وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید کی حکومت کے کامیاب تین سال

وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید کی حکومت کے کامیاب تین سال
 وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید کی حکومت کے کامیاب تین سال

  


آزاد کشمیر میں جون 2011ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کا میابی کے نتیجے میں وزیراعظم چودھری عبدالمجید کی سربراہی میںبننے والی حکومت کو پہلے سال سے ہی آزاد خطے کی تعمیر وترقی کے لحاظ سے ایسی کامیابیاں اور کامرانیاں ملیں، جن کے باعث پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے شدید مالی مشکلات اور سیاسی مخالفت کے باوجود تین سال میں وہ میگا پراجیکٹس شروع کئے، جن کا موازنہ گزشتہ حکومتوں سے کیا جائے تو موجودہ حکومت کے تین سال گزشتہ کئی سال سے بہتر ہیں ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجیدکو اقتدار سنبھالتے ہی متعدد مشکلات کا سامنا تھا ،جن میں سے سب سے بڑا ایشومنگلا ریزنگ پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد افتتاح ،منگلاڈیم میں1242 لیول تک پانی بھرنا اور اس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کا انخلاءاور متاثرین کی آباد کاری کرنا بڑے ہی مشکل کام تھے، تاہم وزیراعظم چودھری عبدالمجیدنے جس انداز اور حکمت عملی سے متاثرین منگلا کے لئے بنائے جانے والے ٹاﺅنز میں ترقیاتی کاموں کو برق رفتاری سے شروع کروایا اور ساتھ ہی آزاد کشمیر میں ایک ہی وقت میں دو میڈیکل کالجقائم کرکے ایساکارنامہ سرانجام دیا ،جسے اپنوں،بیگانوں اور غیروں نے بھی زبردست الفاظ میں سراہا ۔

اگر چہ حکومت کوپہلے مرحلے میں مالیاتی بحران کا بھی شدیدسامنا تھا۔سیاسی حلقوں، بالخصوص پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کا خیال تھا کہ اتنے شدید مالیاتی بحران کے دوران بننے والی حکومت عوامی توقعات پر کسی طورپرپور اترنہیں سکے گی اور اسے گرانے کے لئے دشمنوں کی ضرورت نہیں ہوگئی ،لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ابتداءسے اب تک ایسے اقدامات اٹھائے، جن کے تحت آزاد کشمیر میں مفاہمتی سیاست کو فروغ دیا اورمیرپور میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج ، مظفرآباد میں میرواعظ مولوی محمد فاروق میڈیکل کالج کے بعد تیسرا میڈیکل کالج راولاکوٹ میں بھی قائم کردیا ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے منگلا توسیعی منصوبے اور منگلا ریزنگ پراجیکٹ ، دھان گلی آر سی سی پل اور باب سید یوسف رضا گیلانی کے افتتاح کے دوران اہلیان کشمیر کے لئے میگا پراجیکٹس، جن میںڈڈیال میں کیڈٹ کالج ،راولاکوٹ اور کوٹلی میں آئی ٹی یونیورسٹیاں ،ڈڈیال میں سویٹ ہومز ،بیت المال کا دفتر قائم کرنے کے اعلانات کئے تھے، ان اعلانات کو بھی وزیراعظم چودھری عبدالمجیدنے پورا کردکھایا، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے میرپور میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کے لئے جو کوششیں کیں، ان کی بھی کوئی مثال نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ وزیراعظم چودھری عبدالمجیدنے چترپڑی کے مقام پر 1500 کنال رقبے پر قبرستان اور اس کی چاردیواری کی تعمیرکو مکمل کروایا اور منگلاریزنگ پراجیکٹ منصوبے کے تحت زیرالتواءرٹھوعہ ریام برج پر دوبارہ کام شروع کروایا۔ اس پل کو حضرت میراں شاہ کے نام سے منسوب کیا ،متاثرین منگلا ڈیم کو معاوضہ جات کی ادائیگی ،متاثرین کے لئے بنائے جانے والے ٹاﺅنز میں ترقیاتی رفتار کو تیز کرنا،اسلام گڑھ میں پاسپورٹ آفس کا قیام ،اسلام گڑھ ،کاکڑہ پوٹھہ ،خالق آباد اور چکسواری میں میونسپل کمیٹیوں کا قیام ،خالق آباد ،اسلام گڑھ اور چکسواری میں سپورٹس اسٹیڈیم ،خالق آباد میں قبرستان اور عید گاہ کے لئے اراضی مختص کرنا،دھان گلی ،پلاک اور پیرگلی میں ریسٹ ہاﺅسزتعمیر کرنے کے منصوبے ،کاکڑ پوٹھہ بینسی واٹر سپلائی کے لئے 16 کروڑ کی فراہمی،اسلام گڑھ ،چکسواری ،کاکڑہ ٹاﺅن ،چترپڑی میں آباد مہاجرین کو مالکانہ حقوق دینے کے مشکل کام کو نمٹایا۔

میرپور ،کوٹلی ، بھمبراور آزاد کشمیر کے صحافیوں کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لئے جرنلسٹس کالونیوں کا قیام ،صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لئے پریس فاﺅنڈیشن کو فعال بنانا ،مہاجرین جموں وکشمیر کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے سمارٹ کارڈز کا اجراء،میرپور میں آصفہ بھٹو ویمن پارک ،جڑی کس میں پبلک پارک ،خالق آباد تا وائی کراس ایکسپریس وے پر واپڈا کے تعاون سے 5 پبلک پارکس،میرپورمیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج کے ٹیچنگ ہسپتال کو دنیا کا جدید ترین ہسپتال بنانے کے اقدامات،پیرگلی سہار اور ڈڈیال میں آرمی پبلک سکول ،ڈڈیال اورمیرپورمیںکیڈٹ کالج ،منگلا میرپور روڈ اور میرپور خالق آباد دورویہ روڈ کی پختگی، بیوٹیفکیشن آف میرپور پراجیکٹ کے تحت منگلامیرپور روڈ، میرپورجاتلاں روڈ، میرپور خالق آباد روڈ اوراندرون شہر روڈ کنارے پلانٹیشن، مسٹ یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے اربوں روپے کا حصول ، میرپور شہرمیں سات نئے بوائر وگرلز ڈگری وانٹر کالجوں قائم کئے اور کئی ہائی ومڈل سکولوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

 خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے محکمہ تعلیم میں زنانہ ومردانہ الگ الگ نظامتیں قائم کردی گئی ہیں۔آزادکشمیر میں ایک ہی وقت میں کئی ہائی سکولوں اورکالجوں کی آپ گریڈیشن ،نئے سکولوں اور کالجوںکے ساتھ ساتھ سکولوں کی عمارات اور پلے گراﺅنڈ کی تعمیر کا کام اور میرپورپوسٹ گریجویٹ کالج کو گورنمنٹ کالج لاہور کے معیار کے مطابق کرنے کے علاوہ برصغیر کے عظیم روحانی پیشواءحضرت بابا پیرا شاہ غازی المعروف دمڑیاں والی سرکار اور رومی کشمیر حضرت میان محمد بخش کی دھرتی کھڑی شریف میں الازہر یونیورسٹی کی طرز پر برصغیر کی عظیم اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کی کوششیں، ممتاز روحانی شخصیت حضرت بابالال بادشاہ کے مزار منگلاکی تعمیری توسیعی منصوبہ،ریاست میں یکساں نظام تعلیم کے لئے ایک نصاب ، پوسٹ گریجویٹ تک قرآن پاک کی تعلیم اور مطالعہ کشمیر کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی کوششوں سے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کے ویژن کے مطابق آزاد کشمیر واقعی ایجوکیشنل سٹی میںتبدیل ہورہاہے۔

پاکستان میں رائج العمل پالیسی کی روشنی میں آزاد کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں میں پرائمری ،مڈل ،ہائی اور سیکنڈری سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیاہے ۔وزیراعظم چودھری عبدالمجیدکی علم دوستی ویژن کا مقصد ریاست سے دہشت گردی ،کلاشنکوف کلچر اوربارود کی فصیلوں کو ختم کرنا اور اس کی جگہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ملک کو مضبوط ،مستحکم اورمعاشی واقتصادی اور سیاسی لحاظ سے خوشحال خطہ بنانا ہے۔اس طرح کوٹلی اور راولاکوٹ میں آئی ٹی یونیورسٹیاں ،باغ میں ویمن یونیورسٹی ،نیول کیڈٹ کالج مظفرآبادکی بحالی ،زرعی کالج راولاکوٹ کو یونیورسٹی کا درجہ دینا،10 ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد مظفرآبادایکسپریس وے کی تعمیر ، کوہالہ تا مظفرآبا کو روڈ کو این ایچ اے کے حوالے کرنا،مظفر آباد کو پا کستان سے ملانے والی دوسری بڑی شاہراہ برارکوٹ مظفرآباد روڈ کی پختگی ,کشمیری تارکین وطن کی فلاح وبہبود کے لئے دیگر ملازمتوں میں خصوصی کوٹہ مختص کروانا ،بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے مسائل پر خصوصی توجہ کے لئے قائم اوور سیز کشمیریز سیل کو باقاعدہ محکمہ کا درجہ دینا،بجلی کے بحران پر قابوپانے کے لئے Economical Solar Energy Systemکو متعارف کروا نا،وادی نیلم میںوزیراعظم پاکستان کی طرف سے موبائل سروسز کی فراہمی ،ڈی ایچ کیو ہسپتال ،110 کلو میٹر شارع بینظیرکی تعمیر کے اعلانات ،سٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی تکمیل ،آزاد کشمیر میں پولیس ٹریننگ کالج کاقیام ،وادی لیپہ کی مواصلاتی رابطے کی بحالی کے لئے لیپہ ٹینل کی تعمیر،جیسے کام مکمل کئے۔

 آزادکشمیرمیں ہائیڈرل پراجیکٹس پر کام ،آزاد کشمیر کو اسلام آباد سے ملانے والی سڑکوں اور بین الاضلاعی،تحصیل ہیڈ کوارٹرز کی سڑکات کو اپ گریڈ کرنے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنا،آزاد کشمیر کے ملازمین کی تنخواہوں میںآضافہ ،پولیس میں بھرتی کے لئے دو ہزار سے زائد آسامیوں کی تخلیق،جبکہ دیگر محکموں میں نئی آسامیوں کی تخلیق،آزاد کشمیر میں ٹرانسپورٹ کو صنعت کادرجہ دینے،آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے دفاتر قائم کرنے،آزاد کشمیر کی ٹریفک پولیس کو موٹر وے پولیس کی طرز پر تمام سہولیات ومراعات کی فراہمی،انتظامی افسران کی استعداد بڑھانے کے لئے کشمیر انسٹیٹوٹ آف منیجمنٹ کا قیام ،آزاد کشمیر ہائیڈرل کے منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کااعادہ ،مظفرآبادنیو سیکرٹریٹ میں یادگار شہیداءکی تعمیر،ضلع نیلم میں آرمڈ سروسز بورڈ کا قیام ،میرپور میں سروس ٹریبونل کاقیام ،میرپور کوٹلی میں ایڈیشنل سیشن ججوں کی عدالت کاقیام ،میرپور میں محترمہ بینظیر بھٹو ہسپتال کی تعمیر،جڑی کس تا دھان گلی ڈبل روڈ ،میرپور گریٹر واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل،آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لئے اقدامات ، آزاد کشمیر بھر کی سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ محکمہ تعلیم ، برقیات ،اطلاعات ،صحت عامہ ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ،مواصلاحات ،انفامیشن ،آئی ٹی ،سماجی بہبود وترقی نسواں ،سپورٹس اینڈ کلچر ،فیزکل پلاننگ ہینڈ ہاﺅسنگ ،صنعت وتجارت ،سمال اندسٹریز ،آزاد کشمیر معدنی وصنعتی کارپوریشن ،ٹیکنکل و ووکیشنل ایجوکیشن ،شہری دفاع ،ترقیاتی ادارہ جات ،جنگلات زراعت سمیت دیگر محکموں بھی وہ اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں جس سے مفاد عامہ کے منصوبوں کی جلد تکمیل سے آزاد کشمیر تعمیروترقی کے لحاظ سے مثالی خطہ بن جائے گا۔        

مزید : کالم