جہادِ کشمیر ناگزیر

جہادِ کشمیر ناگزیر
جہادِ کشمیر ناگزیر

  

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کئی دنوں سے بدترین کرفیو کے نتیجے میں کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔مقبوضہ وادی میں مکمل بلیک آؤٹ ہے،موبائل فون لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔زندگی مفلوج ہے،مریض طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔گرفتاریاں،تشدد، فائرنگ،کریک ڈاؤن اور ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں۔گھروں میں محصور کشمیریوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں دھکیلاجا رہا ہے۔گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے جنازے قبرستان لے جائے جا رہے ہیں۔ وادی میں کئی دنوں سے مکمل ہڑتال ہے۔ مصروف ترین شاہراہیں سنسان نظر آرہی ہیں۔ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔ شہیدوں کے جنازوں، تدفین اور تعزیتی جلوسوں میں آزادی کے نعرے پوری قوت سے گونج رہے ہیں۔کشمیریوں کی مظلومیت اور بے بسی تو آخری حد تک پہنچ چکی ہے،اب ہمیں سوچنا ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کی مدد ہم کیسے کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں جب پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی زوروں پر ہے۔ بعض ادارے آپس میں بر سر پیکار ہیں۔

اندرون ملک دہشت گردی کا مسئلہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ قوم سیاسی دھڑوں میں منقسم ہے۔اجتماعی سوچ کا فقدان ہے، سوشل میڈیاکے ذریعے قوم کے ذہن کو منتشر کرنے کا دھندا بھی زوروں پر ہے۔ہماری معیشت غیر ملکی قرضوں تلے دب چکی ہے، برآمدات محدود ہیں۔ روپے کی قدر کم ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط نے ہمیں یرغمال بنا رکھا ہے، صنعت کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔لیکن کیا یہ سب کچھ قیامت کے دن ”وَمَا لَکُمَْ لَاتُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ“کا جواب بن سکے گا؟ ہر گز نہیں،کیا ہمارے یہ حالات مظلوم کشمیریوں کیلئے کسی ریلیف کا باعث بن سکتے ہیں؟ہر گز نہیں،کیا اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جاں بلب کشمیریوں کیلئے کوئی توقع وابستہ کی جاسکتی ہے؟ہر گز نہیں،پچاس سال کے بعد بڑی بھاری بھرکم کوششوں کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر زیر بحث اگر آ ہی گیا تھا تو اس کے نتائج کیا ہیں؟

ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والے پانچ بڑی عالمی طاقتوں کے اس مشاورتی اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا اور چینی مندوب کے سوا کسی اور ملک کے نمائندے نے میڈیا سے بات چیت بھی نہیں کی،تاہم چینی مندوب نے یہ ضرور بتایا ہے کہ امریکی صدر نے بھی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر گزشتہ روز ہونے والی بات چیت میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فکر مندی ظاہر کی ہے۔سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں،نہ کہ مسئلہ کشمیر۔سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین اور انڈیا کی تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر ہے۔سلامتی کونسل کا مستقل رکن روس آج انڈیا کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرتا ہے اور اگلے برس وہ پانچ ارب ڈالر مالیت کا ایس فور ہنڈرڈ میزائل سسٹم فراہم کردے گا۔چنانچہ روس نے بھی نصیحت کی ہے کہ دونوں ملک پاکستان اور بھارت تحمل سے کام لیں۔انڈیا کورافیل طیارے بیچنے والے سلامتی کونسل کے ایک اور مستقل رکن فرانس اور ایک اور مستقل رکن برطانیہ نے بھی دونوں ملکوں کوتحمل سے کام لینے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

ٹرمپ کا پانچ اگست کے بعد سے کشمیر کے بارے میں سکوت ہے۔اصحاب راز کا تو یہ کہنا ہے کہ مودی نے کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کیلئے جو حملہ کیا ہے اسے ان بڑی قوتوں کی پیشگی آشیر باد حاصل تھی،جہاں تک سلامتی کونسل کے دس غیر منتخب ارکان کامعاملہ ہے تو جرمنی،جنوبی افریقہ،کویت اور انڈونیشیا سمیت کسی بھی رکن نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے باہر آکے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ویسے بھی سلامتی کونسل سے کیا امید کی جاسکتی تھی جبکہ ہمارے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم سلامتی کونسل جائیں گے تو وہاں ہمارے استقبال کیلئے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا ہو گا۔کیا عرب دنیا اور امّہ کی طرف سے حالتِ نزع میں پہنچی ہوئی کشمیری قوم کیلئے کوئی فوری مدد کی توقع ہے؟ ہر گز نہیں۔امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرچکا ہے،سازشوں کی جنگ میں ہر ایک کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ ان حالات میں او آئی سی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش بھی بے سود ہے۔خطبہ حج میں کشمیر اور فلسطین کا ذکر تک نہ کیا گیا اور تو اور کشمیری، فلسطینی شہداء کیلئے دعا بھی نہیں مانگی گئی اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب نے صرف اتنا کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تحمل سے حل کیا جائے اور وہ اس حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔ جبکہ کویت،قطر، بحرین اور عمان جیسے خلیجی ممالک نے ابھی تک کوئی ایک بھی بیان جاری نہیں کیا۔متحدہ عرب امارات کے مطابق کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔سعودی عرب نے ابھی تک کشمیر میں فوجی کرفیو یا کمیونیکیشن بلیک آوٹ کے حوالے سے کوئی براہ راست بیان جاری نہیں کیا۔صرف یہ کہا گیا ہے،سعودی عرب موجودہ صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اس کا پرُامن حل چاہتا ہے۔بلکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے فوراً بعد سعودی تیل کمپنی آرامکوانڈین کمپنی ریلائنس کے پٹرولیم کا کاروبار میں 20 فیصد کی پارٹنر بن گئی ہے۔بے سہارا کشمیریوں کو بھی ان تمام حقائق کا ادراک ہے لہٰذا انہیں پاکستان کی طرف سے کسی محمد بن قاسم کے پہنچنے کا انتظار ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے پہلے بھی کشمیر کیلئے تین جنگیں لڑیں ہیں اور بہت سی قربانیاں پیش کی ہیں۔

لیکن یہ ایک حقیقت ہے مقبوضہ وادی کی نہایت گھمبیر صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے پاکستان پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔فرضیت جہاد کا فتویٰ بندہئ ناچیز نے تمام فقہی باریکیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی ہم پاک فوج کی قیادت میں کرنا چاہتے ہیں۔جہاد فی سبیل اللہ کے جھنڈے کے نیچے تربیت پانے والی فوج اور عسکری تربیت کیساتھ جذبہئ ایمان رکھنے والی فوج کشمیر کا 70 سالہ لٹکا ہوا مسئلہ ان شاء اللہ تعالیٰ چند گھنٹوں میں حل کر سکتی ہے۔ہم مانیں یا نہ مانیں ہم حالت جنگ میں ہیں۔بلکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو غیر مؤثر بنا کر ہمارے ساتھ آبی جنگ کا بھی آغاز کر دیا ہے جس کی تصدیق پاکستان کے انڈس واٹرکمشنر سید مہر علی شاہ کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بھارت نے ہماری باربار کی درخواستوں کے باوجود ہمیں سیلاب کے بارے میں پیشگی اطلاعات فراہم نہیں کیں حالانکہ وہ 1989ء کے معاہدے کے تحت یکم جولائی سے دس اکتوبر تک سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے کا پابند ہے۔ حکمران یہ سمجھ لیں کہ کشمیر کیلئے بیان بازی کی نہیں جان بازی کی ضرورت ہے حکمران کشمیریوں کے قتل عام اور ایل او سی کے روزانہ جنازے اٹھانے کے بعد کس اینٹ کا انتظار کر رہے ہیں جس کا جواب پھر پتھر سے دیں گے۔بھارت کے یوم آزادی کی سرکاری تقریب میں مودی کی آتش گیر تقریر کے بعد اسے مزید ڈھیل دینا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے گھر میں گھس کر آپ کے بیڈ روم پر قبضہ کرکے وہاں رہائش اختیار کرے گا تو منت سماجت سے کبھی نہیں مانے گا کیونکہ وہ اس سہولت کو Enjoy کر رہا ہے۔ہاں یہاں رہنے سے اگر آپ اس کیلئے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ اس کی Enjoyment کے مقابلے میں اس کی Pain یا تکلیف بڑھ جائے تو وہ نکلنے پر مجبور ہو جائیگا۔ چنانچہ پاکستان کے پاس اپنی شاہ رگ پر بیٹھے ہوئے دشمن کو مار بھگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔بلکہ ہمیں تو جہاد کشمیر حکم خدا وندی کو بجا لاتے ہوئے کرنا ہے تاکہ ہم آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے کہتا ہوں

ظلمتِ آفاق بالکل مختصَر ہونے کو ہے

مطلعِ کشمیر پر تازہ سحر ہونے کو ہے

مطمئن ہوں مقتلِ کشمیر میں سب بیٹیاں

ابنِ قاسم جلد ہی محوِ سفر ہونے کو ہے

مزید :

رائے -کالم -