پنکی سے شہید جمہوریت تک کا سفر 

پنکی سے شہید جمہوریت تک کا سفر 
پنکی سے شہید جمہوریت تک کا سفر 

  

محترمہ بے نظیربھٹو 21 جون، 1953 ء کو کراچی میں مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔بچپن میں پنکی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ والد کا نام ذوالفقار علی بھٹو ،والدہ نصرت بھٹو تھا۔بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم لیڈی جیننگز نرسری اسکول اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری کراچی کے علاوہ دو سال راولپنڈی پریزنٹیشن کونونٹ میں حاصل کی۔ 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی سے 1973 ء میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔بے نظیر بھٹو برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں وطن واپس آئیں۔

ان دنوں بے نظیر بھٹوکے والد ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے ۔ وطن واپس آنے کے دو ہفتے بعد ہی ان کے والد کی حکومت کا تختہ الٹ دیاگیا۔اورجنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ان کے والد ذولفقار علی بھٹو کو4اپریل 1979 ء کو پھانسی دی گئی ۔جیل کے ریکارڈ میں بھٹو کی آخری ملاقات محترمہ بے نظیر سے درج ہے ۔ذوالفقار بھٹو کاکہنا تھاکہ ان کو اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت تھی ۔

بھٹو سے آخری ملاقات محترمہ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی 3 اپریل 1979 ء کو ہوئی اور دوسرے دن 4 اپریل 1979ء کو قائد عوام کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔بھٹو کی عوام میں بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے انہیں قائد عوام کہا جاتا تھا ۔بھٹو کی ہی مقبولیت کے سبب بے نظیر بھٹودو مرتبہ ملک کی وزیر اعظم بنی اور ایک دفعہ ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی پانچ سال حکومت کر چکے ہیں ۔

آج بھی بلاول ز رداری بھٹو اپنے نانا کی عوام کے دلوں میں جو بے پناہ عقیدت ہے، اس کے بل بوتے پر سیاست کے میدان میں اترے ہیں اور وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔والد کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹوملک سے چلی گئیں ۔ یعنی خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ۔

بے نظیربھٹو کی پاکستان میں سیاست کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1986ء میں جلا وطنی کے بعد وطن واپسی پر ان کا شاندار استقبال ہوا۔عوام بے نظیر بھٹو کے روپ میں ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھ رہے تھے ۔ 18 دسمبر 1987ء بے نظیر بھٹو کی آصف علی زرداری سے شادی ہوئی۔رفتہ رفتہ بے نظیر ملک کی مقبول ترین لیڈر کے طور پر پاکستان کی سیاست میں ابھریں اور اگست 1988ء میں پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرلی۔

2 دسمبر 1988ء کومحترمہ بے نظیر بھٹو نے تاریخ کی سب سے کم عمر اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔اس کے 20 ماہ بعد 6 اگست1990 ء صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو بدعنوانی کے الزام میں اپنے خصوصی اختیارت کو استعمال کرتے ہوئے برطرف کردیا۔

10 اکتوبر 1990ء آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا گیا۔اکتوبر 1993 ء میں پیپلز پارٹی دوبارہ انتخابات میں کامیاب ہوئی۔بے نظیر دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں ۔ 1996 ء تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہیں۔1996ء کرپشن کے الزامات پر بے نظیر بھٹو کی حکومت دوبارہ برطرف کردی گئی۔ 1997ء کے الیکشن کے بعد انہیں اپنے بچوں کے ہمراہ جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔اسی دوران انہوں نے لندن اور دبئی میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان نے مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔

14 مئی 2006ء میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اکتوبر 2007ء میں بینظیر نے امریکی امداد سے پرویز مشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔ 18 اکتوبر 2007ء کو وطن واپسی پر ایک مرتبہ پھر ان کا شاندار استقبال ہوا۔

ملک واپس پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد کراچی ایئرپورٹ سے بلاول ہاؤس جاتے ہوئے بی بی بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لئے آنے والی ریلی میں بم دھماکے کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ اس کے ایک ماہ نو دن بعد 27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پرجب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا ،جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔ ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا ،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کا مقام راولپنڈی کا وہی بدنصیب کمپنی باغ ہے ،جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نامی ایک شخص نے ہلاک کیا تھا۔ یہ کمپنی باغ بعد میں مقتول وزیر اعظم کے نام پر لیاقت باغ قرار دے دیا گیا تھا۔

دختر مشرق شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنی قوم سے جدا ہوئے11سال بیت گئے ۔راولپنڈی کے تاریخی جلسہ لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا‘‘آپ کا اور میرا ملک خطرے میں ہے ،سوہنی دھرتی مجھے پکار رہی ہے ،پاکستان کیلئے میرے والد کو شہید کردیا گیا،میرے دو جوان بھائی مار دیئے گئے ،شوہر کو طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا،میری ماں کو سڑکوں پر لاٹھیاں ماری گئیں،مجھے جیل میں رکھا گیا،لیکن ہم موت سے نہیں ڈرتے ‘‘۔

بے نظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔لیکن سابق صدر آصف زرداری پارٹی کے نگران چیئرمین بنے اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا ۔اسی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے پانچ سال ملک کے صدر رہے ۔آج کل بے نظیر بھٹو کا بیٹا بلاول زرداری بھٹو سیاست میں اپنے نانا کی پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -