ نئی حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس طرح کی حکومت سازی کا کام دنیا کے اکثر ممالک میں ہوتا رہتا ہے۔ آخر میں جمہوری نظام حکومت ہی بہترین نظامِ حکومت ٹھہرایا جا چکا ہے۔ اس نظام میں نقائص اپنی جگہ موجود ہیں۔ دوسری اور تیسری دنیا میں یہ نظامِ حکومت صرف امیر لوگوں کو ورثے میں مل جاتا ہے۔ ایک عام شہری بہترین تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی اس نظام میں مشکل سے ہی شامل ہو سکے گا۔ یہ غریب، مگر اہل اور جدید تعلیم سے آراستہ لوگ اُس نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ لوگ جو اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوتے ہیں، مگر اُن کا تعلق اور رشتہ امیر لوگوں سے ہونا ہے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے قانون ساز ایوانوں میں پہنچ کر حکومت سازی کے کام میں شریک ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنی ہر قسم کی دولت کا رُخ انتخابات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ دن رات، قسم قسم کے کھانوں کے لنگر چلتے ہیں۔ تیز طراز زبانوں کو نرم کر دیا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں انتخابات میں اخراجات ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک ہوتے تھے۔ آج وہی اخراجات کروڑوں سے بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ اگر اربوں روپوں کے اخراجات کا کہا جائے تو یہ مکمل طور پر غلط تصور نہیں ہوگا۔ ذرا آپ پاکستان کی بڑی بڑی جماعتوں کے انتخابی اخراجات پر نظر رکھیں تو آپ کو میری رائے کو درست تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا۔

عام یہی خیال تھا کہ حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔ پھر بھی تحریک انصاف پاکستان کی دوسری بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے۔ حکومتی جماعت کے کاموں کو لوگوں نے اچھی طرح دیکھا اور پَرکھا ہے۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے، مگر یہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں کوئی بھی باوقار کارکردگی نہیں دِکھا سکی ۔ اس طرح پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو والی پیپلز پارٹی نہیں رہ گئی۔ اس وقت تو وہ ایک عام پاکستانی جماعت کی مانند سیاسی منظر نامے پر موجود ہے۔ میرے نزدیک پیپلز پارٹی کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اُس کی بے حساب کرپشن اور بدعنوانی ہے۔ لوگوں نے اس جماعت سے کُھل کر بداعتمادی اور سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اگر اس میں کوئی انقلابی رُوح نہ پھونکی گئی تو عین ممکن ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ جماعت قومی سطح سے نیچے اُتر کر محض چند ضلعوں کی جماعت بن جائے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی واقعی قابلِ تعریف ہے۔ لوگ اچھے کاموں کو ہرگز نہیں بُھولا کرتے ہیں۔ آ ج کا دور بلاشبہ موٹر ویز کا دور ہے۔ یہ میاں نواز شریف تھے، جنہوں نے پاکستان میں پہلی بار موٹر وے کو متعارف کروایا تھا۔ یہ تجربہ پاکستان کی ترقی اور قومی وحدت کے لئے انتہائی کامیاب ثابت ہُوا ہے۔ لوگ موٹر ویز پر سفر کرتے ہوئے بجا طور پر قومی ترقی پر فخر اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یورپ کی موٹر ویز یورپ کی فقید المثال معاشی اور اقتصادی ترقی کا موجب بنی ہوئی ہےں۔ آج موٹر ویز کی عدم موجودگی میں کوئی بھی ملک ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میاں نواز شریف کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد موٹر ویز کا باقی کام بھی یقینی طور پر مکمل ہوگا۔ میری زندگی کی بہت بڑی خواہش ہے کہ ہمارا پاکستان موٹر ویز والے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے۔ اسی سے ہر قسم کی ترقی کی شاہراہیں کُھل جائیں گی۔ تجارت میں بے حساب اضافہ ہوگا۔ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں گے۔ بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ موجودہ فاصلے بہت حد تک سِمٹ کر رہ جائیں گے۔ آج کا ووٹر کسی صورت بھی اپنے ووٹ کو ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ کبھی زمانہ ہوتا تھا کہ وسیع پیمانے پر ووٹ کی خرید و فروخت کا کام ہوتا تھا۔ آج وہ زمانہ بڑی حد تک ختم ہو چُکا ہے۔ اس انقلابی تبدیلی کو لانے کے لئے ہمارے قومی میڈیا نے خدمات سر انجام دی ہیں۔ یہ کام اب بھی جاری ہے۔ یہ بات ایک کھلی حقیقت بن کر سامنے آچکی ہے کہ ہماری قوم بیدار ہو چکی ہے۔ پانچ سال کا عرصہ ایک بڑی مدت ہوتا ہے۔ مجھے تو اس بات کی بھرپور امید ہے کہ آنے والے پانچ سال میں پاکستان معاشی اور اقتصادی میدانوں میں شاندار ترقی کا مظاہرہ کرے گا۔ تعلیم کا موضوع سرفہرست ہوگا۔ یہ بات ہمارے دل و دماغ میں نقش ہو جانی چاہئے کہ ہم بامقصد تعلیم کے حصول کے بغیر دُنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکیں گے۔

بدقسمتی سے ہم نے آج تک تعلیم کے حصول کو اس کا جائزہ مقام نہیں دیا ہے۔ قوم کے کروڑوں بچے آج بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہو پا رہے۔ ہمیں آج ہی پاکستان میں 100 فیصد تعلیم یافتہ شہری پیدا کرنے کے لئے ایک انقلابی پروگرام بنانے کی ضرورت ہے۔ ہر گاو¿ں میں سکول کھولنے کی ضرورت ہے۔ ہر ضلع میں ایک ایک لازمی یونیورسٹی بنانے کا پروگرام بنایا جائے اور اُس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل کیا جائے۔ جب تعلیم عام ہوگی تو ہمارے گاو¿ں کے لوگ بھی ترقی کی اس دوڑ میں شریک ہو جائیں گے۔ کتنے دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پاکستان کے بعض علاقوں میں درسگاہوں کو بموں سے اُڑا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ہم سب کے لئے اجتماعی طور پر ماتم کرنے کا مقام نہیں ہے؟.... وہ کون لوگ ہیں جو ہمیں ہمیشہ کے لئے تاریک وادیوں میں دھکیلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں جو سچائی اور حقیقت کی دنیا سے دور بھاگ رہے ہیں۔ جہالت تو ایک انتہائی تاریک گڑھا ہے، جس میں ہم سب اوندھے مُنہ گرے ہوئے ہیں۔ کیا ہم قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبال اور سرسید احمد خان کے بار بار پڑھائے ہوئے اسباق کو بُھول چُکے ہیں؟

ہماری مقدس کتاب قرآن پاک سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے۔ ہمیں سختی سے اس بنیاد پر آگے چلنا ہے۔ ہمارا اس وقت کا سب سے بڑا اور مہلک دشمن جہالت ہے۔ اس دشمن کو ہمیں جلد از جلد ختم کرنا ہوگا۔ اس دشمن نے ہمیں بلا شبہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہوا ہے۔ جب تک یہ ”دُشمن“ ہمارے اندر موجود رہے گا۔ اس وقت تک ہم کسی قسم کی ترقی کرنے کے اہل نہیں ہو سکیں گے۔ کاش! ہماری تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور میں تعلیم کو اولیت دینے کا اعلان کرتیں۔ ہماری نئی حکومت تعلیم کی مد میں کم از کم 7 فیصد خرچ کرنے کا اعلان کرے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو آئندہ پانچ سال بعد ہمارا پاکستان تاریکیوں سے نکل کر دنیا کا ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک بننے کے لئے تیار ہوگا۔ مجھے تو میاں محمد نواز شریف اور عمران خان دونوں سے یہ توقع ہے کہ وہ پاکستان کو دنیا کا جدید ملک بنانے کے لئے تعلیم کو اولیت دیں گے۔ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کو یک نکاتی ایجنڈا پر اتفاق کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔ یہ نُکتہ پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے سے متعلق ہے۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان کے باقی حصوں کی طرح تعلیم کو پھیلانے کی بے حد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ عمران خان نے دنیا کا چپہ چپہ دیکھ رکھا ہے۔ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا سے جہالت کو ختم کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھائیں گے اور اس طرح وہ اس علاقے میں 100 فیصد جہالت کا خاتمہ کریں گے۔

اس کی دیکھا دیکھی سارے پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے کی تحریک چل پڑے گی۔ سُوئے لوگ اُٹھ جائیں گے۔ اٹھے ہوئے تمام لوگ تعلیمی اداروں کا رُخ کریں گے تمام قوم کے نوجوانوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو سیکھیں گے۔ یہی راستہ اختیار کرنے سے ہمیں غربت اور بے بسی سے آزادی ملے گی۔ خوشی کی بات ہے کہ عمران خان نے پاکستان میں تعلیم عام کرنے کا جھنڈا اُٹھا رکھا ہے۔ مجھے تو قوم کی نجات اس بات میں نظر آتی ہے کہ سرزمینِ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلیم کو عام کرنے کا آغاز کیا جائے۔ آئندہ پانچ سالوں میں یہ تحریک بجلی کی تیزی سے سارے پاکستان کو اپنی گود میں لے ڈالے۔ قوم کا ہر جوان اس قومی کام کو مکمل کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ قوم کا بچہ بچہ قدمے درمے سخنے اس تحریک کو کامیابی کی طرف لے جائے گا۔ ٭

مزید :

کالم -