قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 96

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 96
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 96

  

بھٹی صاحب بھی میری طرح زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن انہوں نے تمام زندگی بڑی وضعداری سے گزاری ۔ قلم کی کمائی کے علاوہ ان کا پیٹ پالنے کا اور کوئی وسیلہ نہیں تھا لیکن کیا مجال کہ ان کے اخراجات کے معیار پر کبھی کوئی آنچ آئے یا کسی نے بھٹی صاحب کو دستِ سوال تو درکنار قرض مانگتے ہوئے بھی دیکھا ہو۔ وہ ٹی ہاؤس میں آئیں،کافی ہاؤس یا عرب ہوٹل میں ہوں ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ بل خود ادا کریں۔ ان کے گھر کوئی چلا جاتا تو کھانے یا چائے میں سے جس چیز کا بھی وقت ہوتا اس سے تواضع کرتے تھے اور انہوں نے اسی طرح تمام زندگی گزاردی۔

میرے ساتھ ان کے مراسم ایک جونیئر کے سے تھے۔ چونکہ وہ سینئر تھے اس لیے انہیں حق پہنچتا تھا کہ وہ اکثر معاملات میں مجھے مشورے دیں۔ میرا ذہن ان سے تھوڑا نیا تھا اور وہ کچھ پرانے رنگ میں رنگے جا چکے تھے۔ لیکن وہ ایسے پیچھے بھی نہیں تھے۔ جب کبھی تجربات کا شوق اٹھتا تھا تو تجربے بھی کرتے تھے ۔ انہوں نے ایک ایسا تجربہ بھی کیا جو برسوں لوگوں کے موضوع بحث رہا۔ یہ ان کی ایک نظم تھی جو انہوں نے سب سے پہلے مجھے سنائی۔ اور کہنے لگے کہ میں نے اس میں بڑا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے جو نظم سنائی، اس کا عنوان تھا ’’برہن ‘‘ اور چھن چھن کے الفاظ سے شروع ہوتی تھی ۔ بلکہ وہ نظم کچھ یوں تھی۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 95  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چھن چھن

چھن چھن چھن

چھن

چھن چھن چھن چھن

چھن

چھن۔۔۔چھن۔۔۔چھن

کہنے لگے کہ کیسی ہے یہ نظم۔ میں نے کہا کہ بزرگو! یہ تو آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ کیسی ہے۔ اب آپ جو مطلب مجھے اس کا بتا رہے ہیں وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے ۔ لیکن مجھے تو آپ نے مطلب سمجھا دیا مگر کیا آپ ہر پڑھنے والے کو بھی اس طرح مطلب سمجھائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ اسے جانے دیجئے ۔ کہنے لگے کہ نہیں نہیں۔

میں نے پھر انہیں ایک لطیفہ سنایا کہ ایک ڈرائنگ ماسٹر نے اپنے شاگرد سے کہا کہ تصویر بناؤ کہ گائے چراگاہ میں چر رہی ہے ۔ وہ پانچ منٹ میں تصویر بنا کر لے آیا۔ تصویر کو ٹیچر کے سامنے رکھا تو یہ ایک سادہ کاغذ تھا۔ اس نے کہا کہ یہ کیا ہے ۔ تو شاگرد نے کہا کہ تصویر ہے ۔ ٹیچر نے کہا کہ گھاس کہاں ہے تو شاگرد نے کہا کہ وہ تو گھاس کھا کر چلی گئی ہے ۔ چنانچہ میں نے کہا کہ یہ بالکل اسی قسم کی نظم ہے اس لیے آپ اسے نہ چھپوائیے ۔ مگر انہوں نے کہا کہ یہ طوفانی نظم ہے میں تو چھپواؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے وہ نظم چھپوائی۔ نظم کا چھپنا تھا کہ جہاں جہاں ادیبوں کے ٹولے ہوتے تھے وہاں اس پر بحث چلتی رہی اور اس کی بہت پیروڈی ہوئی۔ حتیٰ کہ عبدالمجید سالک جیسے ثقہ بزرگ نے بھی اس کی پیروڈی کی اور اپنے کالم میں اس کا ذکر کیا۔ اس کے بعد چراغ حسن حسرت جیسے بزرگ نے بھی اس کا خاصا نوٹس لیا۔ غرض یہ نظم کئی سال تک زیر بحث رہی لیکن بھٹی صاحب کا خیال تھا کہ اس نظم کی کامیابی کی یہ دلیل ہے کہ کئی سال تک لوگ اس پر بحث کرتے رہے۔

ایک اور بھی بھٹی صاحب کی خصوصیت تھی۔ انہیں کلام سنانے کی عادت تھی۔ وہ جب تک اپنی لکھی ہوئی کوئی نئی چیز سنا نہیں لیتے تھے انہیں چین نہیں آتا تھا۔ اکثر دوستوں کو معلوم تھا کہ ان کی یہ عادت ہے ۔ لہٰذا دوست گریز کرتے تھے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے میں اپنا تجربہ بیان کر لوں ۔ وہ اسلامیہ کالج کے سامنے ریلوے روڈ پر ایک چوبارے میں رہتے تھے ۔ میں ان سے ملنے کیلئے گیا تو وہ حسب معمول بڑے تپاک سے ملے اور میرے لیے چائے منگوائی ۔ پھر کہنے لگے کہ میں نے کچھ افسانے لکھنے شروع کئے ہیں۔ ذرا سنو تو سہی۔ میں مؤدب ہو کر بیٹھ گیا اور کہا کہ میں اس پر رائے تو نہیں دے سکوں گا۔ کہنے لگے کہ نہیں آپ قاری تو ہیں اور میں قاری کی حیثیت سے آپ سے اس پر رائے لینا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے دو افسانے سنائے۔ اس میں کوئی ایک گھنٹہ گزر گیا کیونکہ خاصے طویل افسانے تھے۔ اب مجھے واپس بھی جانا تھا ۔ افسانے ختم ہوئے تو میں نے اجازت چاہی۔کہنے لگے کہ نہیں آپ کھانا کھا کر جاؤ۔ کیونکہ تم نے یہاں بہت وقت صرف کیا ہے۔ جب تک گھر پہنچو گے تو کھانے کا وقت گزر جائے گا۔ چنانچہ کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد میں جانے کیلئے اٹھا تو کہنے لگے کہ ذرا بیٹھو ۔ کچھ تازہ کلام ہے وہ سن لو۔ میں نے ان کے بارے میں سن تو رکھا تھا لیکن ان کی سنانے کی عادت کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ انہوں نے کچھ چیزیں سنائیں کہ اچانک اندر سے آواز آئی۔ یہ اندر گئے تو میں باہر سے چپکے سے کھسک کروہاں سے بھاگ آیا۔ میں نے ان کے بارے میں جو سنا تھا اس کا اب یقین آنے لگا ۔اس لیے میں واقعی ایک طرح سے بھاگ کر ہی وہاں سے آیا کیونکہ مجھے ڈر یہ تھا کہ اگر میں وہاں بیٹھا رہا تو شام کا کھانا بھی وہیں کھانا پڑے گا۔

بھٹی صاحب کے سنانے کے سلسلے میں ایک اور لطیفہ بھی مشہور ہوا۔ یہاں میں ان سے معذرت چاہوں گا کیونکہ وہ بہت خوبیوں کے مالک تھے باقی اس طرح کی عادتیں تو سب میں ہی ہوسکتی ہیں۔ ہوا یوں کہ بھٹی صاحب صبح صبح ایک دن جناب احمد ندیم قاسمی کے ہاں پہنچ گئے۔ قاسمی صاحب اس وقت نسبت روڈ پر رہتے تھے۔ ان سے کہنے لگے کہ قاسمی صاحب میں نے ایک ناول لکھا ہے اس کا ایک آدھ باب آپ کو سنانا چاہتا ہوں تاکہ رائے لے سکوں ۔ انہوں نے ایک باب سنایا اور پھر دوسرے پر پہنچ گئے اور وہاں سے پھر تیسرے باب پر پہنچ گئے۔ اب دونوں بزرگ سگریٹ پی رہے ہیں۔ ایک بزرگ سنا رہا ہے اور دوسرا سن رہا ہے۔ کہ اتنے میں سعادت حسن منٹو وہاں آگئے۔ یہ منٹو صاحب کی وارفتگی کا زمانہ تھا اور وہ کبھی کبھی ان دوستوں کے پاس چلے جاتے تھے جہاں انہیں لینے دینے میں عارنہ ہو۔ قاسمی صاحب کے پاس جب وہ پہنچے تو بھٹی صاحب اپنا ناول سنا رہے تھے ۔ انہوں نے بھٹی صاحب پر تو توجہ نہ دی لیکن قاسمی صاحب سے کہا کہ مجھے کچھ پیسے دے دیجئے۔ قاسمی صاحب اندر گئے اور منٹو صاحب کو پیسے لا دیئے۔ جب منٹو صاحب جانے لگے تو بھٹی صاحب نے کہا کہ منٹو صاحب ذرا ایک منٹ بات سنئے میں قاسمی صاحب کو اپنے ناول کے کچھ باب سنا چکا ہوں اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو تھوڑی دیر آپ بھی بیٹھئے اور ایک باب سن لیجئے کیونکہ آپ کی رائے میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

منٹو صاحب نے انہیں دھتکار دیا اور کہا کہ قاسمی تو بیوقوف ہے اور تم نے مجھے بھی بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔ سننے میں آتا ہے کہ اس کے باوجود بھٹی صاحب نے بازو سے پکڑ کر منٹو صاحب کو بٹھا لیا اور کہا کہ نہیں صاحب میں تو آپ کو ایسے نہیں جانے دوں گا چاہے آپ کچھ بھی کہتے رہیں ۔میں آپ کو کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور سنا کر بھیجوں گا۔ آخر کار منٹو بیچارے کو بیٹھنا پڑ گیا اور بھٹی صاحب نے انہیں سنا کر ہی وہاں سے جانے دیا۔سنانے کے ایک اور مریض ہمارے دوست حافظ لدھیانوی بھی تھے ۔ میں مصری شاہ میں رہتا تھا اور سائیکل اس زمانے میں میری سواری تھی۔ اس زمانے میں اکثر خوشحال لوگوں کے پاس سائیکل ہی ہوا کرتی تھی یا پھر وہ پیدل یا تانگے پر سفر کرتے تھے۔ میں جب مصری شاہ سے نکلتا تھا تو ریلوے سٹیشن کے قریب ریوالی سینما سے گزر کر ’’اداکار‘‘ کے دفتر جاتا تھا جس کا میں ایڈیٹر تھا۔ حافظ صاحب ریوالی سینما کے اردگرد کہیں رہتے تھے۔ انہیں میرے آنے جانے کا وقت معلوم تھا ۔ اکثر میں دیکھتا تو یہ انگریزی سوٹ پہنے وہاں کھڑے ہوتے ۔ خاصے خوش پوش تھے۔ جب میں وہاں سے گزرتا تو میری سائیکل روک کر کہتے کہ یار قتیل سناؤ کچھ کہا ہے ۔ میں نے اگر کچھ کہا بھی ہوتا تو سناتا نہیں تھا کیونکہ مجھے سنانے کی بالکل عادت نہیں ہے۔ چنانچہ معذرت کر لیتا لیکن یہ کہتے کہ اچھا پھر مجھ سے سنو ۔ یہ کوئی نہ کوئی تازہ چیز سنا دیتے تھے۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 97 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -