’’میرے سر میں اچانک درد ہونے لگا اورمزاج بگڑگیا ،ایک دن پیر صاحب نے بتایا کہ تمہارے سر کے بالوں پر ۔۔۔ ‘‘ وہ انتہائی اہم بات جسے خواتیں انتہائی معمولی جان کر یہ غلط کام کرتی ہیں اور پھر انکی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے 

’’میرے سر میں اچانک درد ہونے لگا اورمزاج بگڑگیا ،ایک دن پیر صاحب نے بتایا کہ ...
’’میرے سر میں اچانک درد ہونے لگا اورمزاج بگڑگیا ،ایک دن پیر صاحب نے بتایا کہ تمہارے سر کے بالوں پر ۔۔۔ ‘‘ وہ انتہائی اہم بات جسے خواتیں انتہائی معمولی جان کر یہ غلط کام کرتی ہیں اور پھر انکی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے 

  

میں نے یہ بات سن تو رکھی تھی مگر ا س پر کبھی عمل نہیں کیا تھا ۔اگر میری زندگی میں یہ تلخ واقعہ زہر نہ گھولتا تو میں خود کو سدھارنے کے لئے کجا اپنی نسل کو بھی زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ سکھا پاتی ۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنا یہ تجربہ آپ لوگوں سے شئیر کرکے ان سب خواتین کو آگاہ کروں گی جو راتوں کو اپنے بال بناتی ہیں،کنگھی کرکے بال اسی میں چھوڑ دیتی ہیں اور انکی نوکرانیاں یا پھر وہ خود ہی ان بالوں کا گچھا بنا کر کوڑے میں پھینک دیتی ہیں۔

یہ عادت بہت سی خواتین میں موجود ہے ،نوجوان لڑکیاں تو بالکل اس کی پرواہ نہیں کرتیں اور اپنے بالوں کو کنگھی ،برش سے نوچ کرفرش پر پھینک دیتی ہیں جو اڑتے پھرتے اور پھر کوڑے میں شامل ہوجاتے ہیں۔

مین بھی اس معاملے میں بڑی لاپرواہ تھی۔امی کہا کرتی تھیں کہ جویریہ بال سنوارنے کے بعد بچھے کھچے بال زمین پر نہ پھینکا کرو مگر میں انکی باتوں کی پرواہ نہیں کرتی تھی کیونکہ میں پہلے ہی بڑی مشکل سے بال سنوارتی تھی اور پھر انہیں سلیقہ اور نفاست سے پھینکنا میرے لئے کہاں ممکن تھا ۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ عورتوں کا سگھڑ پن ہوتا ہے جو بال سنوارنے کے بعد ٹوٹے ہوئے فالتو بالوں کو کسی ایک جگہ اکٹھا کرتے رہنے کے بعد انہیں جلادیا کرتی تھیں،ویسے ہماری بیاہی اور کنواری لڑکیوں کو اب سگھڑاپے وغیر ہ کا کوئی خیال ہی نہیں رہا۔انہیں مردوں کے سامنے اٹھنے بیٹھنے کی تمیزنہیں رہی۔بے ہودہ کپڑے پہن کر مردوں کے سامنے جانے میں کوئی عار نہیں سمجھتیں۔حالانکہ یہی مشرقی اور اسلامی حسن ہے کہ عورتوں کو اپنی زیبائش اور تہذیب میں شائستگی اور سگھڑاپے کا درس دیا جاتا ہے کیونکہ اسی میں عورت کی حیااور تحفظ بھی ہے۔

ان دنوں میں نے ایف ایس سی میں داخلہ لیا تھا جب میرے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا۔ایک روز میں رات کو سوئی تو بہت ڈراونے خواب آئے،کوئی کالی سی بلا نوکیلے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتی رہی۔میں پریشان ہوکر اور خوفزدہ ہوکر اٹھ بیٹھی ۔امی نے آیت الکرسی پڑھ کر مجھے بمشکل سلایا ۔صبح جب اٹھی تو میرا سر بھاری تھااور جی بھی متلانے لگا،میں نے امی کو بتایا تو بولیں کہ ہوسکتا ہے رات کو جاگنے کی وجہ سے طبیعت پر بوجھ پڑا ہو۔

لیکن یہ جگ رتے کا بوجھ نہیں تھا ۔میرے ساتھ تو یہ معمول بن گیا ،ہر رات کو مجھے ڈروانا خواب آتااور میں ساری رات جاگتی۔پھر میں نے امی کے پاس سونا شروع کردیا۔

میری یہ حالت دیکھ کر امی نے ایک جاننے والی کی مدد سے ایک پیر صاحب سے رابطہ کیا جو اللہ والے تھے ،کوئی پیسہ لئے بغیر لوگوں کا روحانی علاج کرتے ۔انہوں نے استخارہ کرکے بتایا کہ مجھ پر جادو کیا گیا ہے اور یہ کام ان لوگوں نے کروایا ہے جو میرا رشتہ مانگ رہے تھے۔

مجھے تو علم نہیں تھا کون میرا رشتہ مانگ رہا تھا لیکن امی نے اس دن زبان کھولی اوربتایا کہ ساتھ والے ہمسائے کئی مہینوں سے رشتہ مانگ رہے تھے۔ان کا لڑکا میٹرک پاس تھا اور دوکان چلاتا تھا جبکہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی ۔اس لئے امی نے انہیں سختی سے بار بار پوچھنے سے منع کردیا ۔امی کو ویسے بھی ہمسائی پسند نہیں تھی،وہ بڑی چلتر عورت تھی۔

پیر صاحب نے بعد میں انکشاف کیا کہ یہ جادو میرے بالوں پر کیا گیا ہے ۔میں حیران ہوئی کہ ان کے پاس میرے بال کہاں سے پہنچ گئے ۔جب اس رخ پر تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام ہماری نوکرانی نے کیا تھا۔اس نے ہمسائی کو میرے سر کے بال دئیے تھے اور اسکے عوض اسے سو روپیہ ملا تھا ۔

میں پیر صاحب کی دعا اور دم سے ٹھیک ہوگئی اور ایک تعویذ بھی پاس رکھ لیا لیکن پھر میں نے اپنے بالوں کو کھلا چھوڑنا اور کنگھی برش کرنے کے بعد انہیں فرش پر پھینکنا ترک کردیا۔میں نے اس پر کئی کتابیں بھی پڑھیں تو علم ہوا کہ عورتوں کے بالوں پر جادو کرنے کا رواج بہت پرانا ہے۔ ہماری عورتیں اس بات کو نہیں سمجھتیں اور لاپروائی کرتی ہیں۔میں اپنی بہنوں کو نصیحت کرتی ہوں کہ وہ اپنے بالوں کے گچھے بنا کر فرش اور کوڑے میں نہ پھینکا کریں کیونکہ کوئی خاص طور پر جادو نہ بھی کرائے ،اسکے باوجود ان پر شیطان کا سایہ پڑجائے تو ان بالوں والی عورتوں کی دماغی اور جسمانی صحت خراب ہونے لگتی ہے۔

(آپ بھی اپنی زندگی کے حیران کن ،پراسرار واقعات لکھ کر ہمیں اس ای میل پر بھیج سکتے ہیں۔nizamdaola@gmail.com ) 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت