دھرنا دینے کا حق

دھرنا دینے کا حق
دھرنا دینے کا حق
کیپشن:   1 سورس:   

  

اہلِ وطن کو مبارک ہو کہ آزادی کے 67برسوں بعد انہیں ایک عظیم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔یہ ایک ایسی کامیابی ہے ،جس سے عوام کی تقدیر بدل جائے گی۔بات کچھ اس طرح ہے کہ عوام کو دھرنا دینے کا نہ صرف حق مل چکا ہے، بلکہ پوری قوم نہایت دلجمعی اور یکسوئی سے دھرنوں کے پیچھے پڑ گئی ہے۔کچھ لوگ تو دھرنا دے رہے ہیں اور جو دھرنا دے نہیں رہے ، وہ دھرنا دیکھ رہے ہیں۔دھرنا دینے والوں سے دھرنا دیکھنے والے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کے حوصلے اور صبرکی داد دینا پڑتی ہے کہ وہ نہ صرف دھرنے دیکھ رہے ہیں، بلکہ سن بھی رہے ہیں۔روزوں کے مہینے میں ڈاکٹروں کے پاس رش کم ہو جاتا ہے۔بسیّں اور ویگنیں زیادہ تر خالی نظر آتی ہیں۔دفاتر میں بھی رش کم ہو جاتا ہے۔لوگ اہم سے اہم اور ضروری سے ضروری کام ملتوی کر دیتے ہیں۔شادی بیاہ کے معاملات رک جاتے ہیں۔کوئی بھی کام ہو، کہا جاتاہے کہ روزوں کے بعد کریں گے۔اس لحاظ سے بہت سے مصائب عارضی طور پر ختم ہو جاتے ہیں اور کھانے پینے کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی، اسی طرح دھرنا دیکھنے اور سننے والوں کو ان دنوں دھرنوں کے سوا کچھ اور سجھائی نہیں دیتا۔

عوام کے تمام مسائل وقتی طور پر تو ختم ہو گئے ہیں اور یہ دھرنوں کی برکت ہے، اب بس صرف دھرنے دینے، سننے یا پھر دیکھنے کا مسئلہ درپیش ہے۔مسئلہ بھی کیا ہے ایک تفریح ہے، جسے بچے، خواتین ، بوڑھے اور سب سے بڑھ کر نوجوان انجوائے کررہے ہیں۔یعنی ایک طرف تفریح اور دوسری طرف تمام مسائل نا پید۔اس سے بڑھ کر قوم کے لئے اور کیا نعمت میسر آ سکتی ہے ۔ویسے حقیقت یہ ہے کہ دھرنوں کی نعمت عوام کو مفت میں نہیں ملی۔اس کے حصول کے لئے انہیں سڑسٹھ برس تک انتظار کرنا پڑا ہے۔عوام کو چاہیے کہ موجودہ عظیم سیاسی لیڈرشپ کو بھی داد دیں اور اس کا شکریہ ادا کریںکہ جس نے یک زبان ہو کر اور متفقہ طور پر عوام کے لئے دھرنوں کے عظیم الشان حق کے حصول کو آسان بنا دیا۔آسان بھی کیا بنا دیا، عوام کی جھولی میں ڈال دیا جو آج تک خالی تھی۔عوام پہ خالی جھولی وقتاً فوقتاً پھیلاتے رہتے تھے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اب اس جھولی کو دھرنوں جیسے حق سے بھر دیا گیا ہے۔اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنی جھولی میں دھرنوں کا بوجھ کب تک اٹھاتے ہیں اور اس حق کی کتنی دیر تک حفاظت کرتے ہیں۔

عوام کے جتنے بھی بنیادی حقوق ہیں، انہیں آج تک کوئی بھی نہیں مل سکا۔مثال کے طور پر علاج معالجے کا حق، قانون کے مطابق سلوک کا حق، امتیازی سلوک سے بچنے کا حق، زندگی کی حفاظت کا حق، تعلیم کا حق، انصاف حاصل کرنے کا حق، اس طرح کے اور بھی کئی حقوق ہیں جو عوام کو آج تک نہیں مل سکے۔عوام کی خوش قسمتی کہ ان کو ایک بنیادی حق یعنی دھرنے دینے کا حق تو مل گیا ہے۔یہ حق حاصل کرنے کے لئے جن سیاسی ،عوامی،سماجی ، نیم سیاسی، پاکستانی یا پاکستانی +غیر ممالک کے افراد نے کوششیں کیں۔عوام ان کی خدمات فراموش نہیں کر سکیں گے۔حالیہ دھرنوں میں جو پارٹیاں دھرنا دینا چاہتی تھیں، ان کی تو بات ہی اور ہے، لیکن ان پارٹیوں کو زیادہ خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے جو دھرنا نہیں دینا چاہتی تھیں، لیکن انہوں نے دھرنا دینے کے بنیادی حق کی پرزور وکالت کی ۔اس بنیادی حق کی افادیت کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا اور ان میں شعور اجاگر کیا کہ دھرنا دینے کا حق عوام کا جمہوری حق ہے۔

ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی،جماعت اسلامی اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے دھرنے کو عوام کا جمہوری حق قرار دیا اور اس کے حق میں دلائل پیش کئے۔دھرنوں کو اس قدر حمایت ملنا بظاہر تو حیران کن بات تھی، لیکن ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ان تمام سیاسی جماعتوں نے عوام کو دھرنوں کا حق دلواکر ان کے ساتھ دشمنی کی ہے۔ان لیڈروں اور جماعتوں نے عوام کو دھرنوں کے پیچھے لگا دیا ہے اور خود موج میلہ کر رہے ہیں۔حکمران خوش ہیں کہ دھرنوں کے علاوہ عوام کو اور کوئی بات سوجھتی ہی نہیں۔ اس طرح حکمرانوں کو عوامی مسائل کا آسان حل مل گیا ہے، اگر آٹا نہیں ملتا یا مہنگا ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں۔اگر عوام کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی تو کوئی بات نہیں، روزگار نہیں تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، اگر علاج نہیں ہورہا تو کون سی بڑی بات ہے، اگر مزدوروں کو دیہاڑی نہیں مل رہی تو یہ بھی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

مانا عوام کے پاس کچھ بھی نہیں، لیکن دھرنوںکی سہولت تو ہے۔وہ دھرنے دے سکتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں اور سن بھی سکتے ہیں، اگر وہ خود دھرنے دینا چاہیں تو اس کی سہولت بھی موجود ہے۔حکومت دھرنے دینے والوں کو خوش آمدید کہے گی، بلکہ جہاں تک ممکن ہوا ان کی خوشامد اور چاپلوسی بھی کی جائے گی۔دھرنے کے شرکاءکو وی آئی پیز سے بھی زیادہ سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔اگر ممکن ہوا تو ان کے رعب اور دبدبے میں اضافہ کرنے کے لئے ان کے آس پاس پولیس کی بھاری نفری بھی لگا دی جائے گی۔پولیس کی نفری سے یاد آیا کہ ہمارے گاﺅں میں ایک صاحب تھے، جن کی خواہش تھی کہ وہ سلطان راہی (مرحوم) جیسا لباس پہنیں، ان کو ہتھکڑیاں لگی ہوں، ان کے اردگرد پولیس ہو اور وہ گاﺅں کی گلیوں بھی ٹہل ٹہل کر چلیں اور گاﺅں کی عورتیں ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اُمڈ آئیں۔

اس طرح کی خواہش کو پورا کرنا غریب آدمی کے لئے کافی مشکل تھا، کیونکہ اس طرح کے آدمی کو اور وہ بھی گاﺅں میں پولیس کیوں منہ لگائے گی؟ جہاں پولیس کو پھوٹی کوڑی بھی نہ ملے اور انہیں بھوکا رہنا پڑے۔ہاں اس طرح کی سہولت دھرنے والوں کو ضرور مل سکتی ہے۔

گاﺅں والا غریب کسان تو چند سپاہیوں سے ہی خوش ہو جاتا، لیکن دھرنے والوں کے رعب دبدبے اور ان کی خوشی کے لئے پولیس کے اعلیٰ افسران حتیٰ کہ آئی جی صاحبان کی خدمات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔دھرنے کا جمہوری حق دینے اور دیگر لوازمات فراہم کرنے پر عوام کو نہ صرف حکومت ، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں اور بڑے لیڈروں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔دھرنا دینے کے عمل کو زیادہ بہتر آسان اور مفید بنانے کے لئے عوام کو حکمرانوں سے مزید مطالبات بھی کرنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر ایک مطالبہ تو یہ کیا جا سکتاہے کہ ہر گلی محلے میں حکومت ایک دھرنا گراﺅنڈ قائم کرے۔اس گراﺅنڈ میں عوام کو دھرنا دینے کی تمام جملہ سہولیات، مثلاً لٹرین، باتھ روم، بستر اور خوراک وغیرہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔معیاری ساﺅنڈ سسٹم کا بندوبست سرکاری طور پر کیا جائے۔وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جائے اور چونکہ دھرنا دینے والوں کے لئے لگاتار ایک جگہ پر مسلسل بیٹھنا مشکل کام ہے اور ڈیپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے، اس لئے انہیں کم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ توڑ پھوڑ کی سہولت بھی فراہم کی جائے، تاکہ دھرنا دینے والے اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں اور بوریت محسوس نہ کریں، اگر ممکن ہو تو ان کے لئے ان کی پسند کی موسیقی وغیرہ کا بندوبست بھی کیا جائے اور ان کے لواحقین کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے۔اس مقصد کے لئے اگر مزید قانون سازی کرنا پڑے تو فوراً کی جائے ، اگر اتنا انتظار کرنے کے بعد عوام کو ایک جمہوری حق مل ہی گیا ہے تو اس کی باعزت طریقے سے فراہمی کا بندوبست تو ہونا ہی چاہیے۔

مزید :

کالم -