اسلامک ٹچ  کامشورہ

اسلامک ٹچ  کامشورہ
اسلامک ٹچ  کامشورہ

  

دوران ریلی سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کو خطاب میں قاسم سوری کی جانب سے لقمہ دینے کی ایک  ویڈیوسوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح  پھیل رہی ہے،لوگ دھڑا دھڑ اسے شئیرکررہے ہیں،سٹیٹس لگارہے ہیں اور اپناحصہ ڈال رہے ہیں،اگر دیکھاجائے تو یہ ویڈیو کلپ عوام کی آنکھیں کھولنے کیلئے کم نہیں۔جہاں باشعورعوام کی تعداد بہت بڑی ہے وہیں  ایسے سادہ لوح افرادبھی بہت ہیں جنہیں بھیڑ بکریوں کی طرح جس طرف ہانک دیاجائے وہ چل پڑتے ہیں،نہیں دیکھتے کہ ہمیں اس طرف کیوں ہانکا جارہاہے،یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس راستے پر آگے چل کر کہیں گڑھا ہی نہ ہو اور وہ گرکر اپنی ٹانگیں تڑوابیٹھیں جیسا کہ گزشتہ دنوں ریلی میں شریک ایک شہری راوی پل سے گرکر اپنی ہڈیاں تڑوابیٹھا،جن کیلئے وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر ریلی میں شریک تھا،وہ اسے ہی زاروقطار روتا چھوڑ کر اپنے ہجوم سمیت آگے بڑھ گئے، کئی گھنٹوں بعد کچھ لوگوں نے اٹھا کر  اسے ہسپتال منتقل کیا۔

چونکہ ہم قوم کم اور ہجوم زیادہ ہیں اسی لیے سیاستدان بھی اسی ہجوم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جب دل کرے ہمیں ہانکتے پھرتے ہیں، سیاستدانوں کے اپنے مقاصدہوتے ہیں اور نعرے عوامی لگائے جاتے ہیں حالانکہ بنظرعمیق دیکھیں تو پتا چل جاتاہے کہ سیاستدانوں کو عوام کے دکھوں کی کتنی تکلیف ہے،عوام چاہے جتنے  بھی تکلیف میں رہیں،سیاستدانوں کو اپنی کرسی،اپنے آرام ،اپنے پروٹوکول اور اپنے مقاصد سے سرو کار ہے،یہ چیز سمجھنے کی ضرورت ہے،جس دن اس عوام کو یہ سمجھ آگئی اس دن شاید ان کے مسائل بھی حل ہوجائیں۔

تحریک پاکستان سے لے کر تاریخ پاکستان کا مطالعہ کریں تو آپ کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ اس خطے میں کون کون عوام سے مخلص رہا اور کس کس نے عوام کا سودا کیا،کس نے اصولی سیاست اور حکومت کی اور کس نے اصولوں کی سودے بازی کی،کون ملک کو دنیا بھرمیں نام دینا چاہتا تھا اور کون اس نام کو بیچ کر اپنے عیش وعشرت کا سامان خریدتا رہا؟

"حقیقی آزادی مارچ" کی  ریلی کے دوران کنٹینر پر کھڑے عمران خان جب  ہجوم سے خطاب کررہے تھے توساتھ کھڑے قاسم سوری نے خان صاحب کے کانوں کے قریب ہوکر کہاکہ ’’خان صاحب تقریرمیں تھوڑا اسلامک ٹچ بھی دیں‘‘۔۔حساس قسم کے مائیک نے یہ آواز ریکارڈ کرلی اور آج ہر بندہ یہ آواز سن رہاہے،اس ویڈیو نے واضح کردیاہے کہ یہ سیاستدان دوران تقریر کیسے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں،وہ عوام کی دکھتی رگوں پر ہاتھ کیسے رکھتے ہیں،وہ موقع کے حساب سے الفاظ اور جملوں کا کیسے استعمال کرتے ہیں،جیسا کہ اس سے پہلے ریاست مدینہ کا نعرہ لگایاگیا، کیوں؟۔۔اس لیے کہ یہاں کسی کو بھی کرسی اقتدار تک پہچانے والے مسلمان ہیں اورمسلمانوں کو جانوں سے بھی عزیز مدینہ شہراور وہاں کی ہرچیز ہے لہذااگر کوئی شخص یہ نعرہ لگاتاہے کہ وہ اس ملک کو فلاحی ریاست بنائے گا اور ریاست مدینہ کے اصول لاگو کرے گا تو اس سے بڑھ کر  اہل ایمان کیلئے کیا ہوسکتاہے؟۔۔لہذا پھر مدینہ کے نام پر عوام کو اپنے ساتھ ملایاجائے اور پھر جو مرضی ہے کرتے پھریں۔

میرا سوال قاسم سوری اور ان جیسے دیگر تمام جماعتوں کے مشیروں سے ہےکہ آپ جیسے لوگ دوران تقریرتو اسلامک ٹچ دینے کامشورے دیتے ہیں،اگر دوران حکومت بھی کوئی اچھا مشورہ دیدیں تو عوام کی زندگی میں حقیقی انقلاب آجائے،بصورت دیگر آپ ٹچ ٹچ کھیلتے رہیں گے اور عوام محرومیوں کی دلدل میں مزید دھنستے جائیں گےجہاں سے انہیں نکالنابہت مشکل ہوجائے گا۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

بلاگر کاتعلق لاہور کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس سے ہے۔مختلف اخبارات میں کالم،ویب سائٹس پر بلاگز لکھتے رہے ہیں،ڈیلی پاکستان کیلئے مستقل بلاگز لکھتے ہیں،ان سے فیس بک پر اس آئی ڈی سے رابطہ کیاجاسکتاہے۔Munazer.ali

مزید :

بلاگ -