حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی

حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی
حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی

  

تاریخ کے طالب علم خوب جانتے ہیں کہ تہذیب وتمد ن کے اعتبار سے دنیا کی کوئی بھی قوم مسلمانوں کی ہم پلہ نہ تھی ،پوری دنیا میں ان کے کارناموں ، تہذیب و تمدن ، علم و حکمت اور فہم و فراست کا شہرہ تھا آپ صرف بغداد ہی کو لیجئے ،دنیائے اسلام میں اس کو مرکزی حیثیت حاصل تھی کیونکہ علوم فنون، حکمت و دانش اور فہم و فراست کے لحاظ سے دنیا کے لئے بغدادجاذبیت اختیار کر چکا تھا۔جہاں ایک طرف مسلمان اگر رفعتِ عظمت کو چھو رہے تھے تو دوسری طرف بیرونی نظریات وخیالات کی یلغار اس کے یقین واعتمادکی دیواروں کی بنیادیں بھی اندر ہی اندر سے کھوکھلی کر رہی تھی۔علم و حکمت کی پیاسی انسانیت کسی ایسے مسیحا کے انتظار میں تھی جو اپنے قدوقامت اور علم و حکمت کی بنیاد پر صدیوں پر بھاری ہو ،غالباً یہ ۵۵۳ ہجری کا واقعہ ہے کہ ایک شخص کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر وہ بزرگ یکا یک اُٹھ کر باہر تشریف لے گئے جو شخص وہاں حاضر ہوا وہ بھی پانی کا لوٹا بھر کر بزرگ کے پیچھے پیچھے چلا آیا لیکن انہوں نے کچھ توجہ نہ فرمائی۔ چلتے چلتے یہ بزرگ فصیلِ شہر کے دروازے پر پہنچے۔ دروازہ خود بخود کُھل گیا اور وہ شہر سے باہر نکل گئے۔ مذکورہ شخص بھی اُن کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ چند قدم چلے تھے کہ ایک عظیم الشان شہر نظر آیا، آپ اس میں داخل ہو کر ایک مکان کے اندر چلے گئے وہاں چھ شخص بیٹھے تھے وہ ازراہِ تعظیم کھڑے ہو گئے اور آپ کو سلام کیا۔ مکان کے ایک کونے سے کسی کے کراہنے کی آواز آ رہی تھی ،تھوڑی دیر میں وہ آواز بند ہو گئی اتنے میں ایک شخص آیا اور اس کونے سے ایک میت کندھے پر اٹھا کر چلا گیا پھر ایک نصرانی وضع کا شخص آپکے سامنے حاضر ہوا۔ اُس کا سر برہنہ تھا اور بڑی بڑی مونچھیں تھیں بزرگ نے اس شخص کے سر اور لبوں کے بال تراشے پھر اسے کلمہ شہادت پڑھایا اور اِن چھ اشخاص سے مخاطب ہو کر فرمایا!

میں بہ حکم الٰہی اس شخص کو متوفی کا قائم مقام کرتا ہوں ان اشخاص نے بیک زبان کہا ’’ہمارے سر آنکھوں پر‘‘پھر آپ اِس شہر سے باہر تشریف لے آئے چند ہی قدم چلے تھے کہ بغداد کی شہر پناہ آ گئی۔ پہلے کی طرح اس کا دروازہ خود بخود کھل گیا اور آپ اپنے دولت کدہ پر تشریف لے آئے صبح ہوئی اور وہ شخص اُن بزرگ سے درس لینے بیٹھا اور بزرگ کو قسم دے کر رات کے واقعہ کی تفصیل پوچھی ، آپ نے فرمایا پہلے عہد کرو کہ جب تک میں زندہ ہوں اس واقعہ کا اظہار کسی سے نہ کرو گے اُس شخص نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا جس پر بزرگ نے فرمایا رات کو جس شہر میں ہم گئے تھے اُس کا نام ’’نہاوند‘‘ تھا جو بغداد سے دور دراز فاصلہ پر واقع ہے۔ مکان میں جو چھ آدمی تھے وہ ابدالِ وقت ہیں۔ جس شخص کے کراہنے کی آواز تم نے سُنی وہ ساتواں ابدال تھا۔ اس وقت اس کا عالمِ نزع تھا جب وہ واصل بحق ہو گیا تو اُس کی میت حضرت خضر علیہ السلام اُٹھا کر لے گئے۔ جس آدمی کو میں نے کلمہ شہادت پڑھایا وہ قسطنطنیہ کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔ میں نے اللہ کے حکم سے مرحوم ابدال کی جگہ اسے ساتواں ابدال مقرر کیاوہ شخص جو بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا شیخ ابو الحسن بغدادیؒ تھے اور جس بزرگ کی خدمت میں انہوں نے حاضر ی دی وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؓ تھے۔اولیاء اللہ نے ان کی آمد کی اطلاع ان کی ولادت سے پہلے دے دی تھی، قطبِ دوراں شیخ ابو بکرہوارؒ نے ایک دن اپنی مجلس میں شیخ غراز سے کہا ’’عراق میں ایک ایسا مردِ خُدا پیدا ہو گا جو اللہ اور اُن کے بندوں کے نزدیک بے حد رتبے کا حامل ہو گا اس کی سکونت بغداد میں ہو گی وہ کہے گا کہ’’ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘ اس کے زمانے کے اولیاء اس کی بات مانیں گے اُس کے دور میں اُس جیسا کوئی نہیں ہوگا‘‘

حضرت غوث الااعظمؓ نے ساداتِ کرام کے ایک مقدس گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ہر وقت قال اللہ و قال الرسول صلی ٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صدائیں گونجتی تھیں ان کے نانا سید عبداللہ صومعی ٰاور والد محترم سید ابو صالح موسیٰ دوست جنگی ؒ اولیائے کامل تھے۔ اسی طرح آپؓ کی والدہ ماجدہ سیدہ ام الخیر فاطمہؒ اور پھُوپھی سیدہ عائشہ عارفات ربانی میں سے تھیں ان تمام ہستیوں کا شمار عالی مر تبت عابد و زاہد اور منکسر المزاج بزرگانِ دین میں ہوتا تھا.

چنانچہ شیخ الاسلام والمسلمین ،حجۃاللہ علی العالمین ،قطب الاقطاب ،رائس الاغیاث سیدنا محی الدین ابو محمد عبدالقادرالحسنی الحسینی الجیلانیؓ 470ھ میں طبرستان کے قصبے جیلان میں پیدا ہوئے حضور غوثِ اعظمؓ کی ولادت کے حوالے سے متعدد روایات بیان کی گئی ہیں جن میں معتبر روایت یہی ہے کہ حضور غوث الاعظمؓ یکم رمضان المبارک جمعۃ المبارک 470ہجری بمطابق 1075ء گیلان میں پیدا ہوئے ۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیدا ہونے والے سب بچوں کا بچپن ایک جیسا نہیں ہوتا ، بعض بچے تربیت کی بنیاد پر صالحیت کی منازل طے کرتے ہیں اور بعض مادر زاد ولایت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں ۔حضور غوث پاکؓ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ ’’پورے عہدِ رضاعت میں آپؓ کا یہ حال رہا کہ سال کے تما م مہینوں میںآپؓ دودھ پیتے تھے لیکن جوں ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آتاآپؓ دن کو سورج غروب ہونے تک دودھ کی بالکل رغبت نہیں فرماتے تھے خواہ کتنی ہی دودھ پلانے کی کوشش کی جاتی ہر بار آپؓ کی والدہ محترمہؓ آپؓ کو دودھ پلانے میں ناکام رہتیں

بچپن ہی میں سایہ پدری سر سے اٹھ گیاابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی ،مزید تعلیم کے لئے 488؁ھ میں بغداد پہنچے جو اس وقت علم وفضل کاگہوارہ،علماء ومشائخ کامسکن اور علمی وسیاسی اعتبارسے مسلمانوں کا دارالسلطنت تھا، یہاں آپ نے اپنے زمانہ کے معروف اساتذہ اور آئمہ فن سے اکتساب فیض کیا، آپ کے اساتذہ میں ابوالوفا علی بن عقیل حنبلی ،ابوز کریا یحیےٰ بن عبدا لکریم نہایت نامور اور معروف بزرگ ہیں۔کہا جاتا ہے آپؓ کا بچپن نہایت پاکیزہ تھا ،بچپن ہی سے اللہ تعا لیٰ نے اپنے اس برگزیدہ بندے پر اپنی روحانی و نورانی نوازشات اور فیو ضاتِ الہیہ کی بارش کا نزول شروع کیا ہوا تھاچنانچہ حضور غوث پاکؓ اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فر ماتے ہیں کہ ’’عمر کے ابتدائی دور میں جب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تو غیب سے آواز آتی کہ لہو و لعب سے باز رہو ، جسے سن کر میں رک جایا کرتا تھا اور اپنے گردوپیش پرجو نظر ڈالتا تو مجھے کوئی آواز دینے والا دکھائی نہ دیتا تھا جس سے مجھے وحشت سی معلوم ہوتی تھی اور میں جلدی سے بھاگتا ہوا گھر آتا اور والدہ محترمہؓ کی آغوش میں چھپ جایا کرتا تھا ، اب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سنا کرتا ہوں اگر مجھ کو کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراََ میرے کانوں میں آکر مجھے متنبہ کر دیتی ہے کہ تم کو اس لیے نہیں پیدا کیا کہ تم سویا کرو ‘‘

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ