منشیات،خاندان اور معاشرہ

منشیات،خاندان اور معاشرہ
منشیات،خاندان اور معاشرہ

  

آج کی صدی میں انسانیت کو منجملہ دیگر مسائل کے جس سب سےبڑی ابتلا کا سامنا ہے، وہ ہے منشیات کی وبا، جس نے پوری دینا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس وبا کو قابو میں لانا ، اسے پھیلنے سے روکنا اور اس کا مکمل خاتمہ، یہ وہ اہداف ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لئے دنیا بھر کی حکومتیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ یہ کوشش وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کی کامیابی میں ہی انسانیت کی فلاح و بہبوداور بقاءمضمر ہے۔

دنیا بھر میں منشیات کے عادی پینتیس کروڑ افراد عبرت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ سر سے لے کر پاو¿ں تک بے شمار جان لیوا اور درد ناک بیماریوں میں جکڑے لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہر سال اِن میں سے ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد زندگیاں ہار کر اور عبرت کا نشان بن کر دوسرے جہاں سُدھار جاتے ہیں، لیکن یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔ یہ پینتیس کروڑ افراد خلاءمیں نہیں رہتے ۔پینتیس کروڑ افراد پینتیس کروڑ گھروں سے تعلق رکھتے ہیں، یو ں یہ افراد کم و بیش دو اڑھائی ارب انسانوں کی زندگیوں کو بلاواسطہ اور باقی چار پانچ ارب انسانوں کو بالواسطہ متاثر کرتے ہیں ۔اِس طرح دنیاکاہر فرد کسی نہ کسی شکل اورکسی نہ کسی اندا ز میں اُن ہولناک تباہ کاریوں کا شکا رہے جو نشے کے یہ عادی اس دنیا میں برپا کئے ہو ئے ہیں۔ یہاں ہم اُن میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔

1۔خاندان پر اثرات :نشے کا عادی شخص اپنی زندگی تو تباہ کرتا ہی ہے، ساتھ ہی سارے خاندان کو بھی لے ڈوبتا ہے ۔ اگر وہ نوجوان ہے تو سکول کالج سے غیر حاضر رہنے لگتا ہے۔ اس کے والدین نے کتنی شفقت اور امیدوں سے اسے پالاپوسا، اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہا کہ یہ پڑھ لکھ کر کوئی اچھی ملازمت حاصل کرے، کسی اچھے عہدے پر فائز ہو جائے یا کوئی ڈھنگ کا کاروبار کرنے لگے، مگر ان کے سارے خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتے ہیں ،جب ان کا لخت جگر امتحان میں فیل ہو جاتا ہے اور اس وقت وہ اپنی اور اپنے بچے کی قسمت پر آنسو بہانے لگتے ہیں۔ اگرنشہ کی ابتدائی علامات کا علم نہ ہو تو والدین کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کا بیٹا یا بیٹی منشیا ت کی لعنت میں گرفتا رہوچکا ہے اور اگر پتہ چل بھی جائے تو بدنامی کے ڈر سے اکثر والدین اپنے بچوں کاعلاج نہیں کرواتے ۔ان نا گفتہ بہ حالات سے دل برداشتہ ہوکر کئی والدین اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اگر ایک خاندان کی کفالت کرنے والا شخص خود نشے کے موذی مرض میں مبتلا ہوجائے تو سارے خاندان کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ۔ ذریعہ آمدنی ختم ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ بچوں کو سکولوں سے اٹھالیا جاتا ہے ۔نشے کا عادی شخص خدا فراموشی اور خود فراموشی کا شکار ہو جاتا ہے، اسے کسی سے دلچسپی نہیں رہتی۔

 وہ صرف اپنے سکون کے لئے نشے کی تلاش میں رہتا ہے ۔ اپنے خاندان والوں سے اسے صرف اس حد تک دلچسپی رہتی ہے کہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے ان سے پیسے مانگے اوراس کی خواہش پوری نہ ہو تو وہ خاندان والوں سے بدتمیزی، مارکٹائی اور بسا اوقات انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اگر کسی نشئی کے گھر جوا ن بیٹی یا بہن ہو تو اس کا رشتہ بھی سنگین مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ ہمارا معاشرہ ایسی لڑکی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا،جس کا باپ یا بھائی نشئی ہو ۔

 باعزت گھرانوںکے بچے بھی بُرے دوستوں کی صحبت میںرہ کر نشے کا شکار ہوتے دیکھے گئے ہیں، جس سے اس خاندان کی عزت اور وقار خاک میں مل جاتا ہے، بلاشبہ نشہ خاندان کی تباہی کا دوسرا نام ہے ۔

2۔معاشرے پر اثرات :(i)جرائم :معاشرہ خاندانوں کے مجموعے کا نام ہے۔ جب خاندان اجڑتے ہیں تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے ۔نشے کا عادی فرد انسانی اقدار کے احساس سے عاری ہو جاتاہے۔ وہ ہر قسم کی غیر اِخلاقی حرکتوں اور قانون شکنی کا ارتکاب کرتا ہے، جس کی ابتدا وہ اپنے گھر سے کرتا ہے ۔ وہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے پہلے گھر کی اشیاءچوری چھپے فروخت کرتا ہے، پھر گھر سے باہر بھی چوریاں کرنے لگتا ہے ۔بھیک مانگتا ہے ، یہاں تک کہ اپنے جسم کا بھی سودا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔جب اِن طریقوں سے بھی وہ کچھ حاصل نہیں کر پا تا تو جرائم پیشہ گروہوں سے جاملتا ہے، جہاں سے پھر واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ آج کے پاکستان میں سٹریٹ کرائمز کا ارتکاب کرنے والوں میں پچاس فیصد نشے کے عادی ہیں۔

(ii)دہشت گردی : منشیات کا استعمال کرنے والوں کے نزدیک انسانی جان ومال اورملک و ملت کی عزت و آبر و کی کوئی قدرو قیمت نہیں رہتی ۔ وہ نشے کی طلب پورا کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ دہشت گردی اور منشیات کا آپس میں اتنا گہرا تعلق بن گیاہے کہ اب اس سلسلے میں ایک نئی اصلاح ©©©©©©"Narco-Terrorism" استعمال ہونے لگی ہے۔ بڑے بڑے دہشت گرد، جنہیں اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے وہ عموماًمنشیات کی ناجائز سمگلنگ کر کے سرما یہ مہیا کرتے ہیں۔دنیا بھر میں ڈرگ مافیا کا جال بچھاہے اور ان کے پاس بے شمار وسائل اور ان کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اوروہ اپنے مفاد کی خاطر ملک و ملت کو بیچنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

(iii)حادثات: عالمی اداروں کی تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق دنیابھر میں ہونے والے ٹریفک کے تیس فیصد، آگ لگنے کے چوالیس فیصد، بلندی سے گرنے اور پانی میں ڈوبنے کے چونتیس فیصد ، بچوں سے زیادتی کے سولہ فیصد ، خودکشی کے بارہ فیصد اور دس فیصد صنعتی حادثات و واقعات نشے کے زیرِاثررونما ہوتے ہیں،یوں یہ نشہ ہر سال لاکھوں جانوں اور اربوں کے مالی نقصانات کا سبب بنتا ہے۔

(iv)معاشرتی اور اخلاقی قدروں کی ٹوٹ پھوٹ: منشیات نے انسانی سو سائٹی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ باہمی محبت، خلوص ، ہمدری اور ایثارکے سب بندھن ٹوٹنے لگے ہیں۔ ایک نشے باز کے نزدیک والدین،اساتذہ، افسروں اور بزرگوں کی عزت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اسے صرف نشے سے پیا ر ہوتا ہے اور باقی سے لاتعلقی ۔ وہ گھر بار،حتیٰ کہ خود اپنی ذات اور زندگی سے بھی لاپرواہی اختیار کرلیتا ہے ۔ اگر ایسے افرادلاکھوں کی تعدادمیں کسی معاشرے میں موجود ہوں تو اس سے معاشرہ کس قدر متاثر ہوگا، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ۔نشے کا عادی رفتہ رفتہ دین و مذہب سے بھی لاتعلق ہو تا چلا جاتا ہے ۔ مذہبی عقائد، مذہبی اور دینی رہنماو¿ں کا احترام اُس کے نزدیک ایک بے معنی سی بات بن جاتی ہے۔پہلے اپنے دین و مذہب اور رہنماو¿ں کے خلاف ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ اب کوئی گالیا ں بھی دے تو اُس کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔اِس قسم کی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ جب آدمی نشے میں ہوش و حواس ، اپنے پرائے اور اچھے بُرے کی تمیز کھو بیٹھا تو اِس پر شیطان غالب آگیا اور اُس نے اپنی ماں ، بہن یا بیٹی پر حملہ آور ہو کر اُس کی عصمت تارتار کر دی ۔نشہ رشتوں کی تمیز اور حرمت پامال کر دیتا ہے۔

(v)اقتصادی اور مالی اثرات: دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستا ن میںایک کروڑ کے لگ بھگ نشے کے عادی افراد کروڑوں روپے روزانہ کے معاشی نقصان کا سبب بنتے ہیں ۔نشے کے عادی اشخاص کی غیر حاضری کے باعث ملکی پیداوار میں کمی، جسمانی استعداد کم ہونے کا باعث کاردکردگی میں کمی، حادثات میں موٹر گاڑیوں کے نقصانات ، مریضوں کے علاج معالجے کے اخراجات اور منشیات کی روک تھام کے لئے قانون نافذکرنے والے اداروں پر اٹھنے والے اخراجات سب کو شامل کیجئے تو نشے اور نشئی کے ہاتھوں اقتصادی اور مالی نقصان کا اندازہ بخوبی ہو سکتا ہے ۔ نشے کے عادی لاکھوں افراد عضو معطل بن کر معاشرے کے لئے نا قابل برداشت بوجھ بن جاتے ہیں۔ طلباءکے منشیات میں ملوث ہونے سے ان کی تعلیمی سرگرمیا ں متا ثر ہوتی ہیں جس کا اثر لازمی طور پر مستقبل میں قومی معیشت پر ہو سکتا ہے ۔کسی بھی ملک کی اِس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ اُس کے نوجوان، خصوصاًطلباءجنہوں نے آگے چل کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے نشہ میں غرق ہو جائیں۔

اِس تمام صورتِ حال کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ہم پر لازم ہے کہ ہم ایک طرف تو منشیات کا غلیظ دھندا کرنے والوں کے خلاف صف آرا ہو جائیں اورانہیںکیفرِکردار تک پہنچانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ مضبوط کریںاور دوسری طرف منشیات کے مکروہ چنگل میں گرفتا رہو نے والوں کو گلے لگا کر اور ہاتھ سے پکڑ کر اس دلدل میں سے باہرنکال لائیں اور انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بننے میں مدد کریں ۔ آیئے وطن ِعزیز کو منشیات سے پاک کرنے کے لئے اپنے دینی اور ملی فرض کی ادائیگی کی خاطر میدان ِعمل میں اُتریں اور اُس طوفان کو جو ہمارے معاشرے کی بنیاد یں ہلانے کے لئے تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے، روک لیں۔ یا د ر کھیے ! جب تک سب محفوظ نہیں کوئی بھی محفوظ نہیں۔  ٭

مزید : کالم