ڈینگی کے بڑھتے مریض لمحہ فکریہ

ڈینگی کے بڑھتے مریض لمحہ فکریہ
ڈینگی کے بڑھتے مریض لمحہ فکریہ

  

                                                                                    ایک سروے کے مطابق لاہور کے ہسپتالوں میں ایک دن میں ڈینگی کے مزید 80مریض داخل کرائے گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈینگی کے پھیلاﺅ میں اضافہ ہورہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈینگی وائرس کی شدت دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور محکمہ صحت سمیت تمام اداروں کے ہرممکن اقدامات کے باوجود ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ گزشتہ روز چوبیس گھنٹے کے دوران سروسز ہسپتال میں 16میو ہسپتال میں 20، اتفاق ہسپتال میں 10، شالیمار ہسپتال میں 20، شیخ زید ہسپتال میں 5، واپڈا ہسپتال اور فاطمہ میموریل ہسپتال میں ڈینگی بخار کا ایک ایک نیا مریض آیا۔ اس کے علاوہ شہر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ڈینگی کے 25نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ شہر میں ڈینگی کیسز کی تعداد میں اضافہ پر محکمہ صحت نے مبینہ طورپر اعدادوشمار کو چھپانا شروع کردیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے تمام محکمے ڈینگی کی تباہ کاریوں سے شہریوں کو بچانے کے لئے سرگرم کردار ادا کررہے ہیں اس کے باوجود آئے روز مریضوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اب تک شہر میں 10افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے ایک اجلاس میں انسداد ڈینگی مہم کے حوالے سے سرکاری حکام کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران انسداد ڈینگی مہم کے دوران بہتر کارکردگی دکھانے والے ارکان اسمبلی اور افسروں واہلکاروں میں تعریفی سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے۔ ڈینگی بخار کی روک تھام کے حوالے سے گزشتہ دنوں منعقدہ ایک میٹنگ میں میاں محمد شہباز شریف نے سابق وزیر صحت خلیل طاہر سندھو پر برس پڑے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کی ناقص کارکردگی کے نتائج وزیر موصوف کو بھگتنا ہوں گے۔ سب کی نظریں اس طرف مرکوزتھیں کہ اب کیا ایکشن ہوتا ہے۔ صرف ایک ہی روز بعد عملی طورپر نتیجہ سامنے آگیا۔ خلیل طاہر سندھو سے صحت کی وزارت واپس لے لی گئی۔ بیوروکریسی نے بھی اس حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے چنانچہ سیکرٹری صحت پنجاب ملک حسن اقبال کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر اوایس ڈی بنادیا گیا۔ حکومت پنجاب بالخصوص وزیراعلیٰ نے گزشتہ برس انتھک محنت کرکے اس ڈینگی کی وباءپر قابو پایا تھا۔ کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا جب ایک یا ایک سے زائد اموات واقع نہ ہوتی ہوں ۔ لاہوریوں نے امید اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس کامیابی میں چیف سیکرٹری ، کمشنر ، ڈی سی او، صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، صوبائی وزیر تعلیم، منسٹر ایریگیشن ، سیکرٹری آبپاشی ، بلال یاسین وزیر خوراک خواجہ عمران نذیر ایم پی اے ، میاں مرغوب احمد، خواجہ احمد احسان، ،توصیف شاہ ، ایکس ای این لاہور ڈویژن، ایکس ای این ڈسچارج ڈویژن، ایکس ای این ورکشاپ ودیگر تاجررہنما ملک ندیم گلبرگ ، لبرٹی کے نام قابل ذکر ہیں۔ حکومت نے اس وباپر قابو پانے کے لئے بیرون ملک سے بھی کمک منگوائی تھی۔ سری لنکن ماہرین نے لاہور آکر ہمارے طبی ماہرین کو اس حوالے سے نہ صرف اپنے تجربات سے آگاہ کیا بلکہ تربیت بھی دی۔ پھر سب نے دیکھا کہ اس مرض پر مکمل طورپر قابو پالیا گیا۔ اس کامیابی میں سرکاری اہلکاروں کا بھی بھرپور کردارتھا ۔ بالخصوص لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس مرتبہ ڈینگی کے حوالے سے اموات پھر بڑھنا شروع ہوگئیں ہیں اور مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صورت حال کا سخت نوٹس لے کر نئی ٹیم میدان میں اتاری ہے وزارت صحت کا چارج خواجہ سلیمان رفیق کو دیا گیا ہے جبکہ سیکرٹری ہیلتھ کی ذمہ داریاں بابر حیات تارڑ کے سپرد کی گئی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ انسداد ڈینگی مہم میں شریک تمام متعلقہ محکموں کو ایک جامع پروگرام بناکردے تاکہ وہ اس کے مطابق اپنی اپنی سطح پر انسداد ڈینگی کے کام کو آگے بڑھا سکیں۔نیز یہ کہ عوام اپنے گھروں کے اندر بیڈرومز، سٹورز، کیچن اور دیگر مقامات پر صفائی کو یقینی بنائیں۔ ٹاﺅن شپ اور اقبال ٹاﺅن (دیگر علاقوں ) کے مکینوں نے اعتراض کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے فارم پرکروانے کے بعد انہیں اپنے طورپر علاقے میں سپرے کروانے کی ہدایت کی گئی مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے نیز یہ کہ حکومتی اراکین اور ادارے ڈینگی مہم کی آڑ میں صرف فوٹو سیشن کروارہے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -