جُرمِ ضعیفی

جُرمِ ضعیفی
جُرمِ ضعیفی

  

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اقتدار، دولت، شہرت اور تمام دنیاوی آسائشوں کے باوجود انسان سمجھنے لگتا ہے کہ وہ محروم ہے، اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ کوئی ایسی کمی ہے جو اُسے مسلسل کھٹکتی رہتی ہے۔ وہ اس کمی کو دور کرنے کے لئے بے چین اور بے تاب ہو جاتا ہے۔ اقتدار اور طاقت اس کے لئے بے معنی ثابت ہوتی ہے۔ قدیم یونانی روایات میں ایک ایسے ہی بادشاہ کا ذکر ہے، جس کی سلطنت وسیع و عریض تھی۔ وہ اپنے دور کا طاقتور ترین حکمران تھا۔ اس کے ایک اشارے پر اکڑی ہوئی گردنیں زمین بوس ہو جاتی تھیں۔ وہ لوگوں کو دولت دیتا تھا۔ فقیر کو امیر کبیر بناتا تھا اور امیر کو فقیر.... موت بھی دے سکتا تھا اور زندگی بھی بخشنے کی طاقت رکھتا تھا۔ اردگرد کے ممالک میں بھی اس کی دہشت تھی اور حکمران اسے خوش کرنے کے لئے تحفے تحائف بھیجتے رہتے تھے۔ اتنی طاقت کے باوجود بادشاہ پریشان رہتا تھا۔ اس کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ دولت کے خزانے اور بے پناہ طاقت کے باوجود وہ نرینہ اولاد نہیں پا سکا تھا۔ بادشاہ کو کسی نے مشورہ دیا کہ کسی جنگل بیابان میں ایک درویش رہتا ہے۔ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے، اگر وہ درویش بادشاہ کے لئے دعا کے ہاتھ اوپر اٹھا دے تو بادشاہ کے ہاں اولاد نرینہ ہو سکتی ہے۔

بالآخر بڑی محنت اور مشکل کے بعد بادشاہ اس درویش کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوگیا۔ لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ صحرائی درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کانٹوں کی ایک جھونپڑی میں بادشاہ ریت پر درویش کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آنے کا مقصد بیان کیا اور دعا کی التجا کی۔ درویش بادشاہ کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بڑے پیار سے کہا کہ ہم دروپش لوگ بادشاہوں کے لئے دعا نہیں کرتے۔ بادشاہ یہ الفاظ سن کر بچوں کی طرف گریہ زاری کرنے لگا۔ اس کی آخری امید بھی خس و خاشاک کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بادشاہ دوبارہ منتیں کرنے لگا۔ درویش کو شاید اس کی حالت پر ترس آگیا۔ درویش نے حکم دیا کہ وہ ایک سال مزید انتظار کرے۔ اپنے درباریوں، وزیروں، مشیروں دیگر حکومتی اہلکاروں اور عوام کو خوش رکھے۔ ایک سال بعد درویش خود جا کر معلوم کریں گے۔ اگر بادشاہ کے درباری مشیر وزیر اور رعایا خوش ہوئے تو وہ بادشاہ کے لئے دعا کریں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر حکم عدولی کے لئے بادشاہ کو سزا دی جائے گی۔

بادشاہ نے بخوشی یہ شرط قبول کر لی۔ ایک سال بعد بادشاہ دوبارہ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔ درویش حسب وعدہ بادشاہ کے ساتھ چل پڑا۔ دربار لگا اور درویش نے تمام درباریوں، وزیروں، مشیروں اور رعایا کے نمائندہ افراد سے بادشاہ کے بارے میں استفسار کیا۔ تمام نے یک زبان بادشاہ کی تعریف کی۔ اس کے قصیدے گائے اور درویش سے کہا کہ ہمارا بادشاہ تو خدا کا اوتار ہے۔ اتنی خوشحالی، رحمدلی، مراعات اور امن و چین نہ کبھی کسی کو پہلے نصیب ہوا اورنہ آئندہ نصیب ہوگا۔ درباریوںکی یہ گفتگو سن کر درویش بہت خوش ہوا۔ اُس نے بادشاہ کو اشارہ کیا کہ دربار برخاست کر دیا جائے، پھر اگلے روز دوبارہ دربار لگانے کے لئے کہا۔ اگلے روز دوبارہ دربار لگا تو تمام درباری، وزیر مشیر یہ دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گئے کہ درویش بادشاہ کے تخت پر ہے۔ بادشاہ فقیروں والے لباس میں تحقیر آمیز انداز میں زمینی فرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ درویش اپنے تخت سے تحکمانہ لہجے میں درباریوں سے مخاطب ہوا۔ وہ کہنے لگا کہ آج سے میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ تمہارا پہلا بادشاہ ایک ظالم انسان تھے۔ اگر تم اس کو سزا دینا چاہو تو یہ میرے ساتھ تعاون تصور ہوگا۔ اس تعاون کے بدلے میں تمہیں بہت سی شاہی مراعات حاصل ہوں گی۔

بادشاہ نے کہا کہ اگر کسی کو شکایت ہے تو پہلے والے بادشاہ پر الزامات لگانا شروع کئے جائیں۔ دربار میں حیرت انگیز منظر یہ پیش آیا کہ تمام درباری بادشاہ کے جرائم بیان کرنے لگے۔ وہ بڑھ چڑھ کر الزام لگا رہے تھے۔ موجودہ بادشاہ خوش ہو رہا تھا اور الزام لگانے والوں کو شاباش بھی دی جا رہی تھی۔ الزامات لگانے والوں کے حوصلے مزید بڑھتے جا رہے تھے۔ اس وقت نہایت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی، جب ایک لنگڑا درباری لنگڑاتا ہوا بادشاہ سلامت کے حضور پیش ہوا۔ اس نے کہا کہ مَیں بادشاہ پر کوئی الزام تو نہیں لگاو¿ں گا، لیکن میری ایک خواہش ہے، جسے مَیں پورا کرنا چاہتا ہوں۔ بادشاہ نے لنگڑے درباری کی خواہش پوچھی تو وہ کہنے لگا کہ مَیں اپنے پہلے بادشاہ کو اپنے پاو¿ں سے ٹُھڈا مارنا چاہتا ہوں۔ بادشاہ نے ٹُھڈا مارنے کی وجہ پوچھی تو لنگڑے نے کہا کہ اُس کی محبوبہ نے اسے طعنہ دیا تھا کہ تم لنگڑے ہو، کسی جانور کو بھی ٹھڈا نہیں مار سکتے۔ مَیں نے آج موقع غنیمت جانا کہ کیوں نہ بادشاہ کو ہی ٹھڈا مار کر اپنے نمبر بنائے جائیں اور محبوبہ کے سامنے اپنی عزت بڑھائی جائے۔

الزامات کی بھر مار کی وجہ سے تخت پر بیٹھا ہوا بادشاہ بھی پریشان ہو گیا۔ بادشاہ نے کہا کہ پہلے بادشاہ کے خلاف الزامات کی ایک فہرست تیار کی جائے۔ فہرست کا جائزہ لینے کے بعد پہلے والے بادشاہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اسے سزا دی جائے گی۔ ایک منشی کو حکم ہوا کہ فوراً الزامات کی فہرست تیار کی جائے۔ فہرست تیار ہوئی اور بادشاہ سلامت کو پیش کر دی گئی۔ بادشاہ نے فہرست کا بغور مطالعہ کیا اور درباریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ الزامات کی یہ فہرست ابھی ادھوری ہے۔ اس میں ایک جرم شامل کرنا ضروری ہے۔ وہ ہے ”جرم ضعیفی“....اگر تم لوگوں نے یہ جرم شامل نہ کیا تو دیگر جرائم پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوگی، کیونکہ کارروائی کرنے کے لئے اس جرم کا فہرست میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔ یہ سُن کر تمام درباری یک زبان بولے کہ ہمیں منظور ہے۔ فہرست میں یہ جرم بھی شامل کیا جائے تاکہ بادشاہ کے خلاف کارروائی ہو سکے۔ منشی نے ”جرم ضعیفی“ بھی فہرست میں شامل کر دیا۔ فہرست بادشاہ کو تھما دی گئی اور دربار اگلے روز تک مزید کارروائی کے لئے برخاست ہو گیا۔ اگلے روز دوبارہ دربار لگا تو تمام درباریوں کے چہرے لٹک گئے۔ چہروں کی رنگت پیلی ہوگئی اور اُن کی سانس گلے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ اُن کا پہلا بادشاہ ہی تخت پر براجمان ہے اور درویش زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔ درویش نے کہا کہ درویشوں کو بادشاہی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تمہارے بادشاہ نے صرف دعا کرانے کے لئے ایک دن کے لئے بادشاہت چھوڑی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر تمام درباری، وزیر، مشیر اپنے بادشاہ اور فقیر کے قدموں میں گرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہمیں شیطان نے بہکایا تھا کہ ہم نے اپنے فرشتہ سیرت بادشاہ پر الزامات لگائے۔ فقیر نے کہا کہ مَیں نے تو اپنا وہ کام کر دیا ہے، جس کے لئے مَیں آیا تھا۔ تمہارے بادشاہ کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اولاد نرینہ سے نوازے گا۔ میرا رموز مملکت سے کوئی سروکار نہیں۔ اب تم جانو اور تمہارا بادشاہ جانے....یہ کہہ کر درویش وہاں سے رخصت ہوا۔ قدیم بادشاہ کی اس کہانی کو اگر ہم اپنے حالات پر لاگو کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف جرائم کی فہرست ابھی ادھوری ہے۔ اس میں جرم ضعیفی کا اضافہ کرنا چاہئے۔  ٭

مزید :

کالم -