آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

  


بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیسویں تراویح

سورۃ الممتحنہ:60 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے، 13 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 91 ویں سورت ہے۔ اٹھائیسویں پارہ کی ساتویں اور آٹھویں رکوع پر مشتمل ہے۔ سورت کا نام آیت 10 کے حکم کے مطابق ہے کہ ”جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں ان کا امتحان لیا جائے“۔ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان نازل ہوئی۔ اس سورت میں حاطبؓ بن ابی کے ہجرت کرنے اور بیعت کے لئے حاضر ہونے والی عورتوں کے حوالے سے احکام ہیں۔اسی سورت میں اللہ ارشاد فرماتا ہے، تمہارے لئے اچھی پیروی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ہے، جنہوں نے صاف طور پر اللہ سے دشمنی رکھنے والوں سے بیزاری ظاہر کر دی۔ البتہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ میں تیری مغفرت چاہوں گا۔ (کیونکہ تو میرا باپ ہے) لیکن یہ بھی کہا تھا کہ میں اللہ کے سامنے تیرے کسی نفع کا مالک نہیں ہوں۔ ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی تھی کہ اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے۔ مسلمانوں کے لئے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کی پیروی ہی مفید ہے، اگر مسلمانوں کو اللہ اور قیامت پر یقین ہے، تاہم اللہ چاہے تو مسلمانوں کے ان کافر رشتہ داروں کو ایمان کی سعادت عطا فرما کر انہیں دوست بنا دے۔ اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جب آپؐ کے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ نہ شرک کریں گی، نہ چوری اور بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ پرایا بچہ لے کر شوہر کو دھوکہ دیں گی کہ وہ اسی کا ہے، تو پھر آپؐ ان سے بیعت فرما لیں اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت چاہیں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی مت کرو، جنہیں کتب سابقہ سے معلوم ہو چکا تھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نبی برحق ہیں، پھر بھی وہ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور اس طرح وہ آخرت کے لئے ناکام و نامراد ہیں۔

سورۃ الصف : 61 ویں سورت

یہ سورت مدنی ہے، 14آیات اور 2، رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے 109ویں سورت ہے اٹھائیسویں پارہ کے نویں، دسویں رکوع پر مشتمل ہے، سورت کا نام چوتھی آیت سے لیا گیا ہے، غالباً غزوہئ احد کے متصل بعد نازل ہوئی۔

بیشک اللہ دوست رکھتا ہے ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں اور اس طرح کہ گویا ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہو، لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم ایسی نہیں تھی۔ وہ ان کو ستاتی تھی، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اسی قوم بنی اسرائیل سے عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے رسول ہونے کا اقرار کیا، توریت کی بھی تصدیق کی اور آنے والے رسول یعنی احمد ﷺ کی بشارت بھی دی، لیکن اس قوم نے انکار کیا۔اور اے ایمان والو! اللہ کے کاموں میں مددگار بنو۔ عیسیٰ ؑنے بھی یہی چاہا تھا، لیکن بنی اسرائیل کا ایک گروہ اللہ پر ایمان لایا اور دوسرے نے کفر کیا، تو پھر اللہ نے ایمان والوں ہی کی مدد فرمائی اور وہ لوگ کافروں پر غالب ہو گئے“۔

سورۃ الجمعۃ:62 ویں سورت

یہ مدنی ہے۔ 11 آیات اور 2، رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 110 ویں سورت ہے۔ اٹھائیسویں پارہ کے گیارہویں بارہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ نام آیت 9 کے فقرہ سے لیا گیا ہے۔ پہلے رکوع کا زمانہ نزول 7 ھ ہے۔ جب خیبر فتح ہوا۔ دوسرا رکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوا۔ (حضورؐ کے مدینہ تشریف لاتے ہی یعنی پانچویں روز جمعہ شروع ہو گیا تھا۔)

فرمایا: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن اذان ہو تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد تمہارے لئے معاش کے کام جائز ہیں اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو خوب یاد کرو اور اللہ کی یاد کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مت دوڑو۔ اللہ کے پاس دنیا کے مال واسباب سے بہتر انعامات ہیں اور وہی سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔

سورۃ المنافقون: 63 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 11آیات اور 2 رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے 104ویں سورت ہے۔ اٹھائیسویں پارہ کے تیرہویں چودہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ نام پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ مضمون کا عنوان بھی یہی ہے، یہ غزوہ بنی مصطلق کے بعد واپسی پر نازل ہوئی، یہ غزوہ 6ھ میں واقع ہوا۔اے ایمان والو! دنیا میں مال اور اولاد سے ایسی محبت نہ کرنا کہ ان کی محبت تمہیں اللہ سے غافل بنا دے، تم اللہ کی راہ میں اللہ ہی کے دیئے ہوئے میں سے خرچ بھی کرو تاکہ موت کے وقت پچھتانا نہ پڑے کہ کاش مجھے اور مہلت ملتی تو میں اللہ کے لئے خرچ کرتا اور جب وہ وقت آ جائے گا تو کسی کو کوئی مہلت نہیں ملے گی اور تمہارے کاموں کی اللہ کو پوری طرح خبر ہے۔

سورۃ التغابن: 64 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 18آیات اور 2 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 108 ویں سورت ہے۔ اٹھائیسوں پارہ کے پندرہویں سولہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ نام آیت 9 سے لیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ اور عطاء بن یسارؒ کہتے ہیں کہ ”ابتدائی تیرہ آیات مکی اور آخری آیات مدنی، غالباً یہ مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ مضمون کا موضوع ایمان، طاعت اور اخلاق حسنہ ہے۔ پس اللہ پر اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ حتی الامکان اللہ سے ڈرو، اس کا حکم سنو، اس کے حکم پر چلو اور اس کی راہ میں اس کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ اور جس شخص نے اپنے مال کو (لالچ چھوڑ کر) اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہی بامراد ہے۔ اگر تم اللہ کی راہ میں خوش دلی سے دو گے، اللہ تمہارے لئے (اس دنیا میں بھی) دوگنا کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اللہ بڑا قدردان اور حلیم ہے اور وہ ہر عیاں اور نہاں کو جانتا ہے۔ وہی عزت وحکمت والا ہے۔

سورۃ الطلاق: 65 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 12 آیات اور 2 رکوع نزول کے اعتبار سے نمبر 99 ہے اٹھائیسویں پارہ کے سترہویں اور اٹھارہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ سورت کا نام اور عنوان بھی الطلاق ہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس کو ”سورۃ النساء القصریٰ“ یعنی ”چھوٹی سورۃ النساء“ کہا کرتے تھے سورت میں طلاق اور عدت جیسے معاشرتی مسائل بیان ہوئے ہیں۔

سورۃ التحریم: 66ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے۔ 12، آیات اور 2، رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 107 ویں سورت، جو اٹھائیسویں پارہ کے انیسویں رکوع پر مشتمل ہے۔ نام پہلی آیت کے لفظ ”لم تحرم“ سے ماخوذ ہے۔ سورت کا نزول 7 ھ یا 8 ھ میں ہوا۔ سورت میں ازواج مطہراتؓ کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ فرمایا: ”اے میرے محبوب ﷺ جو چیز آپؐ کے لئے حلال ہے، اس سے آپؐ پرہیز نہ کریں، اس دن اللہ رسوا نہیں کرے گا اپنے رسول ﷺ کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کا نور داہنی طرف اور بائیں طرف ہر جگہ پھیلا ہو گا اور اس نور کو وہ چاہیں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک باقی رہے۔ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپؐ کافروں اور منافقوں پر جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ نوح علیہ السلام کی بیوی اپنے کفر کی وجہ سے اور لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے نفاق کی وجہ سے جہنم میں گئیں اور ان کے ایسے بلند رشتے کام نہ آئے۔ پھر ان کے برعکس، فرعون کی بیوی نے ایمان حاصل کر کے جنت حاصل کی اور حضرت مریم اپنی پاکبازی اور پارسائی کی وجہ سے کیسی فرماں بردار بندی ثابت ہوئیں! ٭

مزید : رائے /کالم