دیے سے دیا جلائیں

دیے سے دیا جلائیں
دیے سے دیا جلائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں تیزی سے ختم ہوتے جنگلات اور ان کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کیلئے معروف سماجی شخصیت وقاص احمد خان کی زیر صدارت دنیا کے سب سے بڑے جنگل(انسانی ہاتھ سے لگایا جانے والا مصنوعی جنگل) چھانگا مانگا میں ’’فاریسٹ پروٹیکشن کمیٹی‘‘کے اجلاس میں پاکستان بھر سے سیاسی،سماجی اور صحافتی شخصیات ،ڈویژنل فاریسٹ آفیسرلاہور چوہدری حیات حسن ،ڈویژنل فاریسٹ آفیسرقصور عمران ستار سمیت محکمہ جنگلات کے افسران نے شرکت کی۔اراکین کمیٹی نے عزم کیا کہ ہم وطن عزیز پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کیلئے جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور نئے پودے اگانے کیلئے بھی بھرپور مہم چلائیں گے۔سیکرٹری جنگلات پنجاب میاں عبدالوحید نے ’’فاریسٹ پروٹیکشن کمیٹی‘‘کے قیام کو سراہتے ہوئے ہر طرح کی تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

اس وقت پوری دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیاں ایک ایسا چیلنج بنی ہوئی ہیں جس سے نمٹنے کیلئے عالمی ماہرین موسمیات و ماحولیات سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں،پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے جہاں درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ماحولیاتی آلودگی کے باعث گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سمندری طوفان کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے روئے زمین پر پائے جانیوالے تمام جانداروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ گلوبل وارمنگ کا بم ، جوہری بم سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک ہے، عالمی درجہء حرارت میں گذشتہ چند دہائیوں سے تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ماضی کی نسبت اب موسمِ گرما میں گرمی کی عمومی صورتحال شدید ہورہی ہے جبکہ موسمِ سرما سکڑتا جا رہا ہے۔ موسمی تغیر کے باعث مختلف ممالک میں کہیں قحط سالی سے لوگوں کا جینا حرام ہے اور کہیں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے انسانی زندگی کو خطرات میں گھیر رکھا ہے۔اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے تحقیقی سروے کے مطابق دنیا میں ہر سال تیس ملین افراد صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونیوالی بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافے کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کی مسلسل کٹائی ہے،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً تیرہ ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔

بھارت سمیت دنیا کے تمام ممالک میں جنگلات اور پودوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے فلم، ڈرامے ،خاکے بنائے جاتے ہیں اور حکومتی سرپرستی میں سماجی تنظیمیں کام کررہی ہیں۔لیکن پاکستان میں اس قدر سنگین صورت حال کے باوجود ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ چندسماجی تنظیمیں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن ان میں WBMفاؤنڈیشن کو اس لیے انفرادی حیثیت حاصل ہے کہ یہ انوائرنمنٹ پر کام کرنی والی واحد NGOہے جو کسی بھی ملکی اور غیر ملکی ادارے یا فرد سے کسی قسم کی ڈونیشن کے بغیر رضاکارانہ طور پر کام کررہی ہے۔ڈبلیو بی ایم فاؤندیشن پاکستان کے سب سے بڑے ادارے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ ہے اور گزشتہ چھے سال سے ہر سال تقریباً دس لاکھ نئے پودے لگا رہی ہے۔سکول ،کالجز،ہسپتال،نہر کنارے ،سڑکوں،پارکوں اور سیرگاہوں سمیت سرکاری و غیر سرکاری پبلک عمارتوں میں پودے لگانے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے 2500سے زائد سکول و کالجز جبکہ پاکستان کی تمام نمایاں سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیز میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ،نقصانات اور آگاہی سے متعلق سیمینارز کا انعقاد کیا گیا جبکہ اہم شاہراؤں پر رود سیفٹی اور ماحول دوستی پر آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔

درخت لگاو مہم کا آغاز کرنے والے چوہدری لقمان ججہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے ، لیکن اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ، فیکٹریاں اور کھٹاراڈیزل گاڑیاں دن رات موت کا دھواں اگل رہی ہیں ، ملک سے درختوں اور جنگلات کا قتل عام جاری ہے۔ مگرکوئی روک تھام کرنے والا نہیں ہے۔ پاکستان کو سرسبز وشاداب بنانے میں نوجوان نسل بالخصوص طلبہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت تمام ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ نئے پودے لگانے کو لازمی قرار دے اور شجرکاری مہم کے ذریعے انسانی زندگی کی جانب بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کو روکنے میں اپنی ذمہ داری نبھائے۔ شجرکاری مہم میں یونیورسٹیوں ، کالجوں سکولوں اور کاشتکاروں سمیت شہریوں کو شامل کیا جائے اور ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات پر بھرپور اگاہی مہم چلائی جائے۔ نئی بننے والی سوسائٹیز کو پابند کیا جائے کہ وہ رقبہ کے لحاظ سے گرینری اور درخت لگائے جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں ، فیکٹریوں ،کارخانوں پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے۔یہ ہماری بقاء اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے اس لیے شہریوں کو چاہئیے کہ وہ حکومت کی جانب دیکھنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ پودے لگا کرماحول کو آلودہ ہونے سے بچائیں۔ ورنہ ماحولیاتی آلودگی کا جن ہمارے بچوں کے مستقبل کو نگل لے گا۔ اس سے بڑی کوئی ماحول دشمنی ہوسکتی ہے کیونکہ کچھ بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنیزحکومتی اداروں پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ اہم شاہراؤں سے درختوں کو کاٹ کر وہاں تشہیراتی بورڈ لگانے کی جگہ بنائی جائے۔

حب الوطنی اورانسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ڈبلیو بی ایم گروپ آف کمپنیزکے ڈائریکٹر ز چوہدری سہیل ججہ اور چوہدری لقمان ججہ نہ صرف کار خیر کے کاموں میں پیش پیش ہیں بلکہ بطور بزنس مین بھی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی بزنس کمیونٹی میں انتہائی قدرومنزلت کے حامل ہیں۔جہاں ایک طرف فیکٹری مالکان اور تاجر کمیونٹی کی لالچی ذہنیت ،ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی واقع ہورہی ہے وہیں ڈبلیو بی ایم گروپ آف کمپنیز کی پراڈکٹس بہترین معیار اور پوری مقدار کا ٹریڈ مارک بن کر دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج بنانے میں مصروف ہے۔WBMگروپ آف کمپنیز نے اپنی آمدن میں سے مخصوص حصہ ڈبلیو بی ایم فاؤنڈیشن کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور دوسرے ویلفئیر کاموں کیلئے مختص کیا ہے۔دیگر فیکٹریز مالکان اور صاحب حیثیت افراد کو بھی چاہئے کہ اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے بلا تفریق ،مذہب و قوم انسانیت کی خدمت کیلئے خرچ کریں۔حقیقی خوشی دوسروں کے چہرے پر مسکان لاکر ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور اصل دولت انسانیت ہے۔آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم میں سے ہرکوئی اپنی استطاعت کے مطابق نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کا عزم کرے بلکہ خود غرضی اور جہالت کی تاریکی کو ختم کرنے کیلئے اپنے حصے کا دیا جلائے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ